کرونا ٹریکنگ کے نام پر شہریوں کی کالز ریکارڈنگ

کرونا وائرس کے مصدقہ اور مشتبہ کیسز کی شناخت کیلئے ملک میں نافذ العمل ٹریس اینڈ ٹریکنگ سسٹم کے تحت عام شہریوں کی کالز ریکارڈ کرنے اور ان کی آمدورفت پر نظر رکھے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ پاکستان میں کرونا مریضوں کی شناخت کیلئے آئی ایس آئی کی طرف سے دہشتگردوں کا پتہ لگانے والی خفیہ ٹیکنالوجی کے استعمال پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسی کو ملک دشمنوں کے کھوج کی اصل ذمہ داریوں سے ہٹا کر کرونا کے مریضوں اور مشتبہ کیسز کی شناخت پر مامور کرنے سے جہاں سیکورٹی خدشات میں اضافہ ہو گا وہیں عوام میں خوف کی فضا پیدا ہو گی اور پرائیویسی ختم ہو جائے گی۔
وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر پاکستان میں انٹر انٹیلی جنس سروسز یعنی آئی ایس آئی کو کرونا وائرس کے مریضوں اور ان سے رابطے میں رہنے والے افراد کو ٹریک کرنے کے لیے دہشت گردوں کا پتہ لگانے والی خفیہ ٹیکنالوجی استعمال کررہی ہے۔ آئی ایس آئی کی طرف سے جیوفینسنگ اور فون مانیٹرنگ سسٹمزکا استعمال کیا جا رہا ہے جو عمومی طور پر مقامی اور غیرملکی دہشت گردوں کے اہداف تک پہنچنے کے لیے تعینات کیے جاتے تھے۔ ملک دشمنوں کی تلاش کی بجائے کرونا متاثرین کو ڈھونڈنے کیلئے ٹریکنگ اینڈ ٹریسنگ سسٹم کے نفاذ سے شدید سیکیورٹی خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
ٹریس اینڈ ٹریکنگ سسٹم بارے انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ جیو-فینسنگ ایک محتاط ٹریکنگ سسٹم ہے جو کسی شخص کی جانب سے مخصوص جغرافیائی علاقے سے نکلنے پر حکام کو خبردار کرتا ہے، اسی نظام سے حکام کو لاک ڈاؤن کیے گئے علاقوں کی نگرانی میں مدد ملی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکام نگرانی کے لیے کرونا وائرس کے مریضوں کی کالز بھی سن رہے ہیں کہ ان کے رابطے میں موجود افراد علامات سے متعلق بات کررہے ہیں یا نہیں۔
انٹیلی جنس ذرائع کا اس حوالے سے مزید کہنا ہے کہ ٹریس اینڈ ٹریکنگ سسٹم بنیادی طور پر ہمیں کورونا مریضوں اور ان سے رابطے میں رہنے والے افراد کے موبائل فونز ٹریک کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ایجنسیز اب ‘کافی مؤثر طریقے’ سے کورونا وائرس کے کیسز کو ٹریک کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کررہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نظام کے ذریعہ حکومت مریضوں کا پتہ لگانے میں کامیاب رہی ہے یہاں تک کہ ایسے مریض بھی سامنے آئے جو کرونا پازیٹو تھے اور اپنا مرض چھپارہے تھے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کے گروپوں نے ملک میں کرونا مریضوں کی شناخت کیلئے نافذ العمل ٹریس اینڈ ٹریکنگ سسٹم بارے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکام کی طرف سے کرونا متاثرین کی شناخت کے عمل میں آئی ایس آئی کو شامل کرنے سے غیر ضروری خوف پھیل رہا ہے جبکہ فون ریکارڈ کرنے سے عوام کی پرائیویسی ختم ہو گئی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ مریضوں اور مشتبہ کیسز کی ٹریکنگ اور ٹریسنگ کا کام صوبائی حکومتوں اور مقامی کمیونیٹیز کی جانب سے کیا جانا چاہیے، انٹیلی جنس ایجنسیز کو اپنے اصل کام ملک دشمنوں کی تلاش پر اپنی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔
دوسری طرف قانونی ماہرین ٹریس اینڈ ٹریکنگ سسٹم کے تحت کرونا وبا کی روک تھام کی آڑ میں لوگوں کے موبائل فون کا ڈیٹا ان کی اجازت کے بغیر استعمال کرنے، ان کی لوکیشن اور کال ریکارڈز تک رسائی حاصل کرنے کو غیر قانونی قرار دے رہے ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حکومتی عمل آئین پاکستان میں عوام کو دئیے گئے حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے اور ایک غیر قانونی عمل ہے. حکومت کو کسی آئینی پیچیدگی سے بچنے کیلئےفوری اس عمل سے پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ آئین کی شق 14 کے مطابق پرائیویسی یا رازداری پاکستان کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ کی دفعہ38 کے مطابق کوئی ادارہ یا کوئی فرد اگر کسی شخص کی ذاتی معلومات بغیر رضامندی کے ظاہر کرتا ہے تو یہ جرم تصور ہو گا.انہوں نے کہا کہ یہ رسائی صرف جوڈیشل وارنٹ کے ذریعے ہی ممکن ہے لیکن وہ بھی صرف ان حالات میں جب کسی جرم کی تحقیقات کرنی ہوں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان میں دوسرے ملکوں کے برعکس ڈیٹا پروٹیکشن قوانین تو موجود نہیں لیکن آئین کے دیے گئے حقوق کی بنا پربلا اجازت عوام کی ذاتی معلومات تک رسائی کا عمل غیر قانونی ہے۔
