کنسٹرکشن انڈسٹری میں پیسہ لگانے والوں کی انکوائری شروع

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اب ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرنے کی خاطر پاکستان کے نجی تعمیراتی شعبے میں ممنوعہ ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن سے کی گئی سرمایہ کاری کی بھی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ایف آئی اے نے گذشتہ چند ماہ کے دوران نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے والے ایسے افراد کے کوائف اکھٹے کرنے شروع کر دیے ہیں جن کا ماضی میں اتنے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اقتصادی امور کی وزارت نے وزارت داخلہ کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرتے ہوئے آگاہ کیا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے ارکان نے یہ معاملہ اٹھایا ہے کہ پاکستان کے نجی تعمیراتی شعبے میں ان افراد نے بھی سرمایہ کاری کی ہے جن کے مبینہ طور پر کالعدم تنظیوں کے ساتھ بلواسطہ یا بلاواسطہ تعلقات رہے ہیں۔ وزارتِ داخلہ کو یہ بھی بتایا گیا کہ یہ افراد شدت پسند تنظیموں کو ممکنہ طور پر ہنڈی کے ذریعے مالی معاونت بھی فراہم کرتے رہے ہیں۔ اہلکار کے مطابق وزارت داخلہ کے حکام نے ایف آئی اے کے سربراہ کو اس معاملے کی تحقیقات کر کے رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔ اُن کے مطابق ایف آئی اے کے حکام کو اس بارے میں رپورٹ جلد از جلد مکمل کر کے پیش کرنے کا کہا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق تعمیراتی شعبے میں ممنوعہ ذرائع سے سرمایہ کاری کرنے کے معاملے میں اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور کراچی پر زیادہ توجہ دی گئی ہے کیونکہ زیادہ تر تعمیراتی سرگرمیاں ان شہروں میں جاری ہیں۔ ان شہروں میں تعینات ایف آئی اے کے ڈائریکٹرز کو تفتیش کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ ایف آئی اے کے ذرائع کے مطابق ایف بی آر اور محکمہ مال کے افسران اس معاملے میں ایف آئی اے کی معاونت کر رہے ہیں اور اس ضمن میں مختلف نجی ہاوسنگ سوسائٹیز میں گذشتہ دو، تین ماہ کے دوران بڑے پیمانے پر خریدے گئے رہائشی اور کمرشل پلاٹس کی تفصیلات بھی معلوم کی جا رہی ہیں اور جن افراد نے یہ رہائشی اور کمرشل پلاٹس خریدے ہیں ان کے کوائف بھی حاصل کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں نجی تعمیراتی شعبے سے وابسطہ امجد جاوید کا کہنا ہے کہ چند روز قبل ایف آئی اے کی ٹیم ان کے پاس آئی تھی اور ان سے ان افراد کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں جنھوں نے ان کے توسط سے مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیز میں رہائشی اور کمرشل پلاٹس خریدے تھے۔ ایف آئی اے کے ایک اہلکار کے مطابق تحقیقات کے دوران کچھ ایسے نام سامنے آئے ہیں جنھوں نے اس سے پہلے اتنے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری نہیں کی تھی اور اس کے علاوہ ایف بی آر کے پاس بھی ان کا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اہلکار کے مطابق ان افراد کو تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کے بارے میں کہا گیا ہے تاہم جب ان سے افراد کے ناموں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ جب تک تحقیقات مکمل نہ ہو جائیں تو اس وقت تک ان افراد کے نام ظاہر نہیں کیے جا سکتے۔ انھوں نے کہا کہ راولپنڈی رنگ روڈ سے متصل ہاؤسنگ سوسائٹیز میں جو حالیہ سرمایہ کاری ہوئی ہے اس کی بھی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے کہ کہیں ان میں ان افراد یا تنظیموں نے سرمایہ کاری تو نہیں کی جن پر شدت پسند تنظیموں کو مالی معاونت فراہم کرنے کا الزام ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق اس معاملے کو بھی دیکھا جارہا ہے کہ ان پلاٹوں کی خریداری کے لیے ٹرانزیکشن ہنڈی یا غیر قانونی ذرائع سے تو نہیں کی گئی۔ اس معاملے پر وزیر اعظم عمران خان کے مشیر احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ جرائم کا پیسہ ہاؤسنگ سمیت کسی بھی سیکٹر میں لگے گا تو اس کی تحقیقات ضرور ہوں گی اور ایف آئی اے بھی یقینی طور پر اس نقطے کو سامنے رکھتے ہوئے تحقیقات کر رہی ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ اگر اداروں کو یہ معلوم ہو جائے کہ غیر قانونی ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی دہشت گردی یا ملک دشمن سرگرمیوں میں استعمال ہو گی تو ادارے ان معاملات کی چھان بین کرنے کے پابند ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے 2019 میں جو ٹیکس ایمنسٹی کا اعلان کیا تھا اس میں یہ واضح طور پر کہا گیا تھا کہ جرائم سے حاصل کی جانے والی آمدن کو کسی طور پر بھی تحفظ حاصل نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس سکیم سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک سیکریٹریٹ بنایا گیا ہے جس میں تمام معاملات کی نگرانی کی جاتی ہے، انھوں نے کہا کہ ایف آئی اے بھی اپنی تحققیات مکمل کر کے رپورٹ اسی سیکریٹریٹ میں جمع کروائے گی۔ انھوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں اس تنظیم کی جانب سے پاکستان کے بارے میں جو ریمارکس یا آبزرویشن دی جاتی ہیں وہ زیادہ تر اخباری خبروں سے ہی لی جاتی ہیں۔
