کر اچی سے لاپتہ دعا زہرہ شوہر سمیت پولیس کی تحویل میں

کراچی سے گزشتہ ماہ لاپتہ ہونیوالی لڑکی دعا زہرہ کوکراچی اور پنجاب پولیس کے مشترکہ آپریشن کے بعد بہاولنگر سے بازیاب کرا لیا گیا۔

ایس ایس پی زبیر نذیر شیخ نےبتایا کہ پولیس کی جانب سے دعا زہرہ کے شوہر کو بھی حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے،دعا زہرہ اور ظہیر احمد دونوں کو قانونی تقاضوں مکمل کرنے کے بعد کراچی لایا جائے گا۔

پولیس حکام کا کہنا تھادعا زہرا کی بازیابی کے لیے پاکستان بھر میں چھاپے مارے گئے، کراچی پولیس نے پنجاب سے لے کر کشمیر اور دیگر صوبوں میں بھی چھاپے مارے، سینکڑوں افراد کا ڈیٹا شارٹ لسٹ کے بعد پولیس نے چیک کیا اور دعا زہرا کو بازیاب کروایا گیا، دعا کے والد نے مقدمہ درج کروانے کے بعد عدالت کو درخواست کی تھی کہ دعا زہرا اور ظہیر احمد کی 17 اپریل کو ہونے والی شادی غیر قانونی قرار دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخ پیدائش کے مطابق نکاح کے وقت دعا زہرا کی عمر 14 سال سے کم تھی، کم عمری کی شادی چائلڈ میرج ایکٹ 2013 کے تحت جرم ہے۔ نادرا ریکارڈ کے مطابق بھی دعا زہرا کی عمر 13 سال بنتی ہے۔

یاد رہے کہ عدالتی احکامات کے بعد سندھ پولیس نے دعا زہرہ کی بازیابی کے لیے وزارت داخلہ سے مدد مانگی تھی جبکہ سندھ ہائی کورٹ نے دعا زہرہ کو 10 جون کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا،30 مئی کو کراچی سے لاپتا ہوکر پنجاب پہنچنے والی دعا زہرہ کیس میں والدہ کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کے دوران لڑکی کی بازیابی میں ناکامی پر عدالت نے آئی جی سندھ کو عہدے سے ہٹاتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو دوسرا افسر تعینات کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیے تھے کہ ہم نے آخری موقع دیا تھا لیکن بچی بازیاب نہیں ہوئی ہے، ہم آئی جی سندھ کو شوکاز نوٹس جاری کریں گے، اگر بچی کو 10 جون تک پیش کردیا تو شوکاز نوٹس واپس لے لیں گے۔

سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے جاری تحریری حکم نامے میں عدالت نے آئی جی سندھ کامران افضل سے چارج لینے کا حکم دیتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہدایت جاری کی گئی تھی کہ آئی جی سندھ کا چارج کسی اہل افسر کو دیا جائے۔
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ صوبے کی پولیس اتنی نااہل ہوچکی ہے، عدالت 21 دن سے احکامات جاری کر رہی ہے، بچی کو بازیاب نہیں کروایا گیا، پولیس بچی کو بازیاب نہیں کروائے گی تو کون بچی کو بازیاب کروائے گا۔

عدالت نے 28 مئی کی سماعت میں انسپکٹر جنرل پولیس ( آئی جی پی) پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت دی ہے دعا زہرہ اور نمرہ کاظمی کو بازیاب کروا کر 30 مئی کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

یاد رہے کہ کراچی کے علاقے گولڈن ٹاؤن سے 14 سالہ لڑکی دعا زہرہ لاپتا ہوگئی تھی جس کے بعد پولیس نے اس کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے بھی مارے تھے تاہم پولیس دعا زہر کو تلاش کرنے میں ناکام رہی تھی، دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دعا زہرہ کے اغوا کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے تفیصلی رپورٹ طلب کی تھی، دعا زہرہ لاپتا کیس کے باعث سندھ حکومت کو سخت تنقید کا سامنا تھا، مختلف حلقوں کی جانب سے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے، تاہم گزشتہ ماہ 25 اپریل کو پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے تصدیق کی تھی کہ دعا زہرہ کا سراغ لگا لیا گیا ہے، وہ خیریت سے ہیں۔

Back to top button