کرونا کا توڑ ڈیکسامیتھازون بھی مارکیٹ سے غائب ہونا شروع

https://www.youtube.com/watch?v=9DLIS5STZKk
برطانوی محکمہ صحت کی جانب سے ڈیکسامیتھازون نامی دوا کو کرونا وائرس کے علاج کے لیے مفید قرار دیے جانے کے بعد پاکستانی ذخیرہ اندوزوں نے ماضی کی طرح اسے بھی مارکیٹ سے غائب کر کے سٹاک کرنا شروع کر دیا ہے حالانکہ یہ ایک انتہائی سستی دوا ہے جو دہائیوں سے پاکستان میں مختلف امراض کے علاج میں استعمال ہو رہی ہے۔
پاکستانی ڈاکٹروں کے مطابق ڈیکسامیتھازون بنیادی طور پر ایک سٹیرائیڈ ہے جو انسانی جسم میں قدرتی طور پر پیدا ہونے والے ایک ہارمون سے مماثلت رکھتا ہے۔ یہ ہارمون گردے کے غدودوں یعنی ایڈرینل گلینڈ سے خارج ہوتا ہے اور جسم میں سوجن کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے اس لیے جب جسم قدرتی طور پر یہ ہارمون کم بنا رہا ہو یا نہ بنا رہا ہو تو ڈیکسامیتھازون سٹیرائیڈ دیا جاتا ہے۔ ڈیکسامیتھازون جوڑوں کے درد، دمے، جلد اور آنکھوں کی بیماریوں، الرجی اور چند اقسام کے کینسر کے علاج میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ یہ دوا مارکیٹ میں دو سو روپے میں دستیاب ہے۔ اسے مریض کو منہ کے ذریعے یا انجیکشن کے ذریعے بھی دیا جا سکتا ہے۔تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں لالچ کے مارے ذخیرہ اندوزوں نے اس دوا کو بھی ھائیڈراکسی کلوروکین کی طرح مارکیٹ سے غائب کرکے سٹاک کرنا شروع کردیا ہے تاکہ اسے مہنگے داموں فروخت کیا جا سکے۔
برطانیہ میں ماہرین نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ کرونا سے شدید بیمار مریضوں کی زندگی اس سستی اور وسیع پیمانے پر دستیاب دوا سے بچائی جا سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ اس مہلک وائرس کے خلاف جنگ میں کم مقدار والی سٹیرائڈ دوا ڈیکسامیتھازون سے کامیاب علاج ایک ’زبردست پیش رفت‘ ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ دوا کرونا وائرس کے ایسے مریضوں کو مرنے سے بچا سکتی ہے جو مصنوعی تنفس یعنی وینٹیلیٹر کا سہارا لے رہے ہوں۔ یا پھر انھیں سانس لینے میں دقت سے بچانے کے لیے آکسیجن دی جا رہی ہو۔برطانیہ میں اس انتہائی عام اور سستی دوا کو دیگر چند ادویات کے ساتھ کورونا کے مریضوں کے علاج کے لیے کافی عرصے سے تجرباتی طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
طبی ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ڈیکسامیتھازون وینٹیلیٹر پر موجود مریضوں میں سے ایک تہائی کو بچا سکتی ہے۔ اگر 25 مریض آکسیجن پر ہوں تو ان میں سے ایک جبکہ وینٹیلیٹر پر موجود آٹھ میں سے ایک مریض کو یہ دوا مرنے سے بچا سکتی ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں پہلے سے ہی وینٹیلیٹرز زیادہ تعداد میں دستیاب نہیں، یہ دوا شدید بیمار افراد کی زندگیاں بچانے میں کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے کچھ سوالات جواب طلب ہیں۔ کیا پاکستان میں اس کو فوری طور پر کرونا کے انتہائی علیل مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟ کیا پاکستان میں یہ دوا موجود ہے اور اگر ہے تو کتنی تعداد میں میسر ہے؟ان سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وفاقی حکومت کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ڈیکسامیتھازون کے حوالے سے برطانوی ڈاکٹروں کی کامیابی کو سراہتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ’ایک کمیٹی کرونا کے شدید علیل مریضوں کے علاج میں اس دوا کے استعمال کا جائزہ لے گی جس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ اسے طریقہ علاج میں شامل کیا جائے یا نہیں۔‘ یہ مارکیٹ میں با آسانی دستیاب ہے تاہم اس کا صحیح تخمینہ لگانے کے لیے متعلقہ اداروں کو احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
اس دوا کے حوالے سے آنے والی اطلاعات کے بعد عام پاکستانی یہی سوچ رہا ہوگا کہ اب پاکستان میں ڈاکٹروں کا کام آسان ہو گیا ہے، اور وہ وینٹیلیٹر پر موجود مریضوں کو محض یہ دوا دے کر بچا سکتے ہیں؟ لیک ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ڈاکٹر ظفر اقبال لاہور کے شیخ زید ہسپتال کے سابق چیئرمین اور امراضِ باطنیہ کے ماہر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ یہ عام سی سستی دوا پاکستان میں بھی کئی دہائیوں سے استعمال ہو رہی ہے۔ تاہم اس کی جو خصوصیت اسے کرونا کے مریضوں کے علاج میں مددگار بناتی ہیں وہ سوجن کو کم کرنا ہے جو جسم کے مدافعتی نظام کے ضرورت سے زیادہ متحرک ہونے کے وجہ سے ہو جاتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کرونا کے مریضوں کے علاج میں ڈیکسامیتھازون کیسے مدد کرتی ہے؟
ڈاکٹر ظفر اقبال کے مطابق کیونکہ یہ دوا ایک سٹیرائیڈ ہے اور لوگ زیادہ عرصے کے لیے کھانا شروع کر دیتے ہیں اس لیے وہ اپنی مریضوں کو یہ کم تجویز کرتے ہیں۔ تاہم اس کی دو خصوصیات کرونا کے انتہائی شدید بیمار مریضوں کے علاج میں مفید ثابت ہوتی ہیں۔ ’دوسرے سٹیرائیڈز کے مقابلے میں یہ پانی جسم میں قید نہیں کرتی یا روکتی نہیں ہے اور کووڈ 19 کے مریضوں میں پانی کے ’ریٹینشن‘ ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔‘
اس کی سب سے بڑی خاصیت ڈاکٹر ظفر اقبال کے مطابق جسم کے مدافعتی نظام کو وائرس کا مقابلہ کرتے ہوئے غیر ضروری طور پر شدید ردِ عمل سے روکنا ہے جو جسم میں نالیوں میں سوزش کا سبب بنتا ہے اور اس سے انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’جوں جوں وائرس جسم میں بڑھتا ہے تو مدافعتی نظام شدید ردِ عمل دینا شروع کر دیتا ہے جس کے وجہ سے سانس کی نالیوں میں سوزش ہو جاتی ہے۔ ’سوزش ہو جائے تو جسم کے اندرونی اعضا تک آکسیجن نہیں پہنچ پاتی اور اس طرح اندرونی اعضا آہستہ آہستہ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔‘
کورونا کے شدید علیل مریضوں میں بھی مدافعتی نظام اسی طرح شدید ردِ عمل دے سکتا ہے جو مریض کی موت کا سبب بن سکتا ہے۔ڈیکسامیتھازون جسم میں ہونے والے اس سوزش کو روکتی ہے جس کے وجہ سے کووڈ کے مریض کی زندگی بچائی جا سکتی ہے۔ تاہم ڈاکٹر ظفر اقبال کے مطابق جہاں ڈیکسامیتھازون سوزش کو کم کر کے مدافعتی نظام کو درست حالت میں رکھنے میں مدد دیتی ہے وہیں دوسری طرف یہ جسم میں ’وائرل لوڈ‘ یعنی وائرس کی تعداد کو بڑھا دیتی ہے۔ ’یہ دوا وائرس کو مارتی تو نہیں اس لیے یہ وائرس کو کلیئر نہیں کرتی بلکہ جسم میں وائرس کی تعداد کو بڑھا دیتی ہے۔‘ اس کارروائی کا تعلق اس کی اس خصوصیت سے ہے جو مدافعاتی نظام کو پر سکون کرنے کا ہے۔
ڈاکٹر ظفر اقبال کے مطابق یہی وجہ ہے کہ کرونا کے ایسے مریض جن میں علامات معمولی یا درمیانے درجے کی ہوں انھیں یہ دوا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ ’ورنہ ان کے جسم میں وائرل لوڈ بڑھ سکتا ہے اور ان کی بیماری عام سے شدید نوعیت کی ہو جائے گی۔‘ڈاکٹر ظفر اقبال کے مطابق ڈیکسامیتھازون کیونکہ وائرل لوڈ کو بڑھا سکتی ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ مریض کو ساتھ ہی اینٹی وائرل ادویات دی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے ماہرین نے اس کی افادیت کے حوالے سے بتایا ہے تاہم ’اس کے ساتھ جو دوسری ادویات مریضوں کو دی گئیں ان کے بارے میں تاحال زیادہ معلومات نہیں ہیں۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button