کرونا علاج کیلئے پلازمہ کی غیر قانونی خرید و فروخت شروع

https://www.youtube.com/watch?v=xBAekCmZP8s&t=5s
جہاں پاکستان میں کرونا وائرس سے صحت یابی کے بعد کئی لوگ پلازمہ عطیہ کر رہے ہیں وہیں ایک مافیا نے پیسے بنانے کے لیے پلازمہ کی غیر قانونی خرید و فروخت بھی شروع کر دی حالانکہ کووڈ 19 کے مریضوں کے ممکنہ علاج کے حوالے سے فی الحال پاکستانی ڈاکٹرز مکمل طور پر مطمئن نہیں۔
وازت قومی صحت کی منظوری سےملک کے کئی ہسپتالوں میں پلازمہ تھراپی کے کلینکل ٹرائلز جاری ہیں۔ تاہم اس ادارے نے خبردار کیا کہ پلازمہ تھراپی کو کرونا وائرس کا علاج نہیں سمجھا جانا چاہیے بلکہ اس سے مریض کو الرجی یا دوسری بیماریوں جیسے ایچ آئی وی یا ہیپاٹائٹس کی منتقلی کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔کرونا وائرس کے سنگین مریضوں کے لواحقین مہنگے داموں داوئیں خریدنے اورپلازمہ کے عطیوں کے لیے سوشل میڈیا پر پوسٹس ڈالنے پر مجبور ہیں۔ پلازمہ کے حصول کے لیے تگ ودو بڑھنے کے بعد یہ خبریں بھی گردش کرنے لگیں کہ اس کی غیر قانونی خرید و فروخت شروع ہو گئی ہے، بعض حلقوں نے ان خبروں کو ایک افواہ قرار دیا تو بعض نے کہا کہ غربت زدہ اور معاشی بدحالی سے متاثر طبقے اب پیٹ پالنے کے لیے یہی کریں گے۔
لاہور کے ضوریزریاض کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کے لیے ’کرونا ریکوورڈ واریئرز‘ نامی ایک فیس بک گروپ چلاتے ہیں، جہاں پلازمہ ڈونرز اور ضرورت مند ایک دوسرے سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ ضوریز کا کہنا ہے کہ یہ ذمہ داری سنبھالنے کے بعد ان کا بعض ایسے ’ڈونرز‘ سے بھی واسطہ پڑا جو پلازمہ دینے کے عوض پیسوں کا مطالبہ کررہے تھے۔ یہ ایک مافیا ہے جو کافی تیاری کے ساتھ ایسی خبریں پھیلاتے ہیں۔ ان کو آسانی کے ساتھ ٹریس نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سوشل میڈیا پر مختلف گروپوں اور فورمز پر ایک ہمدردانہ اپیل کرتے ہیں، لیکن جب ان کی تصدیق کرنے جائیں تو نہ کوئی مریض ہوتا ہے اور نہ ہسپتال۔‘
جہاں وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے پلازمہ کا حصول جاری ہے وہیں نئی تحقیقات اور اعلانات نے عوام کو کشمکش میں ڈال دیا ہے۔ وزارت قومی صحت نے ادویات کی نگرانی کے ادارے ڈریپ کو پلازمہ تھراپی کی جانچ کی نگرانی کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔تاہم تقریباً دو ہفتے قبل چین کے اس اعلان کے بعد کہ پلازمہ سے مریضوں کو کوئی خاص شفایابی نہیں مل رہی، اب وزارت قومی صحت نے ایک اعلان میں پلازمہ تھراپی کو کرونا وائرس کا علاج سمجھنے سے گریز کرنے کی تاکید کی۔وزارت قومی صحت کے مطابق کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے پلازمہ کا استعمال ابھی ایک تجرباتی تھراپی ہے اور اس پر کلینکل ٹرائلز صرف حکومت سے منظور شدہ ہسپتالوں میں قابل معالجوں کی نگرانی میں جاری ہیں۔ تاہم ابھی اس تھراپی کے موثر ہونے کے حق میں یا اس کے خلاف ڈیٹا ناکافی ہے۔وزارت قومی صحت کی گائیڈلائنز کے مطابق پلازمہ تھراپی پر تحقیق کرنے والوں کو اپنے پروٹوکول کے لیے حکومت سے منظوری حاصل کرنی چاہیے اور ان کا ادارہ وزارت صحت سے منظور شدہ ہونا چاہیے جس میں نگرانی کے تحت تھراپی شروع کی جاسکتی ہے۔ ادارے نے شہریوں کو اگاہ کیا کہ وہ پلازمہ تھراپی کے بارے میں جاننے یا کلینکل ٹرائل میں اندارج کروانے کے لیے منظور شدہ ہسپتالوں سے رابطہ کریں اور بلڈ بینکس یا دیگر ہسپتالوں سے پلازمہ نہ خریدیں۔
پلازمہ کی افادیت کے بارے میں اگرچہ ایک کنفیوژن ہے تاہم بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ پلازمہ کو پرانے وقتوں میں ہسپانوی فلو کی وبا کے دوران استعمال کیا جا چکا ہے جبکہ ایبولا اور سارس میں بھی پلازمہ کی منتقلی کا طریقہ علاج اپنایا جا چکا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق پلازمہ کی منتقلی کے لیے سب سے پہلے ایسے شخص کی فٹنس دیکھی جاتی ہے اور پھر اس کے ضروری ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ تب ہی فیصلہ کیا جاتا ہے کہ وہ پلازمہ دینے کے قابل ہے بھی یا نہیں۔ واضح رہے کہ طبی ماہرین کے مطابق پلازمہ عطیہ کرنے کے شرائط میں یہ ضروری ہے کہ صحت یاب مریض کے دو ٹیسٹ منفی آئے ہوں اور آخری ٹیسٹ منفی آنے کے بعد بھی وہ 14 دن قرنطینہ میں گزار چکا ہو۔
