چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان کا ووٹ کی عزت کی بحالی کے عزم کا اظہار

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا، چیف جسٹس گلزار احمد نے چیف الیکشن کمشنر سے حلف لیا۔
وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ حلف برداری کی تقریب میں چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے سکندر سلطان راجا سے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کا حلف لیا۔ اس موقع پر ملک کی اہم شخصیات و اراکین الیکشن کمیشن موجود تھے۔24 جنوری کو سکندر سلطان راجہ کو پانچ سال کے لیے چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا تھا۔
تقریب حلف برداری کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سکندر سلطان نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے اور نیشنل کازہے، ان شااللہ اس پرپورا اتروں گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ شفاف الیکشن میری ترجیحات میں شامل ہے، ووٹ کی عزت کو یقینی بنائیں گے. انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں صاف و شفاف انتخابات ان کی ذمہ داری ہے، جب بھی الیکشن ہوں گے شفافیت اوّلین ترجیح ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن پر عوام کے اعتماد کو مزید بہتر کریں گے، ہمارا ایک ہی مقصد ہےکہ شفاف، پرامن انتخابات ہوں اور یقین ہے اللہ کامیاب کرے گا۔ سکندر سلطان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی قیادتوں کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے مجھے متقفہ طورپر سیلیکٹ کیا۔ سکندر سلطان راجہ نے ایک صحافی کے استفسار پر کہا کہ انتخابات کا انعقاد کب ہوگا اس کا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
واضح رہے کہ سابق چیف الیکشن کمشنر سردار رضا کی ریٹائرمنٹ کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان چیف الیکشن کمشنر کے نام پر ڈیڈلاک رہا۔ حکومت اور پارلیمانی کمیٹی کے اس حوالے سے 12 اجلاس بے نتیجہ رہے اور تیرہویں اجلاس میں سابق بیوروکریٹ سکندر سلطان راجہ کے نام پر اتفاق کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر سکندر سلطان راجہ ضلع سرگودھا کے گاؤں بھیرہ میں پیدا ہوئے، والد آرمی افسر تھے۔ انہوں نےابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول بھیرہ، میٹرک اور ایف ایس سی کیڈٹ کالج حسن ابدال سے کیا، ایم بی بی ایس کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے کیا جبکہ ایل ایل بی کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی۔ ڈاکٹر سکندر سلطان راجہ نے سی ایس ایس 1987 میں کیا اور ڈی ایم جی/پی اے ایس گروپ میں شامل ہوئے۔ کیریئر کا آغاز اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد کی حیثیت سے کیا۔ اپنی ملازمت کے دوران ڈاکٹر سکندر سلطان راجہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب، صوبائی سیکریٹری مواصلات اینڈ ورکس پنجاب، صوبائی سیکریٹری ایس اینڈ جی اے ڈی، صوبائی سیکریٹری لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈیویلپمنٹ پنجاب کے اہم عہدے پر فائز رہے۔
وہ وفاقی حکومت میں ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ ڈاکٹر سکندر سلطان راجہ چیف سیکریٹری گلگت بلتستان اور چیف سیکریٹری آزاد کشمیر کی خدمات بھی انجام دے چکے ہیں جبکہ وفاقی سیکریٹری پیٹرولیم ، سیکریٹری سیفران بھی رہے۔ ڈاکٹر سکندر سلطان راجہ حال ہی میں سیکریٹری/چیئرمین ریلوے کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔ سلطان راجہ سعید مہدی کے داماد ہیں، جو سابق وزیراعظم نواز شریف اور اسلام آباد کے چیف کمشنر عامر احمد علی کے برادر نسبتی کے پرنسپل سیکریٹری رہ چکے ہیں اور آج کل عمران خان کے کافی قریبی سمجھے جاتے ہیں۔سکندر سلطان راجا کے والد آرمی افسر تھے جبکہ ان کی اہلیہ رباب سکندر پاکستان کسٹمز میں 21 ویں گریڈ کی افسر ہیں۔
خیال رہے کہ 24 جنوری کو جاری شدہ نوٹیفکیشن کے مطابق سکندر سلطان راجہ 5 سال کے لیے چیف الیکشن کمشنر مقرر کیے گئے ہیں، جب کہ سندھ سے نثار درانی اور بلوچستان سے شاہ محمود جتوئی کو رکن الیکشن کمیشن تعینات کیا گیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن نے طویل ڈیڈ لاک کے بعد چیف الیکشن کمشنر کے لیے سکندر سلطان راجہ کے نام پر اتفاق کیا تھا۔
واضح رہے کہ چیف الیکشن کمیشن سردار رضا خان 6 دسمبر 2019 کو ریٹائر ہوئے تھے اور ان کی جگہ جسٹس (ر) الطاف قریشی قائم مقام الیکشن کمشنر کے فرائض انجام دے رہے تھے۔
سکندر سلطان راجہ 5 سال کیلئے چیف الیکشن کمشن مقرر ہوئے ہیں، صدر مملکت کی توثیق کے بعد ان کی تقرری کا نوٹیفیکشن جاری کیا گیا تھا۔ 24 جنوری کو وفاقی حکومت نے الیکشن کمیشن کے سربراہ اور دیگر 2 اراکین کے تقرر کا نوٹفیکیشن جاری کردیا، جس کے مطابق چیف الیکشن کمشنر 5 سال تک اپنے عہدے پر رہیں گے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق آئین پاکستان کے آرٹیکل 48 کے ساتھ 213 اور 215 پر عمل کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سکندر سلطان راجا کو بطور چیف الیکشن کمشنر تعینات کردیا تھا۔
