شمالی وزیرستان: فوجی قافلے کے قریب دھماکا، افسر سمیت تین جوان شہید

خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے قافلے کے قریب آئی ای ڈی دھماکے میں ایک افسر اور دو جوانوں سمیت تین اہلکار شہید ہو گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق شمالی وزیرستان میں شگانشپا روڈ پر گھیریوم سیکٹر میں سڑک کی مرمت کرنے والی ٹیم کی حفاظت پر مامور پاک فوج کے دستے کے قریب دہشت گردوں کی جانب سے ریموٹ کنٹرول دھماکا کیا گیا۔دھماکے میں 23سالہ لیفٹیننٹ ناصر حسین خالد، 33سالہ نائیک محمد عمران اور 30سالہ سپاہی عثمان اختر نے جام شہادت نوش کیا۔اس کے علاوہ اس حملے میں مزید 4 فوجی زخمی بھی ہوئے۔دھماکے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل 31اگست 2020 کو صوبہ خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں سرچ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ سے پاک فوج کے 3 جوان شہید ہو گئے۔اس سے پہلے 12 جولائی کو خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران پاک فوج کے 4 جوان شہید ہو گئے تھے جبکہ 4 دہشت گردوں کو بھی ہلاک کردیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ 8 مئی کو بھی میرانشاہ کے علاقے میں ہی ایک سیکیورٹی چیک پوسٹ پر راکٹ حملے میں پاک فوج کے 2 اہلکار شہید ہوگئے تھے۔اس سے قبل اپریل میں ضلع شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں بھی 10 سیکیورٹی اہلکار شہید اور 6 زخمی ہوئے تھے۔اسی مہینے میں 26 اپریل کو شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کی گئی کارروائی کے دوران پاک فوج کے دو جوان شہید ہوگئے تھے جبکہ 9 دہشت گردوں کو بھی ہلاک کیا گیا تھا۔
