ٹریفک سارجنٹ کو گاڑی تلے کچلنے والا سابق ایم پی اے بری

کوئٹہ کی ماڈل عدالت نے ٹریفک سارجنٹ قتل کیس میں سابق رکن صوبائی اسمبلی مجید خان اچکزئی کو باعزت بری کردیا۔کوئٹہ کی ماڈل کورٹ کے جج دوست محمد مندوخیل نے ٹریفک سارجنٹ قتل کیس کی سماعت کی جس میں ملزم سابق رکن صوبائی اسمبلی مجید خان اچکزئی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے دوران سماعت مجید خان اچکزئی کو ٹریفک سارجنٹ قتل کیس سے عدم ثبوت کی بنا پر باعزت بری کر دیا۔
واضح رہے کہ ٹریفک پولیس انسپیکٹر عطا اللہ کی ہلاکت کا واقعہ 20جون 2017 کو کوئٹہ کے زرغون روڈ پر پیش آیا تھا. کوئٹہ کے جی پی او چوک پر ٹریفک سارجنٹ سب انسپکٹر حاجی عطااللہ اپنے فرائض انجام دے رہا تھا کہ پیچھے سے آنے والی گاڑی نے اسے کچل ڈالا، حاجی عطااللہ کو اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ دوران علاج دم توڑ گیا۔حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کےمطابق گاڑی پشتونخوا میپ کے رکن بلوچستان اسمبلی مجید خان اچکزئی کی ہے جو کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کےقریبی عزیز بھی ہیں۔2017 میں بلوچستان کی اسمبلی کے رکن اور اس وقت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین مجید اچکزئی پرسارجنٹ عطاللہ کو گاڑی کی ٹکر سے ہلاک کرنے کا الزام تھا۔اس واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بہت وائرل ہوئی تھی جس میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ انسپکٹر عطاء اللہ کو گاڑی نے پیچھے سے ٹکر ماری تھی۔ یہ گاڑی اس وقت بلوچستان اسمبلی کے رکن مجید خان اچکزئی کی تھی۔پولیس نے ابتدائی طور پر اس واقعے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا تھا تاہم جب اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میڈیا پر نشر ہوئی تو مجید خان اچکزئی کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری واقعے کے تین روز بعد عمل میں آئی تھی۔
کیس اڑھائی سال تک چلتا رہا. 26 دسمبر2019ء کو انسداد دہشتگردی کی عدالت نے سابق رکن صوبائی اسمبلی مجید خان اچکزئی کیخلاف سارجنٹ قتل کیس میں انسداد دہشتگردی کی دفعات ختم کرتے ہوئے مقدمہ سیشن عدالت میں منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ عدالت نے مجید خان اچکزئی کی جانب سے دائر انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 7کو ختم کرنے کی استدعا منظور کرتے ہوئے ٹریفک ساجنٹ قتل کیس سیشن عدالت کو منتقل کردیا تھا، انسداد دہشتگردی کے عدالت میں سارجنٹ قتل کیس میں ملزم کے وکیل کی جانب سے مقدمہ ٹرانسفر کرنے کی درخواست داخل کی گئی تھی۔ اس کیس کی سماعت دو سال تک انسداد دہشتگردی کی عدالت میں چلنے کے بعد ماڈل کورٹ میں منتقل کی گئی تھی. تاہم آج سابق رکن صوبائی اسمبلی کو عدم ثبوت کی بنا پر الزام سے بری کردیا گیا.عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ سابق رکن صوبائی اسمبلی مجید خان اچکزئی کے خلاف ثبوت نہیں ہیں لہذا عدالت سابق ایم پی اے مجید خان اچکزئی کو باعزت بری کرتی ہے۔
