کراچی، طالبہ قتل کیس کے ملزم کو 27 سال قید کی سزا

انسداد دہشت گردی عدالت نے کراچی میں رواں برس پولیس مقابلے میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان ہونے والی فائرنگ کی زد میں آ کر جاں بحق ہونے والی طالبہ نمرہ بیگ کے قتل میں ایک ڈکیت کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے 27 سال قید اور ایک لاکھ 80 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنادی ہے۔
یاد رہے کہ 20 سالہ نمرہ بیک ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں فائنل ایئر کی طالبہ تھیں اور 22 فروری 2019 کو نارتھ کراچی کے علاقے انڈا موڑ میں سر سید تھانے کی حدود میں پولیس مقابلے کے دوران گولی لگنے سے جاں بحق ہوگئی تھیں۔ جس کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے میڈیکل کی طالبہ کے جاں بحق ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو نمرا کے انتقال کی وجوہات کی تفتیش کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق اس روز پولیس کانسٹیبل عدنان اور دیگر نے دو مشتبہ موٹر سائیکل سواروں کا تعاقب کر رہے تھے کہ انہوں نے انڈا موڑ میں پولیس پر فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں راہگیر لڑکی (نمرہ بیگ) کو ایک گولی لگی اور وہ ہسپتال میں دوران علاج دم توڑ گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ مقابلے میں ایک ملزم ریاض مارا گیا تھا جبکہ اس کا ساتھی محمد جمعہ کو گرفتار کر لیا گیا تھا جس پر کئی مقدمات درج کیے گئے۔ملزمان کے خلاف سر سید پولیس اسٹیشن میں پولیس مقابلے، قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی کے الزامات پر تعزیرات پاکستان کی دفعات 353، 324 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ۔ ڈکیتوں کے حوالے سے پولیس عہدیدار نے کہا تھا کہ دونوں مشتبہ افراد کا تعلق پنجاب کے ضلع رحیم یار خان سے تھا۔
واضح رہے کہ پولیس نے ابتدائی طور پر ہی دعویٰ کیا تھا کہ طالبہ کو لگنے والی گولی ڈکیتوں کی جانب سے چلائی گئی تھی ۔
اب انسداد دہشت گردی عدالت نے مذکورہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پولیس مقابلے میں ملوث ایک ڈکیت کو 27 سال قید اور ایک لاکھ 80 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنادی ہےجبکہ جرمانے کی عدم ادائیگی پر اضافی سزا دی جائے گی۔
