کرنٹ اکاؤنٹ پہلے 9 ماہ میں 95 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سرپلس ریکارڈ

ملک میں مارچ میں لگاتار چوتھے مہینے میں 4 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہوا لیکن مالی سال 21 کے ابتدائی 9 ماہ میں سرپلس رہا جس کے بعد امید بندھی ہے کہ مالی سال مجموعی خسارے کے ساتھ ختم نہیں ہوگا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے جاری کردہ اعدادوشمار میں مارچ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 4 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ظاہر ہوا جو 31 فروری کے مقابلے میں قدرے زیادہ تھا۔ جنوری میں خسارہ 22 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا جب کہ دسمبر 2020 میں خسارہ 62 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھا۔ اسٹیٹ بینک رپورٹ کے مطابق رپورٹ کے مطابق جولائی تا مارچ مالی سال 21 کے دوران موجودہ اکاؤنٹ میں 95 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سرپلس رہا جس سے ظاہر ہورہا ہے کہ خسارے میں مجموعی طور پر کمی آرہی ہے جب کہ رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی کے اختتام پر جاری اکاؤنٹ مثبت رہا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مطلوبہ فنڈز لینے کے لیے ملک کو متعدد شرائط کو قبول کرنا پڑی ہیں اور اس عمل میں معیشت کے منتظمین کو بیرونی اکاؤنٹ کی بہتر صورت حال کے باوجود تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے بنیادی طور پر اس خدشے کی وجہ سے کہ حالات معیشت کو سست کردیں گے اور معاشی نمو کے امکانات کو بری طرح متاثر کریں گے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جہاں ملک کو وسعت دینے کی ضرورت ہے اور آئی ایم ایف معیشت میں استحکام کے خواہاں ہے جس سے معاشی نمو کے امکانات کم ہوجائیں۔ آئی ایم ایف نے مالی سال 21 کے لیے 1.5 فیصد شرح نمو کی پیش گوئی کی ہے جب کہ عالمی بینک نے صرف 1.3 فیصد کی شرح کی پیش گوئی کی ہے۔ دوسری جانب اسٹیٹ بینک اپنے پہلے مؤقف پر قائم ہے کہ شرح نمو 3 فیصد ہوگی۔ نئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے بھی کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے بات چیت کرتے ہوئے سخت شرائط کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے معاشی توسیع اور مناسب شرح نمو کی حمایت کی ہے۔
موجودہ حکومت نے مالی سال 18 میں جاری کھاتوں کے خسارے کو 20 بلین ڈالر سے کامیابی کے ساتھ کم کیا ہے اور یہ سرپلس زمرے میں داخل ہوگئی ہے جس سے شرح تبادلہ مستحکم ہوا ہے اور عالمی منڈی میں ملک کے بارے میں مثبت رحجان پیدا ہوا ہے جس سے یورو بانڈز کے ذریعے 2.5 بلین ڈالر کی رقم جمع ہوسکتی ہے۔ اس مالی سال میں سرپلس کی مخالفت کے طور پر پچھلے مالی سال (2020) کے پہلے 9 مہینوں میں جاری کھاتوں کا خسارہ 4 ارب 14 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تھا جو واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت قرضوں کی ادائیگی کی اپنی صلاحیت کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے 9 مہینوں کے دوران سامان کی برآمدات میں کوئی خاصی بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔ مال کی برآمدات پچھلے مالی سال کے اسی عرصے میں 18 ارب 30 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 18 ارب 70 کروڑ ڈالر تھیں۔ تاہم سامان کی درآمد میں زبردست نمو دیکھنے میں آئی ہے کیونکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ 34 ارب 10 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 37 ارب 40 کروڑ ڈالر تک جا پہنچی تھی۔ مال کی تجارت پر توازن منفی ہے جس میں پچھلے مالی سال میں 15 ارب 85 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 18 ارب 65 لاکھ 70 کروڑ ڈالر ہیں۔ پاکستان کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بھرپور سپورٹ مل رہی ہے جو رواں مالی سال کے دوران ہر ماہ 2 ارب ڈالر کی رقم ادا کر رہے ہیں۔ مالی سال 21 کے پہلے 9 مہینوں میں ملک کو 21 ارب 50 کروڑ ڈالر موصول ہوئے جو گزشتہ سال کی ترسیلات زر کے مقابلے میں 26 فیصد کا اضافہ ہے۔ حکومت کو توقع ہے کہ رواں مالی سال کے آخر تک 28 ارب ڈالر ڈالر کی رقم وصول ہوجائے گی جو برآمدات سے ہونے والی کل آمدنی سے کہیں زیادہ ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button