ایران سے پنگے بازی امریکا کو مہنگی پڑنے لگی، فوجی خزانہ خالی ہونا شروع

ایران کے ساتھ جاری جنگ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی بلکہ امریکا کی معاشی اور دفاعی صلاحیت کیلئے بھی بڑا امتحان بنتی جا رہی ہے۔ مسلسل فوجی کارروائیوں، جدید میزائلوں کے وسیع استعمال اور خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی نے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کو شدید مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ وائٹ ہاؤس نے کانگریس سے پہلے 67 ارب ڈالر کے ہنگامی دفاعی فنڈ اور بعد ازاں مزید 87 ارب ڈالر کی اضافی منظوری طلب کر لی ہے، جبکہ جنگی اخراجات، اسلحہ ذخائر میں کمی اور بڑھتے ہوئے قومی قرض نے امریکی پالیسی سازوں کو نئی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔

ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں نے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کو غیرمعمولی مالی دباؤ کا شکار بنا دیا ہے۔ مسلسل فضائی حملوں، بحری کارروائیوں اور جدید ہتھیاروں کے استعمال کے باعث جنگی اخراجات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جبکہ امریکی فوج کے کئی اہم آپریشنل فنڈز آئندہ چند ہفتوں میں ختم ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق جنگ بندی کے خاتمے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں شدت آنے کے بعد وائٹ ہاؤس نے کانگریس سے 67 ارب ڈالر کے ہنگامی دفاعی فنڈ کی منظوری طلب کی، تاکہ جنگی اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ تاہم ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ارکان کے درمیان اختلافات کے باعث اس درخواست پر تاحال اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا۔بعد ازاں ٹرمپ انتظامیہ نے جنگ کے اگلے مرحلے اور دفاعی ضروریات کیلئے مزید 87 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز کی بھی درخواست کر دی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگ کے مالی اثرات ابتدائی تخمینوں سے کہیں زیادہ بڑھ چکے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکی ایوانِ نمائندگان کی تعطیلات بھی اضافی دفاعی بجٹ کی منظوری میں تاخیر کا باعث بن سکتی ہیں، جبکہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو بھی کانگریس میں ارکان کے سخت سوالات کا سامنا ہے۔سابق امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ مالی دباؤ کے باعث پینٹاگون نے متعدد فوجی مشقیں، تربیتی پروگرام اور دیگر سرگرمیاں محدود یا منسوخ کر دی ہیں، جبکہ جاری جنگی کارروائیوں کیلئے دوسرے منصوبوں کے بجٹ سے رقوم منتقل کی جا رہی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق امریکی بحریہ اور فضائیہ کے جاری آپریشنز کیلئے مختص بجٹ رواں ماہ کے اختتام تک ختم ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ ایران کے خلاف کارروائیوں کیلئے بڑی تعداد میں جنگی بحری بیڑے، بمبار طیارے، لڑاکا جہاز اور جدید دفاعی نظام مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل تعینات ہیں۔اسی تناظر میں پینٹاگون نے کانگریس سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ 4.3 ارب ڈالر تربیتی پروگراموں اور نئے ہتھیاروں کی خریداری سے منتقل کرکے فوری جنگی ضروریات پر خرچ کرنے کی اجازت دی جائے، تاہم اس تجویز پر بھی تاحال کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

وائٹ ہاؤس کے بجٹ ڈائریکٹر رسل ووٹ کے مطابق ایران جنگ پر اب تک تقریباً 30 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سینیٹ کی بجٹ کمیٹی کو بتایا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک یہ اخراجات 37.5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ دوسری جانب آزاد دفاعی تجزیہ کاروں کا مؤقف ہے کہ اصل لاگت اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ ان تخمینوں میں ایران کے حملوں سے امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان، ان کی مرمت اور دوبارہ تعمیر کے اخراجات شامل نہیں۔

کانگریس کے متعدد ارکان نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ ایران کے خلاف مسلسل حملوں میں ہزاروں جدید میزائل، گائیڈڈ بم اور دیگر مہنگے ہتھیار استعمال ہونے سے امریکی اسلحہ ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ ڈیموکریٹ رکن کانگریس بیٹی میک کولم نے مطالبہ کیا کہ قانون سازوں کو واضح طور پر بتایا جائے کہ پینٹاگون کون سے ہتھیار خریدنا چاہتا ہے اور کیوں، تاکہ اضافی دفاعی بجٹ کی منظوری ذمہ داری کے ساتھ دی جا سکے۔اگرچہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اس سے قبل یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکی اسلحہ ذخائر مضبوط ہیں اور مسلسل بڑھ رہے ہیں، تاہم مختلف رپورٹس کے مطابق پینٹاگون کے اندرونی حلقوں میں اس صورتحال پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ امریکا کا موجودہ سالانہ دفاعی بجٹ تقریباً ایک ٹریلین ڈالر ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے مالی سال 2027 کیلئے 1.5 ٹریلین ڈالر کے ریکارڈ دفاعی بجٹ کی درخواست بھی کر رکھی ہے۔ تاہم اس تجویز کو بھی کانگریس میں سخت مخالفت کا سامنا ہے، کیونکہ کئی ارکان کا مؤقف ہے کہ 39 ٹریلین ڈالر سے زائد قومی قرض کے باوجود دفاعی اخراجات میں مزید غیرمعمولی اضافہ مالی طور پر دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا، خصوصاً ایسی جنگ کیلئے جس کی عوامی حمایت مسلسل کم ہو رہی ہے۔حالیہ سروے کے مطابق صرف 28 فیصد امریکی شہری ایران کے خلاف جنگ کو درست قرار دیتے ہیں، جبکہ 68 فیصد اسے غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ شرح افغانستان جنگ کے آخری برسوں میں عوامی مخالفت کے برابر سمجھی جا رہی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنگ کے معاشی، عسکری اور سیاسی اثرات اب امریکی داخلی سیاست پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔

Back to top button