کراچی بارشیں: شہری ’اربن فلڈنگ‘ سے بچنے کےلیے کیا کریں؟

شہر کراچی میں پیر کو ایک مرتبہ پھر مون سون کی بارشیں جم کر برسیں جس کے باعث کم از کم دو افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع سامنے آئی۔
مون سون بارشوں کا تازہ ترین سلسلہ 24 اگست سے شروع ہوا ہے اور یہ کل 26 اگست تک جاری رہے گا اور اس دوران محکمہ موسمیات نے اربن فلڈنگ کی بھی وارننگ جاری کی ہے۔ تاہم کراچی کے کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں پر ابھی تک 21 اگست کو ہونے والی بارشوں کا پانی ہی نہیں نکل پایا ہے جس کی وجہ سے شہریوں میں تشویش ہے کہ کہیں حالیہ بارشیں ان کےلیے مزید پریشانی نہ لے کر آئیں۔
سرجانی ٹاون کراچی کے رہائشی بابو ارشاد کا کہنا تھا کہ 21 اگست کو ہونے والی بارشوں کا پانی ابھی بھی کھڑا ہے اور ان کے گھر کا تقریباً سارا سامان اور فرنیچر تباہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بال بچوں کے ہمراہ گھر کی چھت پر دن رات گزارنے پر مجبور ہیں اور گھر رہائش کے قابل ہی نہیں رہا ہے۔ بابو ارشاد کا کہنا تھا کہ سرجانی ٹاؤن کے علاقوں میں چھ چھ فٹ پانی تھا جو اب تو کم ہوگیا ہے مگر ابھی تک پانی، بجلی اور گیس بحال نہیں ہوئی ہے۔ علاقے کے کئی گھر اس وقت رہائش کے قابل نہیں رہے ہیں۔ 21 اگست کی رات میرے بال بچوں اور علاقے کے کئی خاندانوں نے بھوکی گزاری تھی۔ صبح کے وقت ایدھی، الخدمت اور چھپیا کے رضاکاروں نے کھانے پینے کا کچھ سامان فراہم کیا تھا۔ گیس نہ ہونے کی وجہ سے ابھی بھی ہم اور علاقے کے کئی خاندان گھریلو زندگی دوبارہ نہیں شروع کر پائے ہیں۔
محکمہ موسمیات کراچی کے مطابق 21 اگست کی بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال ’اربن فلڈنگ‘ تھی جبکہ پیر سے بدھ کے دوران ہونے والی بارشوں میں بھی اربن فلڈنگ کا خدشہ موجود ہے۔
حکومت سندھ کے مطابق ان بارشوں سے کراچی کے کئی علاقے جن میں تیسر ٹاؤن، لیاری ایکسپریس وے ریسیٹلمنٹ سوسائٹی، روزی گوٹھ، خدا کی بستی، عرض محمد گوٹھ اور ان علاقوں سے ملحق کئی علاقے اربن فلڈنگ کا شکار رہے تھے جہاں پر ابھی بھی زندگی مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی ہے۔
محکمہ موسمیات کراچی کے ڈائریکٹر سردار سرفراز کے مطابق یہ صورت حال شدید بارشوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کراچی میں اگست کے ماہ میں 30 سال کے دوران اوسط بارش 61 ملی میٹر تھی جب کہ اس سال اگست میں بارشوں کے گزشتہ تین سلسلوں کے دوران 61 ملی میٹر سے زائد بارشیں ہوچکی ہیں۔ سردار سرفراز کے مطابق کراچی میں بارشوں کا چوتھا سلسلہ 24 اگست کی شام سے شروع ہوچکا ہے اور یہ تین چار روز جاری رہنے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں خدشہ ہے کہ بارشوں کا یہ سلسلہ گزشتہ تین بارشوں کے سلسلہ سے زیادہ شدید ہوسکتا ہے، جس وجہ سے اربن فلڈنگ جیسی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق اس میں شاید پورا کراچی ہی متاثر ہو مگر نشیبی علاقے اولڈ سٹی ایریاز، صدر وغیرہ کے علاقوں کے متاثر ہونے کا امکان زیادہ ہے۔
سردار سرفراز کا کہنا تھا کہ 21 اگست کو سرجانی ٹاؤن اور اردگرد کے علاقوں میں تو 106 ملی میٹر بارش ہوئی، مگر کراچی کے کچھ علاقے ایسے تھے جہاں پر 32 ملی میٹر تک بارش ہوئی ہے اور وہاں پر بھی صورت حال سنگین ہوگئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں کچھ علاقوں میں آدھے گھنٹے کے دوران 50 ملی میٹر بارش ہوئی تھی۔ ان کے مطابق کم وقت میں زیادہ بارش ہونے سے بھی حالات گھمبیر ہوجاتے ہیں۔ اربن فلڈنگ کی بنیادی وجہ پانی کو نکاسی کےلیے راستہ نہ ملنا اور کوڑے کرکٹ کو ٹھکانے نہ لگانا ہے۔ ابھی تک بارشوں کے گزشتہ تین سلسلوں کا پانی بھی پوری طرح نکلا نہیں ہے اور اس وجہ سے بھی اس چوتھے سلسلے سے اربن فلڈنگ کا زیادہ خدشہ ہے۔
ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) پاکستان کے ٹیکنیکل ایڈوائزر معظم خان کے مطابق کراچی ایک ایسا شہر ہے جو بغیر کسی منصوبہ بندی کے بڑھتا چلا گیا، جس میں شاید زیادہ عمل دخل تاریخی حالات اور واقعات کا ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے اس شہر کی آبادی 12 سے 13 لاکھ تھی مگر جب برصغیر تقسیم ہوا تو یک دم ہی اس شہر میں تقریباً مزید 30 لاکھ لوگ آبسے۔ 1971 میں بنگلہ دیش قائم ہوا تو ایک بار پھر بڑی تعداد میں لوگوں نے اسی شہر کا رخ کیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران خیبر پختونخواہ کے قبائلی علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ کراچی پہنچ گئے، جب کہ اس کے ساتھ پورے پاکستان سے لوگ روزگار کےلیے تقریباً روزانہ ہی کراچی منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف چند سال کے دوران اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی منتقلی کے بعد آبادی نے بڑھنا ہی ہے اور جن حالات میں ایک سے زائد مرتبہ جو منتقلیاں ہوئیں اس میں منصوبہ بندی ممکن ہی نہیں تھی، جس کے بعد یہ شہر کنکریٹ کا جنگل بنتا چلا گیا ہے۔
کراچی میں 500 سے زائد برساتی نالے ہیں جو بحیرہ عرب میں جا گرتے ہیں مگر معظم خان کے مطابق آبادی بڑھنے کے باعث کراچی کی ندی نالیوں پر بھی آبادیاں قائم ہوگئیں۔ اب نہ تو کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کا مؤثر انتظام ہے نہ نکاسی آپ کی کا کوئی انتظام ہے۔ جس وجہ سے اب اگر کراچی میں معمول کی بارشیں بھی ہوں گی تو صورتحال نارمل نہیں رہے گی، مگر اب تو معمول سے زائد بارشیں ہو رہی ہیں۔ اس صورت حال کے باعث کراچی میں اربن فلڈنگ اور اس کے نقصانات کا خدشہ پہلے سے زیادہ ہوچکا ہے۔ معظم خان کا کہنا تھا کہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ کراچی شہر کا ماسٹر پلان دوبارہ بنایا جائے، جس میں اس شہر کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے۔ یہ ایک طویل مدتی کام ہے جب کہ فوری طور پر کرنے کا کام یہ ہے کہ تمام ندی نالوں پر سے تجاوزات ختم کی جائیں۔ یہ فوری کرنے کا کام ہے۔
سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب ایڈووکیٹ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ 21 اگست کی بارشوں سے ابھی بھی کچھ علاقوں میں مسائل موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بارشوں کا نیا سلسلہ 24 اگست کی شام سے شروع ہوا تھا جس کے بعد کچھ علاقوں میں پانی اکھٹا ہوا ہے۔ مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ اور وہ خود اس وقت کراچی شہر کی سڑکوں پر موجود ہیں۔ ہماری تمام شہری انتظامیہ، واٹر بورڈ، بلدیہ اور دیگر محکمے مستعد ہیں اور بارش کے بعد پانی نکالنے کے انتظامات مکمل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپتالوں کو بھی الرٹ کیا گیا ہے جب کہ ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کے وفاقی اور صوبائی محکمے بھی الرٹ ہوچکے ہیں، لوگوں کو جس بھی مقام پر مدد کی ضرورت ہو، وہ اپنے علاقے کے ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں اطلاع فراہم کریں۔
مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ اربن فلڈنگ ایک حقیقت ہے اور اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ میں شہر کا دورہ کر رہا تھا تو اس بارش کے دوران دیکھا کہ لوگ موٹر سائیکلوں پر اپنے خاندانوں کے ہمراہ سفر کر رہے ہیں، شہریوں کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
بجلی کا کرنٹ لگنے سے اموات ہوئی ہیں اس لیے شہریوں کو بجلی کی تاروں اور کھمبوں سے بچنا چاہیے
گھروں میں بجلی کی ناقص وائرنگ بھی حادثات کا سبب بن سکتی ہے
شہریوں کو چاہیے کہ وہ گھروں پر مناسب مقدار میں کھانے پینے کا سامان محفوظ مقام پر رکھیں
گلی محلوں میں بارش کا پانی اکھٹا ہوتا ہے، تو اس وقت لوگ چلتے ہوئے، یا گاڑی یا موٹر سائیکل پر سواری کرتے ہوئے زیادہ ترکسی گڑھے میں گر کر حادثات کے شکار ہوتے ہیں، اس لیے بلاضرورت باہر نہ نکلیں
تیز بہتے ہوئے پانی میں کچرا اور ملبہ بھی آ رہا ہوتا ہے، جس میں ٹھوس اور تیز دھار اشیاء بھی ہو سکتی ہے، ان سے بھی ٹکرانا انسانی زندگی کے لیئے خطرناک ہوتا ہے
بارشوں کے دوران بڑے بھی باہر نکلنے میں احتیاط کریں مگر خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کو بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے
محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون ہوائیں شدت کے ساتھ ملک میں داخل ہو رہی ہیں جو پیر سے جمعرات تک ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کی وجہ بنے گا۔ محکمے کے مطابق پیر سے بدھ کے دوران کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، شہید بینظیرآباد، دادو، تھرپارکر، نگرپارکر، میرپورخاص، اسلام کوٹ، عمر کوٹ، سانگھڑ، سکھر اور لاڑکانہ میں، جب کہ پیر سے منگل تک بلوچستان میں قلات، لسبیلہ، خضدار، آواران، بارکھان، ژوب، موسیٰ خیل، لورالائی، کوہلو اور سبی میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق منگل سے جمعرات کے دوران اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا، اور گلگت بلتستان میں بھی بیشتر مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مندرجہ ذیل علاقوں میں حالیہ مون سون بارشوں کی وجہ سے خطرات موجود ہیں:
محکمہ موسمیات کے مطابق اس وقت پاکستان کے تمام بڑے دریاؤں میں نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے، جو کہ خطرے سے باہر ہے تاہم ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے پہاڑوں اور ندی نالوں میں درمیانے درجے کے طغیانی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 26 سے 28 اگست دریائے کابل، جہلم، چناب اور راوی کے بالائی علاقوں میں بارشوں سے دریاؤں کا بہاؤ تیز ہوسکتا ہے۔
