کون ہیں کومل رانی سوارنکر؟ گووندا کے ساتھ تعلقات کی افواہیں کیوں زور پکڑ رہی ہیں
فلم ’روپا‘ کی ساتھی اداکارہ کے ساتھ گووندا کی قربت سے متعلق قیاس آرائیاں تیز، اہلیہ سنیتا آہوجا کے بیانات نے معاملے کو مزید توجہ دلا دی

ممبئی (نیوز ڈیسک) بالی ووڈ اداکار گووندا ایک بار پھر اپنی نجی زندگی کے حوالے سے خبروں میں ہیں، جہاں ان کا نام اپنی آنے والی فلم ’روپا‘ کی ساتھی اداکارہ کومل رانی سوارنکر کے ساتھ جوڑا جارہا ہے۔ گووندا کی اہلیہ سنیتا آہوجا کے حالیہ بیانات نے بھی ان افواہوں کو مزید نمایاں کردیا ہے۔
کومل رانی سوارنکر بالی ووڈ کی نسبتاً نئی اداکارہ ہیں جنہیں گووندا نے رواں برس جولائی میں اپنی آنے والی فلم ’روپا‘ کی ساتھی اداکارہ کے طور پر میڈیا سے متعارف کرایا تھا۔ اس فلم سے قبل وہ مرکزی دھارے کے شائقین میں زیادہ معروف نہیں تھیں۔
رپورٹس کے مطابق کومل رانی کا تعلق بھارتی ریاست اتر پردیش سے ہے، تاہم ان کی عمر، تعلیم، خاندان اور ذاتی زندگی کے بارے میں بہت محدود معلومات سامنے آئی ہیں۔
کومل سوشل میڈیا پر بھی سرگرم رہتی ہیں اور ان کے فالوورز کی تعداد 15 ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔ وہ اپنے فوٹو شوٹس، ذاتی تصاویر اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں سے متعلق مواد شیئر کرتی رہتی ہیں۔
رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ فلم ’روپا‘ کے علاوہ کومل رانی سوارنکر گووندا کے ساتھ ایک اور ممکنہ فلم ’دنیاداری‘ میں بھی نظر آسکتی ہیں، تاہم اس حوالے سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
گووندا اور کومل کو حال ہی میں ممبئی ایئرپورٹ پر ایک ساتھ دیکھے جانے کے بعد دونوں کے درمیان مبینہ تعلقات سے متعلق قیاس آرائیاں مزید تیز ہوگئیں۔
اس معاملے پر گووندا کی اہلیہ سنیتا آہوجا نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ گووندا کے حالیہ فیصلوں اور رویے پر انہیں تحفظات ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے ایک مشہور ہندی کہاوت کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ بعض اقدامات ان کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔
سنیتا آہوجا کا کہنا تھا کہ ماضی میں جب انہوں نے اپنے شوہر کی مبینہ بے وفائی سے متعلق بات کی تو گووندا کے مداحوں نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا، اسی لیے اب وہ چاہتی ہیں کہ میڈیا اور مداح خود صورتحال کا جائزہ لیں۔
گووندا اور سنیتا آہوجا کی شادی 1987 میں ہوئی تھی اور دونوں کے دو بچے ہیں، جن میں بیٹی ٹینا آہوجا اور بیٹا یشوردھن آہوجا شامل ہیں۔
تاہم کومل رانی سوارنکر اور گووندا کے درمیان کسی رومانوی تعلق کی آزادانہ یا باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی، اس لیے فی الحال یہ معاملہ قیاس آرائیوں اور افواہوں تک محدود ہے۔
