کراچی واقعہ کی انکوائری رپورٹ کب تیار ہوگی؟


پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے کراچی واقعے کا نوٹس لینے کے بعد کور کمانڈر کراچی کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کی رپورٹ پبلک کرنے کے حوالے سے متضاد رائے پائی جاتی ہے.
سابق سیکرٹری دفاع جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین جو کہ خود کور کمانڈر پشاور بھی رہ چکے ہیں کا کہنا ہے کہ آرمی میں اس طرح کی انکوائری رپورٹ ہنگامی طور پر تیار کی جاتی ہے. تاہم ان کے مطابق اس طرح کی رپورٹ پبلک نہیں کی جاتی بلکہ یہ ادارے کی داخلی معلومات کے لیے ہوتی ہے جس کی بنیاد پر ایکشن لیا جاتا ہے لیکن رپورٹ کو پبلک نہیں کی جاتی۔ رپورٹ پبلک نہ کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں پر آئی جی سندھ کو اغوا کرنے اور کیپٹن صفدر کو گرفتار کروانے کا الزام ہے ان کا تعلق آئی ایس آئی اور رینجر سے ہے جو کہ فوج کے متعلقہ ادارے ہیں۔ تاہم اگر اس معاملے میں الزامات درست ثابت ہوئے تو متعلقہ افسران کے خلاف فوری انضباطی کارروائی کی جائے گی۔
یاد رہے کہ کراچی میں مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ایف آئی ار کے اندراج اور ان کی گرفتاری کے بعد سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو نے آرمی چیف سے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ بلاول بھٹو کی پریس کانفرنس کے کچھ دیر بعد پاکستان کی فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ آرمی چیف نے کور کمانڈر کراچی سے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کر کے رپورٹ دیں۔ بعد ازاں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پہلے بلاول بھٹو اور پھر آئی جی سندھ مشتاق مہر سے فون پر بات کی اور ان کو غیرجانبدارانہ تحقیقات کا یقین دلوایا۔ آرمی چیف نے یہ بھی کہا کہ وہ اس انکوائری کے نتیجے میں آئی جی کو انصاف دیا جائے گا، انکی عزت بحال کی جائے گی اور زیادتی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔
اس حوالے سے لیفٹیننٹ جنرل آصف یاسین ملک کا کہنا تھا کہ فوج کے ادارتی کی جانب سے اس طرح کی تحقیقات میں یہ نہیں ہوتا کہ گواہیاں ہوں اور لمبا چوڑا وقت لیا جائے۔ ’میرے خیال میں آرمی چیف کو چند گھنٹوں میں یا زیادہ سے زیادہ 22 اکتوبر تک رپورٹ مل جائے گی۔‘تاہم دوسری طرف عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کی تیاری کے لیے دس روز کا وقت لیا گیا ہے۔سابق سیکرٹری دفاع کے مطابق فوج کے نظام میں جب اس طرح کی انکوائری رپورٹ مانگی جاتی ہے تو واقعاتی شہادتوں اور ثبوتوں کی بنیاد پر فوری رپورٹ تیار کی جاتی ہے اور ہائی کمان تک پہنچا دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں جس طرح کا واقعہ ہوا ہے وہ پاک فوج کی تاریخ میں کبھی نہیں دیکھا گیا کہ جس میں وزیراعلیٰ اور آئی جی کے حوالے سے اس طرح کی شکایت آئے اور انکوائری کا بھی حکم آرمی چیف دیں اس لیے یہ اپنی نوعیت کا واحد کیس ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل آصف یاسین ملک نے کراچی واقعے کی صحت پر بھی شک کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر واقعی آئی جی اتنا کمزور ہوتا ہے تو اسے چھٹی کی درخواست کے بجائے استعفیٰ دینا چاہیے۔
یاد رہے کہ آئی جی سندھ کے اغوا اور کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے واقعات کا ذمہ دار کراچی آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر حبیب کو قرار دیا جارہا ہے جنہوں نے ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل عمر کی مدد سے یہ منصوبہ انجام کو پہنچایا۔ تاہم سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی کراچی بریگیڈئیر حبیب اور ڈی جی رینجرزسندھ میجر جنرل عمر بخاری کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان دونوں افسران کا آئی جی کے مبینہ اغوا اور کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور انکوائری میں ان کا موقف درست ثابت ہو جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button