پنجاب میں 20 سال پرانی گاڑیوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ

پنجاب حکومت نے فضائی آلودگی، سموگ اور بڑھتے ہوئے کاربن اخراج پر قابو پانے کیلئے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک بڑی تبدیلی کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ مجوزہ نیو انرجی وہیکل پالیسی کے تحت 20 سال سے زائد پرانی گاڑیوں کو مرحلہ وار سڑکوں سے ہٹانے، الیکٹرک گاڑیوں کو غیرمعمولی ٹیکس رعایت دینے، ہزاروں چارجنگ سٹیشن قائم کرنے اور سرکاری ٹرانسپورٹ کو مکمل طور پر برقی نظام پر منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اگر اس پالیسی کی منظوری مل جاتی ہے تو یہ پنجاب میں ٹرانسپورٹ، ماحولیات اور توانائی کے شعبوں میں حالیہ برسوں کی سب سے بڑی اصلاحات میں شمار ہوگی۔

پنجاب حکومت نے صوبے میں فضائی آلودگی اور سموگ پر قابو پانے، ایندھن پر انحصار کم کرنے اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے کیلئے اپنی پہلی نیو انرجی وہیکل (این ای وی) پالیسی کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔ اس مجوزہ پالیسی کے تحت 20 سال یا اس سے زیادہ پرانی گاڑیوں کو مرحلہ وار سڑکوں سے ہٹایا جائے گا، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کیلئے ٹیکسوں میں نمایاں رعایت اور جدید چارجنگ انفراسٹرکچر قائم کیا جائے گا۔

پالیسی کے مطابق کسی بھی گاڑی کی عمر اس کی رجسٹریشن کی تاریخ سے شمار کی جائے گی۔ ابتدا میں لاہور اور فیصل آباد جیسے بڑے شہروں میں کم اخراج والے مخصوص علاقوں میں 20 سال سے پرانی گاڑیوں کے داخلے پر مرحلہ وار پابندیاں عائد کی جائیں گی، جبکہ بعد میں اس نظام کو پورے پنجاب تک توسیع دی جائے گی۔

اس مقصد کیلئے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور محکمہ ایکسائز کے ریکارڈ کو جدید ڈیجیٹل نگرانی کے نظام سے منسلک کیا جائے گا، جس کے ذریعے گاڑیوں کی عمر، رجسٹریشن اور دیگر معلومات کی خودکار جانچ ممکن ہوگی۔ بعد ازاں سمارٹ کیمروں، نمبر پلیٹ شناختی نظام اور ڈیجیٹل رجسٹریشن ڈیٹا کی مدد سے قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔

پالیسی میں رضاکارانہ سکریپج سکیم بھی شامل ہے، جس کے تحت 20 سال سے زائد پرانی گاڑی ختم کرنے والے مالکان کو نئی الیکٹرک گاڑی خریدنے کیلئے مالی مراعات، ریبیٹ یا آسان اقساط کی سہولت دی جا سکتی ہے۔ موٹر سائیکلوں، رکشوں اور تین پہیوں والی گاڑیوں کیلئے بھی اسی نوعیت کی سکیم متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔

مجوزہ منصوبے کے مطابق 2027 تک گاڑیوں کی عمر جانچنے کا ڈیجیٹل نظام پورے پنجاب میں نافذ کیا جائے گا، جبکہ 2028 سے 2030 کے دوران کم اخراج والے شہری علاقوں میں پرانی گاڑیوں پر پابندیوں کا آغاز ہوگا۔ اس کے بعد 2031 سے 2035 کے درمیان 20 سال سے زیادہ پرانی کمرشل گاڑیوں کو پورے صوبے سے مرحلہ وار ختم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ نجی گاڑیوں کو بھی آئندہ برسوں میں اس نظام کے دائرے میں لانے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ پالیسی صرف پرانی کاروں تک محدود نہیں بلکہ پرانے ڈیزل ٹرک، بسیں، غیر منظور شدہ چنگ چی رکشے، ایل پی جی رکشے اور ٹو اسٹروک موٹرسائیکلوں کو بھی مرحلہ وار جدید ماحول دوست ٹرانسپورٹ سے تبدیل کرنے کا منصوبہ پیش کرتی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں اس وقت تقریباً دو کروڑ پینتالیس لاکھ رجسٹرڈ گاڑیاں موجود ہیں، جن میں سب سے زیادہ تعداد موٹرسائیکلوں کی ہے، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کا تناسب اب بھی نہایت محدود ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ٹرانسپورٹ کا شعبہ صوبے کی شہری فضائی آلودگی میں تقریباً 39 فیصد حصہ ڈال رہا ہے، جبکہ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور ملتان جیسے شہروں میں سموگ کے موسم میں فضائی آلودگی خطرناک سطح تک پہنچ جاتی ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کیلئے مجوزہ پالیسی میں رجسٹریشن فیس، ٹوکن ٹیکس اور روٹ پرمٹ فیس میں پہلے تین سال تک 95 فیصد رعایت دینے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ اس کے بعد 2035 تک 50 فیصد رعایت برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔ کم آمدنی والے افراد کیلئے الیکٹرک موٹرسائیکل اور رکشے خریدنے پر خصوصی سبسڈی اور آسان قرضوں کی سہولت بھی متوقع ہے۔

چارجنگ انفراسٹرکچر کی توسیع بھی اس منصوبے کا اہم حصہ ہے۔ حکومت موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر ابتدائی مرحلے میں 40 فاسٹ چارجنگ سٹیشن قائم کرے گی، جبکہ 2035 تک صوبے بھر میں تین ہزار سے زائد چارجنگ پوائنٹس اور شمسی توانائی سے منسلک چارجنگ ہب قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بیٹری سواپنگ سٹیشن، نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں، بیٹریوں اور متعلقہ آلات کی صنعت کے فروغ پر بھی زور دیا گیا ہے۔

مجوزہ پالیسی کے مطابق 2030 تک تمام سرکاری اداروں کی نئی گاڑیوں کی خریداری کو مرحلہ وار الیکٹرک یا کم اخراج والی ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جائے گا، جبکہ ریسکیو 1122 اور دیگر ہنگامی اداروں کو الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق حادثات، بیٹری میں آگ لگنے اور دیگر تکنیکی خطرات سے نمٹنے کیلئے خصوصی تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ پالیسی مؤثر انداز میں نافذ ہو جاتی ہے تو پنجاب میں فضائی آلودگی اور ایندھن کے استعمال میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار چارجنگ انفراسٹرکچر، عوامی اعتماد، مالی مراعات اور مرحلہ وار عمل درآمد پر ہوگا۔

Back to top button