کراچی پیکج پر سندھ اور وفاق آمنے سامنے آ کھڑے ہوئے


وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کراچی پیکج کے اعلان کے بعد سندھ حکومت اور وفاق ایک بار پھر آمنے سامنے آ کھڑے ہوئے ہیں۔ سندھ حکومت وفاق سے ملنے والے مجوزہ فنڈز کے حوالے سے شکوک شبہات کا اظہار کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت شہر کے لیے 1113 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان تو کر دیا ہے لیکن بنیادی سوال وہیں کھڑا ہے کہ یہ گیارہ سو تیرہ ارب روپے آئے گا کہاں سے؟ کراچی میں گذشتہ سو سال کا ریکارڈ توڑنے والی مون سون بارشوں کے نتیجے میں تباہی کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے شہر کے لیے 802 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا تھا جس کے دو روز بعد ہی وزیراعظم نے بھی کراچی پہنچ کر 1113 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کر دیا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وزیر اعظم کے اعلان کردہ پیکیج میں 802 ارب روپے والا سندھ حکومت کا اعلان کردہ پیکج بھی شامل ہے۔ یعنی 1113 ارب روپے کے کراچی ترقیاتی پیکج میں وفاقی حکومت نے صرف 300 روپے کا اضافہ کیا ہے حالانکہ کراچی ملک کے مجموعی ریونیو کا 58 فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے۔ اس سے بڑھ کر تشویش کی بات یہ ہے کہ فریقین کی جانب سے اس تاریخی پیشرفت کے اگلے ہی روز دونوں اطراف سے بیان بازی شروع ہوگئی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاق اس پیکج کے لیے صرف 300 ارب دے رہا ہے جس کے جواب میں وفاقی وزیر اسد عمر نے جوابی دعویٰ کیا ہے کہ شہر قائد کے لیے اعلان کردہ 1113 ارب روپے کے پیکج کے لیے 62 فیصد فنڈنگ وفاقی حکومت اور 38 فیصد سندھ حکومت فراہم کرے گی۔ اسد عمر کا کہنا ہے کہ سندھ کو 90 فیصد ریونیو صرف کراچی کما کر دیتا ہے لہذا اس شہر کا حق بنتا ہے کہ سندھ حکومت اس پر 800 ارب روپے لگائے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کراچی کے لیے وفاق یا صوبائی حکومت کی جانب سے اتنی خطیر رقم کے ترقیاتی منصوبے پیش کیے گئے ہوں۔ اس سال جون میں جب صوبہ سندھ کا سالانہ بجٹ پیش کیا گیا تو اس میں کراچی کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 26 ارب روپے مختص کیے گئے جن میں بی آر ٹی لائنز، پانی اور سیوریج کی لائنیں اور دیگر منصوبے شامل ہیں۔ ستمبر کے آغاز میں وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے بھی اعلان کیا تھا کہ کراچی کو ‘صحیح معنوں میں تبدیل’ کیا جائے گا اور اس مد میں انھوں نے 800 ارب مالیت کے پیکج کا اعلان کیا جس میں 24 ترقیاتی منصوبے شامل کیے گے ہیں۔ مراد علی شاہ کے مطابق اس پیکج میں شامل منصوبوں کی تکمیل ایک سے پانچ سال میں متوقع ہے۔ انھوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا تھا کہ وفاقی حکومت اس رقم کے مساوی پیکج کا اعلان کرے گی تاہم ایسا نہ ہوسکا۔ دوسری جانب معاشی ماہرین نے بھی سوال کیا ہے کہ اتنے بڑے پیکجز کے لیے مطلوبہ رقم کہاں سے آئے گی جبکہ یہ تنقید بھی کی گئی ہے کہ ان میں سے کئی بڑے منصوبے تو پہلے سے ہی چل رہے ہیں، ان میں نیا کیا ہے؟
وزیراعظم عمران خان نے پانچ ستمبر کو دورہ کراچی کے موقعہ پر 1113 ارب روپے کے 3 سالہ کراچی پیکیج کا اعلان کیا اور عمل درآمد کے لئے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی، جس میں وفاق، صوبے، فوج اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے نمائندے شامل کیے گے۔ کراچی پیکیج میں پانی کی سپلائی کیلئے 92 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جس میں 3 سالہ K-4 منصوبہ بھی شامل ہے۔ اس پیکیج میں سیوریج اور پانی کی نکاسی کیلئے 141 ارب روپے، نالوں کی صفائی اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کیلئے 267 ارب روپے، ماس ٹرانزٹ، سرکولر ریلوے اور ٹرانسپورٹ کیلئے 572 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ نالوں کی صفائی کا کام نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کرے گی جبکہ تجاوزات کے خاتمے میں بے گھر ہونے والوں کی آبادکاری کی ذمہ داری حکومت سندھ پر ہوگی۔ ماضی میں بھی کراچی کیلئے کئی پیکیجز کا اعلان کیا جاچکا ہے لیکن بروقت رقم کی ادائیگی اور موثر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے ان پیکجز کے خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے۔ لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہو پایا ہے کہ وزیر اعظم کے 1113 ارب روپے کے پیکج میں کیا 802 ارب روپے کے جاری منصوبوں اور 162رب روپے کا وزیراعظم کا گزشتہ کراچی پیکج بھی شامل ہے یا وہ اس کے علاوہ ہیں۔ سندھ حکومت کا دعویٰ ہے کہ 1113 ارب کے اس پیکج میں 285 ارب روپے یعنی 35 فیصد سندھ حکومت دے گی۔ 250 ارب روپے سرکلر ریلوے چلانے کے لئے چین سے قرض ملے گا جو کہ 31 فیصد بنتا ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت منصوبوں کے لئے 107 ارب یعنی 14 فیصد فنڈز جمع ہوں گے۔ ورلڈ بینک 82 ارب فراہم کرے گا اسی طرح ایشین ڈویلپمنٹ بینک 39 ارب اور وفاق صرف پانچ فیصد یعنی 36 ارب روپے فراہم کرے گا۔
ماہرین معاشیات کہتے ہیں کہ کراچی اپنی مقامی کاروباری سرگرمیوں پر 700 سے 1000 ارب روپے سالانہ ٹیکس حاصل کرتا ہے جو پاکستان کے مجموعی ٹیکس کا تقریباً 20 سے 25 فیصد ہے لیکن یہ پیسہ کہاں خرچ ہوتا ہے اس پر ایک سوالیہ نشان ہے؟ سندھ کے بجٹ میں صرف 30 سے 35 ارب روپے کراچی کیلئے مختص کئے جاتے ہیں جس میں سے زیادہ تر رقم کراچی سے باہر کے منصوبوں پر خرچ کردی جاتی ہے۔ اِسی طرح سندھ کے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 340 ارب روپے رکھے جاتے ہیں جس میں سے تقریباً 300 ارب روپے کراچی سے باہر کے منصوبوں کیلئے ہوتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مالی وسائل دستیاب نہ ہوئے تو نہ صرف یہ کہ کراچی پیکیج پر عمل درآمد نہیں ہو سکے گا بلکہ لوگوں کی امید مایوسی میں تبدیل ہو جائے گی۔ اہم ترین سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کراچی پیکج کے لیے اعلان کردہ 1113 ارب روپے کہاں سے آئیں گے ؟ یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ وزیر اعظم کے 1113ارب روپے کے پیکیج میں 802 ارب والا سندھ حکومت کا پیکج ہے اور اس میں وفاقی حکومت نے تقریباً 300ارب روپے کا اضافہ کیا ہے ۔
اگرچہ سندھ حکومت کے مجوزہ پیکیج کے لئے وفاقی حکومت بھی میچنگ فنڈز فراہم کرے گی لیکن یہ ترقیاتی پیکیج بنیادی طور پر سندھ حکومت کا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ یہ پیکیج وفاقی اور سندھ حکومت نے مل کر بنایا ہے۔ تین سال میں تین مرحلوں میں اگر 1113 ارب روپے کے تمام منصوبے مکمل کرنا ہیں تو اس کیلئےہر سال 366 ارب روپے درکار ہوں گے ۔ رواں مالی سال کے دوران 802 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کیلئے سندھ حکومت نے صرف 31.99 ارب روپے مختص کر رکھے ہیں جبکہ وفاقی حکومت کے ترقیاتی پروگرام میں سے کراچی سمیت سندھ کے تمام منصوبوں کیلئے صرف 8.3 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ویسے تو مختص رقم کبھی بھی پوری جاری نہیں ہوتی لیکن اگر یہ رقم جاری ہو بھی جائے تو رواں مالی سال کے دوران کراچی ترقیاتی پیکیج کیلئے صرف 35 سے 36 ارب روپے دستیاب ہونگے ۔ رواں سال ہی تقریبا 331 ارب روپے مزید درکار ہوں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وفاقی اور صوبائی حکومتیں اتنی بڑی رقم کا انتظام کر سکیں گی ؟
حقیقت یہ ہے کہ دونوں حکومتوں کے پاس اتنی مالیاتی گنجائش ہی نہیں ہے کہ وہ اتنی بڑی رقم کا بندوبست کر سکیں۔ سندھ حکومت پچھلے پانچ سال سے 300 ارب روپے سے زیادہ کے ترقیاتی بجٹس کا اعلان کرتی رہی ہے لیکن سال کے آخر میں اس اعلان کردہ بجٹ کی آدھی رقم بھی دستیاب نہ ہو سکی۔ گزشتہ دو سال سے تو سندھ حکومت 130 ارب روپے کے ترقیاتی اخراجات سے آگے نہیں بڑھی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سندھ حکومت کی پورے صوبے کے ترقیاتی بجٹ کے لئے زیادہ سے زیادہ مالیاتی گنجائش 150 ارب روپے تک ہے ۔ اس میں وفاقی حکومت اور غیر ملکی امداد بھی شامل ہو گی۔ اسی طرح وفاقی حکومت بھی گزشتہ کئی سال سے صوبوں کے لئے اپنے ترقیاتی بجٹ میں 500 سے 600 ارب روپے تک مختص کرتی ہے لیکن سال کے آخر میں صوبوں کو 200 سے 250 ارب روپے تک ہی ملتے ہیں۔ سندھ کو تو گذشتہ پانچ سال میں 20 ارب روپے سے زیادہ رقم نہیں مل پائی۔ افسوس کی بات یہ یے کہ اس سال وفاقی حکومت کے صوبوں کے ترقیاتی پروگرام کے لئے مختص 674 ارب روپے میں سے سندھ کے لئے صرف 8.3 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اس صورتحال میں اگر سندھ حکومت اپنا سارا ترقیاتی بجٹ صرف کراچی پیکیج کے لئے مختص کر دے اور وفاقی حکومت بھی چاروں صوبوں کے حصے کا سارا 200 ارب روپیہ بھی کراچی پیکج کے لئے دے دے تو بھی اس پیکیج کے لئےسالانہ 366 ارب روپے کی رقم پوری نہیں ہو گی۔
وفاقی اور سندھ حکومت کے ان سالانہ ترقیاتی بجٹس میں سی پیک سمیت غیر ملکی امداد سے چلنے والے منصوبے بھی شامل ہیں۔ لہذا بنیادی سوال پھر وہی پر کھڑا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کراچی کے لیے اعلان کردہ 1113 ارب روپے کی رقم آئے گی کہاں سے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button