ایران سے کشیدگی، جنگی ذخائر خطرے میں،امریکا کو میزائلوں کی قلت کا سامنا

ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن کے اقتدار کے ایوانوں میں ایک ایسا خاموش بحران جنم لے رہا ہے جو مستقبل کی امریکی جنگی حکمت عملی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ امریکی محکمۂ دفاع پر وائٹ ہاؤس سے میزائلوں کی اصل کمی چھپانے کے الزامات لگ رہے ہیں، جبکہ ایران کے خلاف ممکنہ نئی کارروائی کے دباؤ کے باوجود امریکا کے اہم دفاعی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صورتحال نہ صرف امریکی فوجی صلاحیت بلکہ عالمی سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن پر بھی دور رس اثرات ڈال سکتی ہے۔

مبصرین کے مطابق واشنگٹن میں طاقت کے مراکز کے اندر ایک خاموش مگر تشویشناک بحران نے جنم لیا ہے، جہاں امریکی محکمۂ دفاع پر یہ سنگین الزام سامنے آیا ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس کو میزائلوں اور دیگر اہم جنگی ہتھیاروں کے ذخائر کی حقیقی صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ نہیں کر رہا۔ امریکی ذرائع کے مطابق یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں پر غور جاری ہے اور امریکی قیادت شدید دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔

برطانوی اخبار ٹیلی گراف اور امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کی رپورٹس کے مطابق تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران کے خلاف سخت ردعمل دینے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ تاہم اس دوران یہ خدشات بھی سامنے آئے ہیں کہ امریکا کے پاس انٹرسیپٹر، ٹوماہاک اور تھاڈ جیسے اہم میزائلوں کے ذخائر توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے کم ہو رہے ہیں، جو کسی بھی طویل یا وسیع جنگ کیلئے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ کے اندر بعض حلقوں کا خیال ہے کہ پینٹاگون کی اعلیٰ قیادت میزائلوں کی قلت کی مکمل تفصیلات صدر اور کانگریس تک نہیں پہنچا رہی، جبکہ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وائٹ ہاؤس بھی اس حساس معاملے کی مکمل حقیقت جاننے میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہا۔ امریکی عہدیداروں کے مطابق داخلی سطح پر معلومات محدود رکھنے کی یہی پالیسی اب خود امریکی وزیر دفاع کیلئے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق مارچ میں رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ امریکا اور اس کے اتحادی جنگ کے ابتدائی سولہ دنوں میں گیارہ ہزار سے زائد ہتھیار استعمال کر چکے تھے، جبکہ یہ بھی پیش گوئی کی گئی تھی کہ اگر اسی رفتار سے جنگ جاری رہی تو کئی اہم جنگی ذخائر ایک ماہ کے اندر خطرناک حد تک کم ہو سکتے ہیں۔

ادھر مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمیاں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق برطانیہ اور جرمنی میں قائم امریکی اڈوں سے ایف-35 اور ایف-16 لڑاکا طیارے خطے کی جانب روانہ کیے جا چکے ہیں، جبکہ فضائی ایندھن فراہم کرنے والے طیاروں کی تعیناتی بھی جاری ہے۔ ابتدا میں امریکی کارروائیاں ساحلی اہداف تک محدود تھیں، لیکن جنگ بندی کے خاتمے کے بعد حملوں کا دائرہ ایران کے اندرونی علاقوں تک وسیع ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کے اندر یہ سوچ زور پکڑ رہی ہے کہ آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کیلئے مکمل طور پر کھلوانے کیلئے مزید وسیع فوجی کارروائی ناگزیر ہو سکتی ہے، جبکہ ایران پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ وہ مکمل جنگی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر امریکا کے میزائل ذخائر کی کمی کی اطلاعات درست ہیں تو اس سے نہ صرف ایران کے خلاف جنگ کو وسعت دینے کی امریکی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں تعینات امریکی فوجیوں کے خطرات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، اطلاعات ہیں کہ ٹوماہاک میزائلوں کے ذخائر کو مکمل بحال ہونے میں 2031 تک جبکہ تھاڈ دفاعی میزائلوں کے ذخائر کو 2029 تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

امریکی عہدیداروں کے مطابق امریکا بظاہر ایک وسیع جنگی منظرنامے کی تیاری کر رہا ہے، لیکن دفاعی میزائلوں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی کمی اس حکمت عملی کیلئے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ ایک امریکی اہلکار نے اعتراف کیا کہ موجودہ ذخائر کے ساتھ طویل عرصے تک محفوظ انداز میں جنگ جاری رکھنا آسان نہیں، جبکہ ان کے بقول وائٹ ہاؤس کو بھی شاید اس صورتحال کی مکمل سنگینی کا اندازہ نہیں۔

Back to top button