کئی ممالک میں پاکستانی مسافروں کے داخلے پر پابندی عائد

کرونا وائرس کی تیسری لہر کے پیش نظر ایک بار پھر فضائی سفر پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔دنیا کے بیشتر ممالک ان ملکوں سے آنے والے مسافروں پر اپنے دروازے ایک بار پھر بند کر رہے ہیں جہاں کورونا کیسز اور اموات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان میں بھی کورونا وائرس کی یومیہ شرح مجموعی طور پر تجاوز کر چکی ہے اور کیسز کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد ممالک نے پاکستان سے فضائی رابطہ معطل کر دیا ہے۔
سعودی عرب نے فروری میں پاکستان سمیت 20 ممالک سے آنے والے مسافروں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ مملکت میں کیسز میں اضافے کے بعد پاکستان سے سعودی عرب کے لیے تمام پروازیں معطل ہیں تاہم سعودی حکام کی جانب سے 17 مئی کو سفری پابندیاں جزوی طور پر ہٹائی جا رہی ہیں لیکن پاکستان اور انڈیا سمیت 20 ممالک پر پابندیاں برقرار رہیں گی۔
برطانیہ نے کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کو روکنے کے لیے پاکستان کو فضائی سفر کی ریڈ لسٹ میں شامل کیا ہے۔ برطانوی حکومت نے 9 اپریل سے پاکستانی مسافروں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے تاہم برطانوی شہریت رکھنے والے پاکستان سے جانے والے مسافروں کے لیے برطانیہ پہنچنے پر قرنطینہ کی شرط عائد کی گئی ہے۔
کینیڈا نے بیرون ملک سے آنے والے مسافروں میں کورونا کیسز کی شرح میں اضافے کو دیکھتے ہوئے بندشیں مزید سخت کر دی ہیں۔کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کو روکنے کے لیے کینیڈا نے پاکستان سے پروازوں کو 30 روز تک معطل کر دیا ہے۔ کینیڈین حکام نے پاکستان کے علاوہ انڈیا سے بھی فضائی رابطہ معطل کر دیا ہے۔
ہانگ کانگ میں کرونا کیسز میں اضافے کے بعد حکام نے پاکستان کو ’انتہائی رسک کی فہرست‘ میں شامل کر لیا ہے۔ 20 اپریل سے پاکستان سے آنے والے مسافر پروازیں پر دو ہفتوں کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔
انتہائی رسک کی فہرست میں پاکستان کے علاوہ انڈیا اور فلپائین سے آنے والی پروازوں پر بھی دو ہفتوں کے لیے پابندی عائد ہے۔
کرونا کے کیسز تیزی سے پھیلنے کے بعد اومان نے بھی پاکستان سے مسافر پروازوں پر 26 اپریل سے پابندی عائد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اومان کی جانب سے پاکستان انڈیا اور بنگلہ دیش سے آنے والے مسافروں کا داخلہ ممنوع ہوگا۔
دوسری طرف پاکستان نے انڈیا سمیت 23 ممالک سے آنے والے مسافروں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔فضائی سفر کے علاوہ زمینی راستے سے بھی انڈیا سے آنے والے مسافروں پر کورونا وائرس کے باعث داخلے پر پابندی ہے۔اس کے علاوہ جنوبی افریقہ، زمبابوے، برازیل، صومالیہ اور کینیا سمیت دیگر افریقی ممالک سے مسافروں کی پاکستان آمد پر پابندی عائد ہے۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پاکستان آنے والی بین الاقوامی پروازوں اور مسافروں سے متعلق کورونا ایس او پیز کی مدت میں 30 اپریل تک توسیع کر دی ہے۔سول ایوی ایشن نے کیٹیگری سی میں شامل ممالک پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں بھارت سمیت 23 ممالک شامل ہیں۔کیٹیگری بی میں شامل ملکوں سے آنے والوں کے لیے 72 گھنٹے قبل کورونا ٹیسٹ کروانا لازمی ہے جبکہ آسٹریلیا، چین اور سعودی عرب سمیت 20 ملک کیٹیگری اے میں شامل ہیں۔کیٹیگری اے میں شامل ممالک کے مسافروں کو کورونا ٹیسٹ سے استثنیٰ حاصل ہے۔
