کوئٹہ:پولیس وین پر خودکش حملہ، دو افراد شہید، 24 زخمی

بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ صبح سویرے دھماکے سے لرز اٹھا، خودکش حملہ آور نے پولیس وین کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دو افراد شہید، 20 اہلکاروں سمیت 24 افراد زخمی ہوگئے۔پولیس حکام کے مطابق دھماکے کا نشانہ بننے والے بلوچستان کانسٹیبلری کے اہلکار پولیو ڈیوٹی کے سلسلے میں کچلاک کی جانب جا رہے تھے، میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس غلام اظفر مہیسر نے کہا کہ دھماکہ خود کش تھا جس میں 20 سے 25 کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں بلوچستان کانسٹیبلری کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں اہلکار ڈیوٹی پر جارہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ دھماکے میں ایک پولیس اہلکار سمیت کم ازکم دو افراد ہلاک اور 24 افرد زخمی ہوئے ہیں جن میں 20 پولیس اہلکار شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی زد میں آنے کے باعث تین دیگر گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو طبی امداد کے لیے کوئٹہ کے سول ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے بلوچستان کے نواحی علاقے بلیلی میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس کی گاڑی پر دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں نے وزیر اعظم شہباز شریف نے واقعے میں ہلاک و زخمی ہونے والوں سے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ پولیو اہلکار ملک سے اس موذی مرض کے خاتمے کے لیے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر یہ فریضہ سر انجام دے رہے ہیں، جس پر وہ انھیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پولیو اہلکار شرپسند عناصر کی ان مذموم کوششوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے جبکہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ’ دھماکہ بظاہر خودکش لگتا ہے۔ شرپسند عناصر کا ہدف پولیس پارٹی تھی، بلوچستان حکومت سے وقوعہ کی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے، وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ بلیلی چیک پوسٹ دھماکے میں پولیس اہلکاروں اور بچے کی ہلاکت پر دکھ اور افسوس ہے۔
