سیاسی مخالفت کو دشمنی میں نہیں بدلنا چاہیے، پیپلزپارٹی سے شکایت کی امید نہیں تھی: نواز شریف

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ سیاسی مخالفت کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے، ہمیں امید نہیں تھی کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے شکایت کا کوئی موقع ملے گا۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ سیاسی مخالفین کے ساتھ اچھا سلوک کیا ہے، سیاست میں مخالفت کو اتنا آگے نہیں لے جانا چاہیے کہ تعلقات دشمنی میں بدل جائیں۔ کشمیر کا سیاسی ماحول ہمیشہ اچھا رہا ہے۔
آزاد کشمیر کے انتخابات میں کامیاب امیدواروں کو مبارکباد دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ انتخابات کے پہلے دو مراحل میں مسلم لیگ ن کو اکثریت حاصل ہوچکی ہے، جو امیدوار کامیاب نہیں ہوسکے انہیں بھی شاباش دیتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ اگر آزاد کشمیر میں حکومت نے ڈیلیور نہ کیا تو عوام ناراض ہوں گے۔ آزاد کشمیر میں پہلے پیپلزپارٹی کی حکومت تھی اور اب عوام کی فلاح و بہبود ہماری اولین ترجیح ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ جب شہباز شریف نے حکومت سنبھالی تو ملکی حالات انتہائی خراب تھے، پنجاب میں ترقی کی بنیاد شہباز شریف نے رکھی جسے مریم نواز نے آگے بڑھایا۔ آزاد کشمیر کے عوام بھی پنجاب کی ترقی کی جانب دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مخالفین نے صرف نعرے لگائے اور ترقی کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے، تاہم ملک اب پیچھے نہیں بلکہ آگے بڑھ رہا ہے اور بہت جلد مسائل پر قابو پالیں گے۔
نواز شریف نے کہا کہ آزاد کشمیر کے طلبہ کو لیپ ٹاپس اور اسکالرشپس فراہم کیے جائیں، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف آزاد کشمیر کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز مختص کریں۔ آزاد کشمیر میں کسان کارڈ بھی متعارف کرایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ امیر مقام اور رانا ثنا اللہ نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں دن رات محنت کی، امیر مقام ایسے انتخابی مہم چلا رہے تھے جیسے یہ ان کا اپنا الیکشن ہو۔ جس طرح پنجاب کو بدلا گیا، اسی طرح آزاد کشمیر کو بھی ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔
نواز شریف نے آزاد کشمیر کی آئندہ کابینہ کے انتخاب میں میرٹ کو ترجیح دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن نے اپنے منشور پر سو فیصد عمل کرنا ہے اور آزاد کشمیر میں ترقیاتی منصوبے بھرپور انداز میں شروع کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ شہباز شریف ملک کو ترقی کی جانب لے جانے کے لیے کوشاں ہیں، آزاد کشمیر کو بھی ترقی کے میدان میں پنجاب کے برابر لانا چاہیے۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر ایک پہاڑی علاقہ ہے، اس لیے یہاں کے وزیراعظم کے پاس ہیلی کاپٹر ہونا ضروری ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف آزاد کشمیر حکومت کو ہیلی کاپٹر فراہم کریں۔
آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے لیے ن لیگ کا اجلاس
اس سے قبل مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کی زیر صدارت مرکزی قیادت کا اہم اجلاس ہوا، جس میں آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے امور پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے آزاد کشمیر اسمبلی کے نومنتخب ارکان نے شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں آزاد کشمیر کے آئندہ وزیراعظم کے نام پر بھی غور کیا گیا۔ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط امیدوار ہیں، جبکہ طارق فاروق، کرنل (ر) وقار اور راجہ فاروق حیدر کے نام بھی زیرِ غور ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر پارلیمانی پارٹی نے وزیراعظم کے انتخاب کا اختیار نواز شریف کو دے دیا ہے۔
قبل ازیں مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کی مخصوص نشستوں کے امیدواروں کی فہرست بھی نواز شریف کو ارسال کی گئی تھی۔ خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے ماریہ اقبال ترانہ، ناصرہ خان، مریم کشمیری، نثارہ عباسی اور سحرش قمر کے نام شامل ہیں۔
ٹیکنوکریٹ کی نشست کے لیے راجہ شاداب سکندر، علماء و مشائخ کی نشست کے لیے پیر مظہر سعید جبکہ اوورسیز کی مخصوص نشست کے لیے راجہ محمد جاوید کا نام فائنل کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق مخصوص نشستوں کے امیدواروں کی حتمی منظوری مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف دیں گے۔
