کراچی میں پی ٹی آئی ایم کیو ایم کی متبادل کیوں بننے لگی؟

سینئیر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے سیاسی تناظر میں 16 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی الیکشن میں ایک بات واضح ہو گئی کہ شہر میں آخری بلدیاتی الیکشن جیتنے والی جماعت ایم کیو ایم اب آہستہ آہستہ اختتامی مراحل سے گزر رہی ہے اور تحریک انصاف اس کے متبادل کے طور پر سامنے آ رہی ہے لیکن ایم کیو ایم کے اس زوال نے جماعت اسلامی کیلئے بلدیاتی الیکشن میں اُمید کے دروازے کھول دیئے ہیں اور وہ پی ٹی آئی اور پی پی پی کا مقابلہ کرنے کی تیاری پکڑ رہی ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ سیاست کی سب سے بڑی نرسری یعنی بلدیاتی اداروں سے پی ٹی آئی بھی پنجاب میں وہی سلوک کر رہی ہے جو سندھ میں پی پی پی۔کر رہی ہے مگر فرق یہ ہے کہ سندھ میں تو پھر بھی الیکشن ہوتے ہیں اور پچھلی بلدیہ کو اپنی میعاد بھی پوری کرنے دی گئی، لیکن پنجاب میں تو پہلے عثمان بزدار اور اب چوہدری پرویز الٰہی بکدیاتی الیکشن سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں لہٰذا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہاں بھی فوری بلدیاتی الیکشن کرائے۔
ایسے میں سوال یہ ہے کہ آئندہ کراچی کا میئر یعنی ’سٹی فادر‘ کون ہو گا۔ اس کا انحصار پہلے مرحلے پر ہے جس میں 246 یوسی چیئرمین منتخب ہونے ہیں پھر اسی مناسبت سے مخصوص نشستیں خواتین، لیبر اور پہلی بار ٹرانس جینڈر کی۔ یعنی تقریباً 325 کا ہائوس پھر نئے مئیر کا انتخاب کرے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ آج بھی اس تین ساڑھے تین کروڑ کے شہر کی بلدیہ اور میئر کا زور صرف 34 فیصد، کراچی پر ہے جب کہ اختیار دینے کو کوئی تیار نہیں اور شہر کے لئے لڑنے والے آپس میں ہی لڑ رہے ہیں۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ کراچی اور پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت تحریک انصاف کراچی کی بھی سب سے بڑی جماعت ہو مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ 16 اکتوبر کے روز ہونے والے الیکشن میں اتنے یوسی چیئرمین منتخب کروا پائے گی کہ میئر کی ریس میں شامل ہو جائے۔
پی ٹی آئی کے لیڈر علی زیدی کو یقین ہے کہ وہ آئندہ اپنی جماعت کا میئر منتخب کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ انکا کہنا ہے کہ ہمارے سب سے زیادہ امیدوار ہیں، البتہ الیکشن کے بعد دیکھتے ہیں میئر اور ڈپٹی میئر کے لئے کس سے اتحاد کرتے ہیں۔ دوسری جانب پی پی پی کو ضمنی الیکشن میں ملیر سے اپنی قومی اسمبلی کی سیٹ پی ٹی آئی سے واپس ملنے کی خوشی ضرور ہے مگر ان کی نظریں میئر کی سیٹ پر بھی ہیں۔
پارٹی کے مرکزی رہنما سعید غنی کا خیال ہے کہ وہ 23 اکتوبر کو اس پوزیشن میں ہوں گے کہ اپنی پارٹی کا میئر منتخب کروا لیں چاہے انہیں کسی سے سیاسی اتحاد کرنا پڑے۔ یاد رہے کہ ماضی میں پی پی پی دو بار اپنا ڈپٹی میئر منتخب کروا چکی ہے۔ یہ واقعات 1979 اور 1983 میں ہوئے تھے۔مظہر کہتے ہیں کہ اپنا کراچی مئیر جتوانے کے لیے جماعت اسلامی آج جتنی پر امید ہے شاید 1979 اور 1983 میں بھی نہ تھی جب مولانا عبدالستار افغانی میئر منتخب ہوئے تھے۔ 2001 میں تو ایم کیو ایم کے بائیکاٹ نے جماعت اسلامی کے نعمت اللہ کیلئے نعمت کے دروازے کھول دیئے تھے اور وہ ایک کامیاب میئر کے طور پر سامنے آئے۔ اس کے بعد 2005 میں ایک بار پھر ایم کیو ایم نے یہ سیٹ جیت لی اور جناب مصطفیٰ کمال میئر منتخب ہوئے اور وہ بھی خاصے متحرک رہے اور بے شمار کام کیا۔ مگر اب کمال اپنی جماعت پاک سر زمین پارٹی کو کامیاب کروانے میں ناکام نظر آتےہیں۔
جماعت اسکامی کے حافظ نعیم شاید اس وقت وہ واحد امیدوار ہیں جو فتح کی صورت میں میئر کے امیدوار ہوں گے جبکہ دوسری جماعتوں میں اگر اور مگر چل رہی ہے۔ اب جماعت اسکامی کتنے یوسی چیئرمین منتخب کرواتی ہے یہ دیکھنا ہوگا۔ اگر الیکشن 23 اکتوبر کو ہو گئے تو اصل مقابلہ انہی پارٹیز کے درمیان ہوگا اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ الیکشن کے بعد ان میں سے دو کے درمیان میئر اور ڈپٹی میئر پر سمجھوتہ ہو جائے۔ زیادہ امکان پی ٹی آئی کے جماعت اسلامی سے اتحاد کا ہے البتہ جماعت اسلامی خود شاید پی پی پی سے اتحاد کرنا چاہے جس کی بڑی وجہ سندھ حکومت ہے۔ پی پی پی کے ذرائع بھی یہی کہتے ہیں مگر ان کا پی ٹی آئی سے اور عمرانڈوز کا جیالوں سے اتحاد مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن لگتا ہے۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ رہ گئی بات کراچی کو بااختیار بلدیاتی ادارہ بنانے کی یا 18ویں ترمیم کے تحت اختیارات نچلی سطح تک لے جانے کی تو یہ ایک بڑا سوال بھی ہے اور خواب بھی ہے، جس کے لئے بڑی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ کراچی کے اگلے میئر حافظ نعیم منتخب ہوں یا خرم شیر زمان، نجمی عالم آئیں یا کوئی اور پاکستان کا یہ معاشی حب ایک بااختیار بلدیاتی نظام کو ترستا رہے گا۔
گو کہ سندھ کے دیگر شہروں میں سوائے حیدرآباد، بدین میں بلدیاتی الیکشن کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور مجموعی طور پر پی پی پی پہلی بار میرپورخاص میں میئر لانے میں پرامید نظر آتی ہے جس کا شاید تعلق اقلیتی برادری سے ہو۔ انہیں یہ بھی امید ہے کہ پہلی بار حیدرآباد کا میئر بھی پی پی پی کا ہوسکتا ہے۔ مظہر کا کہنا ہے کہ اس سب کے باوجود کراچی کے بلدیاتی الیکشن ملتوی کروانے کی درخواست اور 2020 کے بعد سے شہر کو غیر منتخب ایڈمنسٹریٹر سے چلانے کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔
