یو این نے UAE سے شہزادی لطیفہ کی زندگی کا ثبوت مانگ لیا

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے متحدہ عرب امارات سے دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کی بیٹی شہزادی لطیفہ المکتوم کے زندہ ہونے سے متعلق ‘ٹھوس’ ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں جاری ہونے والی اپنی ویڈیوز میں شیخہ لطیفہ نے الزام لگایا تھا کہ ان کے والد نے انہیں دبئی میں تب سے زبردستی یرغمال بنایا ہوا ہے جب انہوں نے سال 2018 میں ملک سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔ خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی ویڈیوز میں شیخہ لطیفہ نے کہا تھا کہ انہیں خطرہ ہے کہ انہیں جان سے مار دیا جائے گا۔
اب یو این کے جنیوا ہیڈ کوارٹر سے جاری کردہ بیان میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے کہا کہ شیخہ لطیفہ کو فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یو اے ای کی حکومت سے شہزادی کے متعلق مزید معلومات درکار ہیں۔ ان کی ویڈیو جاری ہونے کے بعد اقوام متحدہ نے شہزادی لطیفہ کو والد کی جانب سے جبری طور پر قید کرنے کا معاملہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ اٹھانے کا اعلان کیا تھا۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مبصرین نے کہا ہے کہ شیخہ لطیفہ کو جن حالات میں رکھا گیا ان کی آزادانہ تصدیق کروائی جائے اور انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انسانی حقوق کے ماہرین نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے حکام کے جاری کردہ بیان میں محض یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ گھر میں شہزادی لطیفہ کا کیا خیال رکھا جارہا ہے اور یہ اس مرحلے پر ناکافی ہے۔ مزید کہا گیا کہ فروری میں فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد سے ہمیں ان کے حوالے سے خطرات ہیں، جس میں شیخہ لطیفہ نے اپنی مرضی کے خلاف اپنی آزادی سے محروم ہونے سے متعلق بتایا تھا اور ان کے حالات سے متعلق مزید معلومات فراہم کرنے سے متعلق باضابطہ درخواست کے باوجود حکام کی جانب سے کوئی ٹھوس معلومات نہیں دی گئیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ان ویڈیوز کے بعد سے ہی اقوام متحدہ کے ماہرین نے اماراتی حکومت سے ان کی ‘مبینہ جبری گمشدی اور قیدِ تنہائی’ کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسلسل حراست سے شہزادی لطیفہ پر جسمانی اور نفسیاتی نقصان دہ اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جو ظالمانہ، غیر انسانی یا مایوس کن سلوک کے زمرے میں آسکتے ہیں۔
قبل ازیں مشیل باشیلے کی سربراہی میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے شہزادی لطیفہ سے متعلق بڑھتی ہوئی عالمی تشویش کے تناظر میں اماراتی حکومت سے ان کے زندہ ہونے کے ثبوت مانگے تھے۔ جس پر متحدہ عرب امارات نے 19 فروری کو کہا تھا کہ شیخہ لطیفہ کا خیال گھر پر رکھا جارہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے اماراتی حکام رابطہ کرنے پر کوئی بھی جواب دینے سے انکاری ہیں۔
رواں ماہ کے اوائل میں مشیل باشیلے کے دفتر نے کہا تھا کہ انہوں نے شیخہ لطیفہ کے زندہ ہونے سے متعلق جو ثبوت یو اے ای سے مانگے تھے، وہ انہیں موصول نہیں ہوئے۔ اس وقت اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی ترجمان نے کہا تھا کہ یو این کے سینئر حکام نے شہزادی لطیفہ کے معاملے پر جنیوا میں اماراتی سفیر سے ملاقات طے کی ہے جسے منظور کرلیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ شیخہ لطیفہ نے 2 مرتبہ دبئی سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی اور وہ دونوں مرتبہ ہی ناکام ہوئیں۔ انہیں 2002 اور 2018 میں پکڑ کر دبئی واپس لایا گیا تھا۔ انہیں پہلی مرتبہ فرار ہونے کی کوشش سے قبل اپنے والد کی ہدایات پر 3 سال تک کےلیے قید کیا گیا تھا، مارچ 2018 میں ان کی دوسری قید عالمی شہ سرخیوں کا حصہ بنی تھی۔ شیخہ لطیفہ کی ایک دوست نے بتایا تھا کہ کمانڈوز نے انہیں اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ بحر ہند میں سمندری راستے سے فرار ہونے کی کوشش کررہی تھیں، کمانڈوز نے انہیں کشتی سے گھسٹ کر باہر نکالا، تشدد کیا جب کہ وہ چیختی رہیں۔ تاہم کمانڈوز انہیں ہراساں کرتے رہے۔ علاوہ ازیں دبئی کے حکمران کی اہلیہ 45 سالہ شہزادی حیا بنت الحسین اپریل 2019 میں اپنے شوہر سے خوفزدہ ہو کر متحدہ عرب امارات سے فرار ہوگئی تھیں اور انہوں نے اپنے 2 بچوں کی واپسی کےلیے کیس دائر کیا تھا۔ گزشتہ برس اسی کیس کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ آف انگلینڈ اینڈ ویلز کے فیملی ڈویژن کی سربراہی کرنے والے جج اینڈریو مکارلین نے شیخ محمد کو شیخہ شمسہ کے برطانوی شہر کیمبرج سے اگست 2000 میں ان کے اغوا کا حکم دینے اور اس کی منصوبہ بندی میں ملوث پایا، اس وقت شیخہ شمسہ 19 برس کی تھیں۔ جج نے کہا تھا کہ شیخہ شمسہ کو دبئی واپسی پر مجبور کیا گیا تھا اور گزشتہ 2 دہائیوں سے ان کی آزادی چھینی گئی جب کہ شیخہ لطیفہ کو 2 مرتبہ 2002 اور 2018 میں پکڑ کر دبئی واپس لایا گیا تھا۔ لندن کی عدالت نے کہا تھا کہ شیخ محمد نے ایسے حالات قائم کر رکھے ہیں جہاں دونوں نوجوان خواتین کو آزادی سے محروم رکھا گیا۔ عدالت میں مذکورہ معاملہ زیر غور آنے کے بعد شیخہ لطیفہ کے دوست پُرامید تھے کہ شاید عدالت کے فیصلے کے بعد کچھ فائدہ ہو لیکن ایسا نہیں ہوا جس کے بعد انہوں نے شہزادی کے پیغامات جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
