کیا بھنگ پاکستان کی ڈوبتی معیشت کو سہارا دے پائے گی؟

تحریک انصاف حکومت کی جانب سے طبی مقاصد کے لیے بھنگ کی کاشت کی باقاعدہ منظوری کے بعد اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد یہ اعتراض اٹھا رہی ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال کو روایتی طریقوں سے بہتر بنانے کی بجائے کپتان حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد سے کبھی مرغیوں، کبھی انڈوں اور کبھی بچھڑوں کے ذریعے غربت کے خاتمے کے شیخ چلی ٹائپ کے منصوبے بنانے میں مصروف ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اب جنگلی بھنگ کی کاشت کو فروغ دے کر سالانہ اربوں ڈالرز اکٹھے کرنے کا حکومتی منصوبہ بھی خیالی پلاؤ پکانے سے کم نہیں ہے۔
وفاقی حکومت نے طبی مقاصد کے لیے ملک بھر میں بھنگ کی کاشت کی منظوری کیا دی گویا اپنے ناقدین کو تنقید کا نیا جواز فراہم کر دیا۔ اس وقت سوشل میڈیا صارفین دو گروپوں میں تقسیم ہیں جن میں سے ایک تو وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی طرح پوری دنیا میں بھنگ کے استعمال اور اس کی ‘افادیت’ پر دلائل دیتا نظر آ رہا ہے جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی کے ناقدین اس فیصلے پر طنزیہ جملے بازی میں مصروف ہیں۔
ڈاکٹر صائمہ راجہ نامی ایک صارف نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ‘کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ جن سو ارب درختوں کی کاشت کی بات ہوتی رہی وہ دراصل بھنگ کے درخت تھے۔ یہ ہوتا ہے لیڈر اور یہ ہوتا ہے اسکا ویژن۔’ ندیم لیہ نامی صارف نے اپنے ٹویٹر ہینڈ پر یہ ‘معصومانہ’ سوال کیا کہ ‘کیا بھنگ اب قومی پودے کی حیثیت بھی حاصل کر لے گا؟’ ایک اور صارف میمونہ مشتاق نے فقرہ کسا کہ ’دھرنے میں جو دکھائے تھے سبز باغ وہ بھنگ ہی تو تھی۔ ندیم نامی صارف نے لکھا کہ ‘مرغی انڈوں کے بعد ڈوبتی معیشت کو بھنگ کا سہارا۔ ایک اور صارف شعیب ملک نے لکھا کہ ‘مہنگائی کی ٹینشن اب ختم، بھنگ پیو اور سو جاؤ، تمام غم بھول جاو۔ جمیل بخش نامی صارف نے لکھا کہ کہ بالآخر ثابت ہوا کہ کپتان حکومت بھنگیوں کی حکومت ہے اس لئے اس کو پاکستان کے معاشی مسائل کا حل بھی بھنگ کی کاشت میں ہی نظر آیا ہے۔
تاہم کچھ صارفین حکومت کے اس فیصلے کا دفاع کرتے نظر آئے، غیور عباس نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ‘بھنگ کی کاشت کی اجازت پر لوگ مذاق اور ٹھٹہ کر رہے ہیں۔ عرض ہے کہ بھنگ یقینا یہاں ایک سستا نشہ سمجھا جاتا ہے اور زیادہ مذاق اسی بات کی وجہ سے بنا ہے کیونکہ یہ غریب لوگوں کا نشہ ہے تاہم اس کے میڈیکل فوائد کو دنیا تسلیم کرتی ہے۔درویش کے نام سے ٹوئٹر ہینڈل نے لکھا کہ ‘اس پودے کے استعمال کی اتھارٹی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور پی سی ایس آئی آر کو دی گئی ہے۔ یہ ایک خوش آئند اقدام ہے جس کی بدولت پکستان اربوں ڈالر سالانہ کمانے کے قابل ہو جائے گا۔ اچھی بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے آؤٹ آف باکس اپروچ اپناتے ہوئے ایسے طریقوں سے ملکی آمدن بڑھانے کے بارے میں سوچنا شروع کیا ہے جس پر پہلے کسی حکومت نے کبھی غور نہیں کیا۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے یہ اعلان کیا یے کہ انکی وزارت جنگلی بھنگ کی کاشت سے ایک ارب ڈالر ریونیو حاصل کرنے کا پلان تیار کرنے لیے کوشاں ہے۔ فواد چوہدری کے مطابق ملک میں صنعتی طور پر بھنگ کا پودا کاشت کیا جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والا کینابیڈیول یا سی بی ڈی، جو مختلف ادویات میں استعمال ہوتا ہے، اس سے نہ صرف ادویات بنائی جائیں گی بلکہ اسے برآمد بھی کیا جائے گا۔ فواد چوہدری نے بتایا کہ بھنگ کے حوالے سے پاکستان اور افغانستان کی ایک تاریخ رہی ہے۔ چین اب 40 ہزار ایکٹر اور کینیڈا ایک لاکھ ایکٹر پر ہیمپ کی کاشت کر رہا ہے جس سے فائبر بھی بنتا ہے جو ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے کارآمد ہے۔ فواد نے کہا کہ ہیمپ کا استعمال کینسر سمیت دوسری ادویات میں ہو رہا ہے اور ہماری کمرشل منصوبہ بندی میں کوشش ہے کہ ہیمپ کی مارکیٹ اگلے تین سالوں میں قومی خزانے کو ایک ارب ڈالر دے سکے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت کے سابقہ اعلان کردہ انڈوں، مرغیوں اور کٹوں کے ذریعے ملکی معیشت بہتر بنانے کے منصوبوں کی طرح بھنگ کی کاشت کا منصوبہ بھی ہوائی ثابت ہوتا ہے یا واقعی پاکستان کو اربوں ڈالر دیتا ہے۔
