’ایکس‘ صارفین خبردار! صرف ایک کلک سے اکاؤنٹ ہیک ہو سکتا ہے

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کے صارفین کو نشانہ بنانے کے لیے ہیکرز نے فِشنگ حملوں کا ایک نیا طریقہ اختیار کر لیا ہے۔ ہیکرز جعلی لاگ اِن الرٹ ای میلز بھیج کر صارفین کو دھوکہ دیتے ہیں اور انہیں ایسے لنکس پر کلک کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جہاں ان کا پاس ورڈ، ون ٹائم کوڈ یا دیگر حساس معلومات چرا لی جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ای میلز دیکھنے میں اصل نوٹیفکیشن جیسی لگتی ہیں، تاہم چند اہم نشانیاں ان کی حقیقت آشکار کر دیتی ہیں۔ ایسے میں صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر مشکوک ای میل سے محتاط رہیں اور اپنی آن لائن سکیورٹی کو مزید مضبوط بنائیں۔


ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کے صارفین کے خلاف سائبر حملوں میں ایک نئی لہر سامنے آئی ہے، جس میں ہیکرز جعلی لاگ اِن الرٹ ای میلز کے ذریعے صارفین کے اکاؤنٹس پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ کے مطابق اس مہم کا مقصد صارفین کو خوفزدہ کر کے انہیں ایسے جعلی لنکس پر کلک کروانا ہے جہاں ان کی حساس معلومات حاصل کی جا سکیں۔

یہ جعلی ای میلز بظاہر ایسے محسوس ہوتی ہیں جیسے انہیں خود ’ایکس‘ کی جانب سے بھیجا گیا ہو۔ ان میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ صارف کے اکاؤنٹ میں کسی نئے ڈیوائس یا نامعلوم مقام سے لاگ اِن کیا گیا ہے، پھر سوال پوچھا جاتا ہے کہ آیا یہ لاگ اِن خود صارف نے کیا ہے یا نہیں۔ اگر صارف نفی میں جواب دینے کے لیے دیے گئے لنک پر کلک کرتا ہے تو وہ ایک جعلی ویب سائٹ پر پہنچ جاتا ہے، جہاں اس سے پاس ورڈ، ون ٹائم کوڈ یا دیگر معلومات حاصل کر لی جاتی ہیں۔

سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق بعض اوقات ہیکرز صارف کو ایسی ایپلیکیشن کی اجازت دینے پر بھی آمادہ کر لیتے ہیں جو براہِ راست اس کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔ اس طرح حملہ آور نہ صرف اکاؤنٹ پر قبضہ کرتے ہیں بلکہ بعد ازاں اسے کرپٹو کرنسی فراڈ، فِشنگ حملوں، جعلی معلومات پھیلانے اور دیگر سائبر جرائم کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔

سائبر سکیورٹی کمپنی ای سیٹ کے مشیر جیک مور کے مطابق ان جعلی ای میلز کو اس قدر مہارت سے تیار کیا جاتا ہے کہ ان میں ’ایکس‘ کا لوگو، رنگ، ڈیزائن اور زبان تک اصل نوٹیفکیشن سے کافی حد تک ملتی جلتی ہوتی ہے، جس کے باعث عام صارف کے لیے اصلی اور جعلی ای میل میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چند نشانیاں ایسی ہیں جن سے جعلی ای میل کو پہچانا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ای میل میں صارف کا اصل ایکس ہینڈل درج نہیں ہوتا، لاگ اِن کی لوکیشن واضح نہیں ہوتی اور ای میل ایسے ڈومین سے بھیجی جاتی ہے جو ایکس کے سرکاری ڈومین سے مختلف ہوتا ہے۔

کمپنی نے واضح کیا ہے کہ وہ صرف @x.com یا @e.x.com ڈومین سے ای میل بھیجتی ہے اور کبھی بھی ای میل کے ذریعے صارف سے پاس ورڈ یا ون ٹائم کوڈ طلب نہیں کرتی۔ ماہرین صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ اگر ایسی کوئی مشکوک ای میل موصول ہو تو اس میں موجود کسی بھی لنک پر کلک نہ کریں۔ اگر اکاؤنٹ کی سکیورٹی کے بارے میں خدشہ ہو تو براہِ راست ایکس کی ایپ یا آفیشل ویب سائٹ پر جا کر اپنے اکاؤنٹ میں لاگ اِن کریں اور وہاں موجود نوٹیفکیشنز چیک کریں۔اگر کسی صارف نے غلطی سے جعلی ویب سائٹ پر اپنا پاس ورڈ یا ون ٹائم کوڈ درج کر دیا ہو تو فوری طور پر پاس ورڈ تبدیل کرے، ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن فعال کرے، اکاؤنٹ کی سکیورٹی سیٹنگز کا جائزہ لے اور ضرورت پڑنے پر ایکس کی آفیشل ہیلپ سروس سے رابطہ کرے تاکہ اکاؤنٹ کو محفوظ بنایا جا سکے۔

Back to top button