"کاکروچ جنتا پارٹی”بھارتی نوجوانوں کی بغاوت، مودی سرکار خطرے میں

بھارت میں "کاکروچ جنتا پارٹی” کے پلیٹ فارم سے نوجوانوں کی قیادت میں ابھرنے والی احتجاجی تحریک وزیراعظم نریندر مودی کی تیسری حکومت کیلئے ایک بڑا سیاسی امتحان بن چکی ہے۔ امتحانی سکینڈلز، بے روزگاری، تعلیمی نظام پر عدم اعتماد اور حکومتی احتساب کے مطالبات نے جنریشن زی کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے، جبکہ پارلیمنٹ کی جانب مارچ، مظاہروں، جھڑپوں اور سکیورٹی اقدامات نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر یہ تحریک اسی شدت سے جاری رہی تو یہ صرف تعلیمی مسائل تک محدود نہیں رہے گی بلکہ بھارتی سیاست کے آئندہ رخ پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں جاری احتجاجی تحریک تیزی سے ایک بڑے سیاسی چیلنج کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، جہاں وزیراعظم نریندر مودی کی تیسری حکومت کو بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کا سامنا ہے۔ ابتدائی طور پر امتحانی اسکینڈلز اور تعلیمی بے ضابطگیوں کے خلاف شروع ہونے والی یہ تحریک اب بے روزگاری، حکومتی احتساب اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق وسیع مطالبات تک پہنچ چکی ہے۔
اطلاعات کے مطابق نوجوانوں کی نمائندہ تنظیم "کاکروچ جنتا پارٹی” کے پلیٹ فارم سے شروع ہونے والی یہ مہم ابتدا میں ایک طنزیہ آن لائن مہم تھی، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے یہ ملک گیر احتجاجی تحریک میں تبدیل ہوگئی۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کا فقدان، روزگار کے محدود مواقع اور حکومتی پالیسیوں نے ان کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس احتجاج کو وزیراعظم مودی کی تیسری مدتِ حکومت میں اب تک کا سب سے بڑا عوامی دباؤ قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ نوجوان طبقے کی ناراضی صرف ایک امتحانی اسکینڈل تک محدود نہیں بلکہ یہ بھارت میں معاشی، تعلیمی اور انتظامی مسائل پر بڑھتے ہوئے عدم اطمینان کی علامت بن چکی ہے۔
پارلیمنٹ کی جانب احتجاجی مارچ کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئیں، جن کے نتیجے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 180 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں 118 پولیس اہلکار اور 60 مظاہرین شامل ہیں، جبکہ صورتحال پر قابو پانے کیلئے حساس علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ بھی معطل کر دیا گیا۔
احتجاج کرنے والے نوجوانوں کا بنیادی مطالبہ وزیر تعلیم کے استعفے، امتحانی نظام میں شفاف اصلاحات اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر تعلیمی نظام پر عوام کا اعتماد بحال نہ کیا گیا تو لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل مزید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
ادھر معروف سماجی کارکن سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال اور ان کی مبینہ جبری منتقلی نے بھی احتجاجی تحریک کو نئی تقویت دی ہے۔ کئی حلقوں کا خیال ہے کہ ان واقعات نے نوجوانوں میں پہلے سے موجود بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے باعث احتجاج کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت میں نوجوان آبادی ملک کی سب سے بڑی سماجی قوت سمجھی جاتی ہے، اور اگر یہی طبقہ حکومتی پالیسیوں سے مسلسل نالاں رہا تو اس کے اثرات نہ صرف آئندہ انتخابات بلکہ مودی حکومت کی سیاسی حکمت عملی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ موجودہ احتجاج حکومت کیلئے کتنا بڑا سیاسی بحران ثابت ہوگا، کیونکہ اس کا انحصار آنے والے دنوں میں حکومتی ردعمل، مذاکرات اور عوامی حمایت پر ہوگا۔
