وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ‌ سندھ کا آئی جی سندھ کی تبدیلی پر اتفاق

وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مابین ہونے والی اہم ملاقات میں آئی جی پولیس کی تبدیلی پر اتفاق کرلیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کراچی کے ایک روزہ دورے پر ہیں جہاں انہوں نے گورنر سندھ عمران اسمٰعیل اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سے ملاقات کی ۔
کراچی پہنچنے پر گورنر سندھ عمران اسمٰعیل اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے عمران خان کا استقبال کیا، جس کے بعد وہ گورنرہاؤس کےلیے روانہ ہوگئے۔ بعد ازاں گورنر ہاؤس کراچی میں وزیر اعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ملاقات کی، اس موقع پر گورنر سندھ عمران اسماعیل بھی موجود تھے۔ملاقات میں وزیر اعلیٰ سندھ نے صوبے کے ترقیاتی منصوبوں اور دیگر اہم امور پر بھی وزیر اعظم سے تبادلہ خیال کیا. دوران ملاقات سید مراد علی شاہ نے صوبے میں امن و امان کی صورت حال پر وزیر اعطم کو آگاہ کیا اور آئی جی کلیم امام سے متعلق سندھ کابینہ کے فیصلوں اور تحفظات سے بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا، گورنر عمران اسماعیل نے بھی آئی جی سندھ کو تبدیل کرنے کے مطالبے کی حمایت کی۔ ملاقات میں وزیر اعظم نے سندھ میں آئی جی پولیس تبدیل کرنے پر اتفاق کیا اور فیصلہ کیا گیا کہ آئی جی سندھ کے لیے زیرغور افسران میں کسی ایک کو تعینات کردیا جائے گا۔
قبل ازیں عہدیداروں اور ذرائع نے بتایا تھا کہ وزیراعظم کی وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات، گورنر سندھ سے کچھ روز قبل ہونے والی اس ملاقات کے بعد ہوگی، جسے کراچی والوں نے مثبت اشارہ قرار دیا تھا۔ایک گھنٹہ طویل اس ملاقات میں وزیراعلیٰ نے شہر کی ترقی سے متعلق ‘تمام تجاویز’ پر رضامندی کا اظہار کیا تھا اور میگا منصوبوں کو بغیر کسی مزید تاخیر کے مکمل کرنے کے تناظر میں ‘مرکز کے تعاون سے جاری منصوبوں پر صوبائی حکام کا کام مکمل کرنے’ کا عزم کیا تھا۔
واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں وفاقی حکومت نے پیپلزپارٹی کی قیادت میں موجود سندھ حکومت کے ساتھ اپنے کام کے تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کی ہے۔ رواں سال کے آغاز میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے اعلان کیا تھا کہ سندھ حکومت سے ‘انتہائی اختلافات’ کے باوجود وفاق نے ‘شہریوں کی زندگی’ بہتر کرنے کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ کام کا فیصلہ کیا ہے۔ یہاں یہ بات مدنظر رہے کہ وزیراعظم نے کراچی میں مختلف منصوبوں کے آغاز کے لیے خواہش کا اظہار کیا تھا اور گزشتہ برس شہر کی ترقی کے لیے 162 ارب روپے کا ‘جامع پیکج’ دینے کا اعلان کیا تھا۔

وزیراعظم کنگری ہاؤس کراچی میں پیر صاحب پگارا سے بھی ملاقات کریں گے۔ حیرت انگیز طور پر وزیراعظم کے شیڈول میں ناراض اتحادی جماعت ایم کیو ایم سے کوئی ملاقات کا ذکر نہیں، ایم کیو ایم کی جانب سے ملاقات کے لئے کوئی دعوت نامہ موصول نہ ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔ ایم کیوایم ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کی خواہش ہے کہ وزیراعظم بہادر آباد آئیں اور ایم کیوایم قیادت نے اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں بھی اس خواہش کا اظہار کیا تھا۔ ایم کیوایم پاکستان کے معاملات وزیراعظم کی کمیٹی دیکھ رہی ہے۔ جلد ہی معاملات طے ہونے کے بعد ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی اسلام آباد میں ہی وزیراعظم سے ملاقات کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button