ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کا اصل مقصد کیا تھا؟

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال اور خطے میں مکمل جنگ کے خدشات کے درمیان ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کا دورۂ اسلام آباد غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اگرچہ اس دورے کا باضابطہ ایجنڈا دوطرفہ تجارت، سرحدی سلامتی اور سکیورٹی تعاون ہے، تاہم سفارتی حلقے اسے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی کوششوں کی بحالی، علاقائی استحکام اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار سے جوڑ رہے ہیں۔ اس دورے نے ایک بار پھر یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، مذاکرات اور توازن کی پالیسی کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
خیال رہے کہ ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کا حالیہ دورۂ اسلام آباد ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے اور ایران و امریکا کے درمیان تعلقات انتہائی نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ بظاہر اس دورے کا مقصد پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات، سرحدی سلامتی، سکیورٹی تعاون اور تجارتی روابط کو فروغ دینا ہے، تاہم سیاسی و سفارتی مبصرین اس کی ٹائمنگ کو غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں اور اسے خطے میں امن کی بحالی کیلئے جاری سفارتی کوششوں کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ دورے کے آغاز پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی ہم منصب کا استقبال کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ "اچھی خبر” لے کر آئے ہیں۔ اس بیان کو سفارتی حلقوں نے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات یا جنگ بندی کی کوششوں کے تناظر میں خاصا اہم قرار دیا۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعاون، سرحدی سلامتی، انسداد دہشت گردی، علاقائی استحکام اور اقتصادی روابط پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہوئیں جب پاکستان دوست ممالک کے تعاون سے ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں کی بحالی اور مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے پس پردہ سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔ذرائع کے مطابق ایران نے بھی ثالثی کی مختلف تجاویز پر غور کرنے اور سفارتکاری کے راستے کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ پاکستان اس عمل کے مثبت نتائج کے حوالے سے پُرامید دکھائی دیتا ہے۔
مبصرین کے مطابق دورے کا ایک اہم پہلو پاک ایران اقتصادی تعاون بھی رہا۔ دونوں ممالک نے باہمی تجارت کو موجودہ تقریباً تین ارب ڈالر سے بڑھا کر دس ارب ڈالر تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس مقصد کیلئے سرحدی تجارت میں وسعت، روزانہ ہزاروں تجارتی ٹرکوں کی آمدورفت، کسٹمز سہولیات میں بہتری اور سرحدی انفراسٹرکچر کی ترقی پر بھی بات چیت کی گئی۔پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً سات سو کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد موجود ہے، جو زمینی تجارت، توانائی کے منصوبوں اور علاقائی رابطوں کیلئے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ ایران توانائی کے وسیع ذخائر رکھتا ہے جبکہ پاکستان کو گیس، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق اس شعبے میں تعاون دونوں ممالک کیلئے معاشی فوائد کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ بلوچستان اور ایرانی سرحدی علاقوں میں روزگار اور کاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران پاکستانی قیادت نے ایرانی وزیر داخلہ کو سعودی عرب کے حوالے سے بھی اپنے مؤقف اور ترجیحات سے آگاہ کیا۔ پاکستانی حکام نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں اور دونوں ممالک خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
سفارتی ماہرین کے مطابق امریکا بھی اس دورے کو اس تناظر میں دیکھ رہا ہوگا کہ پاکستان ایران کے ساتھ تعلقات کو کس حد تک امریکا، خلیجی ممالک اور چین کے ساتھ اپنے وسیع تر سفارتی توازن کے مطابق آگے بڑھاتا ہے۔ اگر پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد سازی یا مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سفارتکاری میں بھی ایک اہم پیش رفت تصور کی جا سکتی ہے۔ ماہرین کے بقول مجموعی طور پر ایرانی وزیر داخلہ کا دورۂ اسلام آباد صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں بلکہ اسے مشرقِ وسطیٰ میں امن، علاقائی استحکام، اقتصادی تعاون اور پاکستان کی فعال سفارتکاری کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
