عاصم باجوہ معاون خصوصی اطلاعات کے عہدے سے مستعفی

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا۔
اپنے بیان میں عاصم باجوہ نے کہا کہ انہوں نے معاون خصوصی کے عہدے سے استعفی دینے کا فیصلہ کیا ہے البتہ چیئرمین سی پیک اتھارٹی کے عہدے پر کام کرتا رہوں گا۔عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ وزیراعظم سےدرخواست کروں گا کہ معاون خصوصی کے عہدے سے سبکدوش کردیں، فیصلہ کیا ہے کہ میری توجہ ایک طرف ہونی چاہیے ،اسی لیے معاون خصوصی اطلاعات کے عہدے سے استعفی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ وزارت اطلاعات میں مزید قابل لوگ موجود ہیں تو اس لیے وہ کام میں ان کے لیے چھوڑوں گا اور میں اپنا فوکس ادھر ہی رکھوں گا۔انھوں نے مزید کہا کہ سی پیک وزیر اعظم کی بہت بڑی ترجیح ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ ہمارا مستقبل ہے اور سی پیک اتھارٹی میں مجھے میں 10ماہ گزارنے کے بعد میرا اپنا بھی یہی ماننا ہے لہٰذا مجھے امید ہے کہ وزیر اعظم مجھے سی پیک زیادہ توجہ سے کام کی اجازت دے دیں گے۔
عاصم سلیم باجوہ نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں مزید گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا میں کاروبار2002 میں شروع ہوا، 60 ملین ڈالربینک کاقرضہ ہے، 50سرمایہ کار ہیں، کاروبار 2002 میں شروع ہوا تو ایک اسٹور تھا پھر کاروبار بڑھتا گیا،رئیل اسٹیٹ میں بھی کاروبار کیا گیا۔عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ امریکا میں بینکنگ کے علاوہ کسی اور ذریعے سے پیسے جانے کا کوئی سوچ سکتا ہے؟ یہ کاروبار میرے بھائیوں کا ہے وہ اس کو مینج کررہے ہیں، بھائیوں نے تمام کاروبار ڈاکیومنٹ کیا ہوا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ری انویسٹمنٹ ہوئی پھر جو رقم آئی وہ تقسیم بھی ہوئی، کاروبار کے زیادہ تر پیسے بینک قرض میں گئے ہیں، کونسے پیسے کہاں سے کدھر گئے تمام کی 100 فیصد دستاویزات موجود ہیں۔
عاصم سلیم باجوہ نے مزید کہا کہ امریکا میں بھائیوں سے بھی تمام دستاویزات منگوائیں اس کے بعد جواب لکھا، یہاں ڈکلیئریشن میں اہلیہ کے نام 31 لاکھ کی رقم دی ہے، 31 لاکھ وہ سرمایہ کاری ہے جو اہلیہ کے نام پرپاکستان میں ہے وہ یہاں ڈکلیئر کی ہوئی ہے، امریکا والی سرمایہ کاری 19،492 ڈالر پارٹ آف سکسیشن پلان تھی، ڈس انویسٹ کی گئی رقم امریکا میں آباد میرے دو بچوں کو چلی گئی، ڈس انویسٹ کی گئی رقم میں سے کوئی پیسہ پاکستان نہیں آیا، کوئی رقم پاکستان آئی ہوتی تو دستاویز میں ہوتی۔انہوں نے بتایا کہ میری شیئر ہولڈنگ ہے نہ اہلیہ کی، سائیون کمپنی غیر فعال ہے، سائیون بلڈر میں میرے بچے کام کرتے ہیں، سائیون بلڈر کاذکر دستاویز میں اس لیے نہیں کیا کہ یہ صحافی کی اسٹوری میں نہیں تھی، دستاویز ٹیکس ایڈوائزر، قانونی مشیر کو دکھا چکا ہوں، وزیراعظم بھی میری وضاحت کو دیکھ چکے ہیں۔چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ کسی بھی فورم پر دستاویز دکھانے کو تیار ہوں، پاکستان میں جہاں بھی منی ٹریل، دستاویز دینے کی ضرورت ہو پیش کرنےکو تیارہوں۔
عاصم سلیم باجوہ کی جانب سے مستعفی ہونے کے اعلان پر وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا ہے کہ چئیرمین سی پیک اتھارٹی پروفیشنل اور ڈیسینٹ آدمی ہیں، انہوں نے شاید حکومت، خود اور اہل خانہ کو تنازعے سے بچانے کیلئے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا جس کی عزت کرتے ہیں.
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں صحافی احمد نورانی نے عاصم سلیم باجوہ کے بیرون ملک اثاثوں کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں الزامات لگائے تھے جن کی آج عاصم باجوہ نے 4 صفحات پر مشتمل طویل وضاحت اور تردید جاری کی ہے۔اپنے بیان میں عاصم باجوہ نے کہا کہ میں نے عزت، وقار کے ساتھ پاکستان کی خدمت کی ہے اور کرتا رہوں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ایک اور کوشش ناکام ہوگئی، میں خود پر اپنی فیملی پر لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہوں۔
یاد رہے کہ رواں سال 28 اپریل کو سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کو وزیر اعظم کا نیا معاون خصوصی برائے اطلاعات مقرر کردیا گیا تھا جبکہ فردوس عاشق اعوان سے یہ عہدہ واپس لے لیا گیا تھا۔
