پی ٹی آئی نے ریاست مخالف بیانیے سے نئی نسل کو گمراہ کیا، اختیار ولی خان
مسلم لیگ ن کے رہنما کا پی ٹی آئی پر 9 مئی واقعات، ریاست مخالف سیاست اور خیبرپختونخوا میں بدانتظامی کے الزامات، قوم سے سیاسی دعوؤں اور عملی اقدامات کا جائزہ لینے کی اپیل

پشاور (نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اختیار ولی خان نے پاکستان تحریک انصاف پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پارٹی نے ریاست مخالف بیانیے کے ذریعے نئی نسل کو گمراہ کیا اور ریاستی اداروں کے خلاف منفی سوچ کو فروغ دیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں نے 9 مئی جیسے واقعات میں حصہ لیا، جبکہ پارٹی سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کی جانب سے قومی شخصیات اور دو قومی نظریے کے حوالے سے بھی نامناسب بیانات سامنے آئے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے بعض ارکان اپنے سیاسی قائد کو قائداعظم محمد علی جناح سے بھی بڑا رہنما تصور کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جی ایچ کیو پر حملے کے مقدمات میں گرفتار افراد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ویڈیوز سے ان کے سیاسی تعلقات کے حوالے سے شواہد سامنے آئے، تاہم پی ٹی آئی قیادت ان واقعات سے لاتعلقی ظاہر کرتی رہی ہے۔
اختیار ولی خان نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے دور میں ریاست اور فوج کے خلاف منفی بیانیہ پروان چڑھایا گیا اور نوجوان نسل کو ریاستی اداروں کے خلاف متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زیارت ریزیڈنسی، کرنل شیر خان کے مجسمے، چکدرہ قلعہ اور ریڈیو پاکستان پشاور سمیت مختلف قومی تنصیبات اور علامتی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ علامہ محمد اقبال کے نظریات اور قیام پاکستان کے تاریخی پس منظر کا مذاق اڑانے والے ملک کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے۔
اختیار ولی خان نے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبے میں میرٹ اور گورننس کے حوالے سے سنگین سوالات موجود ہیں، جبکہ اسپتالوں سمیت مختلف سرکاری اداروں کی صورتحال بھی تسلی بخش نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ریاست مدینہ کا نعرہ لگا کر عوام سے ووٹ حاصل کیے، لیکن ان کے بقول اس دور میں حج اور عمرہ مزید مہنگے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے والی جماعت سے عوام کو اس کی کارکردگی کے بارے میں سوال کرنا چاہیے۔
اختیار ولی خان نے منشیات کے کاروبار سے وابستہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد کو سیاسی یا حکومتی تحفظ نہیں ملنا چاہیے۔
انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اقتدار میں آنے سے قبل مالی مشکلات کا شکار بعض افراد آج بڑے کاروبار اور جائیدادوں کے مالک بن چکے ہیں، لہٰذا ان کے اثاثوں اور مالی معاملات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔
مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں نیب کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا گیا اور احتساب کے نظام کو سیاسی مقاصد کے لیے بروئے کار لایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کو کچھ عرصے کے لیے نعروں سے متاثر کیا جاسکتا ہے لیکن مستقل طور پر حقائق سے دور نہیں رکھا جاسکتا۔ قوم کو سیاسی جماعتوں کے دعوؤں، پالیسیوں اور عملی اقدامات کا جائزہ لینا چاہیے۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ نئے پاکستان اور انقلاب کے دعوے کرنے والوں کے بیانات اور اقدامات میں واضح تضاد رہا، جبکہ ملک کو معاشی مشکلات اور آئی ایم ایف پر انحصار کی طرف دھکیلا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ عوام سیاسی نعروں کے بجائے کارکردگی اور حقائق کو بنیاد بنا کر فیصلے کریں۔
