کیاعاصم سلیم باجوہ منی ٹریل دیں گے یا استعفیٰ دیں گے؟

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ پر اپنے خاندان کے بیرون ملک سو ارب روپوں سے زائد کے اثاثے ہونے اور انہیں چھپائے جانے کے الزامات لگنے کے بعد اب با خبر حکومتی حلقے یہ دعوی کر رہے ہیں کہ چیئرمین سی پیک اتھارٹی کو وزیراعظم عمران خان کی جانب سے یہ واضح پیغام مل چکا ہے کہ یا تو وہ ان الزامات کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے اپنی منی ٹریل دیں یا اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔
باخبر حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عاصم باجوہ کو وزیراعظم کی جانب سے دیے جانے والے پیغام کی کنفرمیشن وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز بھی ایک پریس کانفرنس میں کر چکے ہیں۔ شبلی فراز نے بتایا تھا کہ ان کی عاصم باجوہ سے خود پر لگنے والے الزامات کے حوالے سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ وہ چند روز میں اس حوالے سے پریس کانفرنس میں اپنا مؤقف واضح کریں گے۔ تاہم شبلی فراز نے اس سوال کا جواب نہیں دیا تھا کہ اگر جنرل باجوہ کے ہاتھ صاف ہیں تو انہیں پریس کانفرنس کرنے اور اپنا موقف بیان کرنے کے لیے کچھ روز کیوں چاہیے۔ یاد رہے کہ معروف پاکستانی صحافی احمد نورانی نے 27 اگست 2020 کو فیکٹ فوکس نامی ایک معروف غیر ملکی ویب سائیٹ میں شائع ایک رپورٹ میں دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ یہ الزام لگایا تھا کہ چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ کا خاندان دنیا کے چار مختلف ممالک میں ایک ہزار کروڑ یعنی سو ارب روپے سے زائد اثاثوں کا مالک ہے اور باجکو گروپ کی سینکڑوں ملکیتی کمپنیوں اور درجنوں کاروباروں میں جنرل باجوہ کے بھائی، انکی بیوی اور بیٹے بھی بطور ڈائریکٹرز شامل ہیں۔ احمد نورانی نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ بھی کیا کہ عاصم باجوہ کے بھائیوں، اہلیہ اور بچوں کی چار ممالک میں 99 کمپنیاں، 130 سے زیادہ فعال فرینچائز ریسٹورنٹس، اور 13 کمرشل جائیدادیں ہیں جن میں سے امریکہ میں دو شاپنگ مال بھی شامل ہیں۔احمد نورانی نے یہ دعوی بھی کیا تھا کہ باجوہ خاندان امریکہ میں معروف پیزا برانڈ پاپا جونز کی سینکڑوں فرنچائز کا بھی مالک ہے۔
تاہم عاصم سلیم باجوہ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے صرف ایک سطر کی روایتی تردید جاری کی اور فیکٹ فوکس کی رپورٹ کو بیہودہ الزامات کا مجموعہ قرار دیا۔
اس حوالے سے عاصم سلیم باجوہ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کا بنیادی مقصد پاک چین سی پیک پروجیکٹ کو نقصان پہنچانا ہے۔ تاہم ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا کہ پاک چین سی پروجیکٹ سے سب سے زیادہ تکلیف تو امریکہ کو ہے اور وہی اس کی سب سے زیادہ مخالفت بھی کر رہا ہے لیکن دوسری طرف باجوہ خاندان کا 80 فیصد سے زائد غیر ملکی کاروبار بھی امریکہ کی مختلف ریاستوں میں چل رہا ہے۔ تاہم اب باخبر حکومتی ذرائع نے یہ دعوی کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے عاصم باجوہ کو اپنے غیر ملکی اثاثوں کے حوالے سے لگنے والے الزامات کی موئثر وضاحت کرنے کی ہدایت کی ہے، بصورت دیگر ان کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا ہوگا۔
یاد رہے کہ پاک فوج کے سابق ترجمان عاصم سلیم باجوہ کے اہلخانہ اور دیگر خاندان والوں کے بیرون ملک اربوں روپے کے اثاثہ جات کا معاملہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنما یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ عاصم باجوہ اپنے خاندان کے اثاثوں کو جائز ثابت کرنے کے لیے منی ٹریل دیں۔ اب نون لیگ کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف نے بھی وزیراعظم سے اس معاملے کا نوٹس لینے اور قوم کو اس بارے میں جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہباز شریف نے کراچی میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان نیازی جو دن رات کہتے ہیں کہ میں اپوزیشن سے بات نہیں کروں گا کیونکہ اپوزیشن چور ہے، ڈکیت ہیں، اب ان کی اپنی حکومت میں جو بڑے بڑے سکینڈل آرہے ہیں، عمران خان ان کا نوٹس لیں، جواب دیں اور قوم کو سچ بتایئں’۔
شہباز شریف سے قبل مریم نواز نے بھی یکم ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر اس معاملے پر بات کی تھی اور کہا تھا کہ ’عاصم باجوہ کے خِلاف جو ثبوت سامنے آئے ہیں وہ بڑے واضح ہیں۔ ان کو چاہیے کہ وہ سامنے آ کر اپنا دفاع کریں، وہ اپنی پوزیشن قوم کے سامنے واضح کریں، اگر آپ ٹیکس دینے والوں کے پیسے لے کر سرکاری عہدے پر بیٹھے ہیں اور آپ پر الزام لگتے ہیں اور ثبوت دیے جاتے ہیں تو پھر آپ کو وضاحت دینا ہوگی۔ مریم نے کہا کہ ہمارے پر تو الزامات لگے مگر کھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مترادف کچھ بھی نہ نکلا۔ لیکن ہمیں پھر بھی سزائیں دی گیئں۔ ہم نے دو، دو تین، تین مرتبہ سزائیں کاٹیں۔ اب اگر آپ کے اوپر کوئی الزام لگا ہے اور اس کے ثبوت سامنے آئے ہیں تو آپ کو قانون کا سامنا کرنے سے کترانا نہیں چاہیے۔‘مریم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’احمد نورانی اگر کوئی چیز نکال کر سامنے لائے ہیں تو ان کا جواب دینا چاہیے، بجائے کی ان کو دھمکیاں دی جایئں۔ مریم نے کہا کہ عمران خان کو چاہیے کہ اس کیس کے بعد اپنے احتساب کے بیانیے کو، جو کہ پہلے بھی بہت مرتبہ ایکسپوز ہو چکا ہے، دفن کر دیں،۔ مریم نے مذید کہا کہ ’میں عمران خان سے سوال کرنا چاہتی ہوں کہ عاصم باجوہ پر الزامات لگنے کے بعد ان کا احتساب کا بیانیہ کس غار میں سو رہا ہے۔ وہ آگے بڑھیں اور بتائیں۔ اس معاملے پر سوالات کرنا عوام کا حق یے نہ کہ سی پیک کے خلاف کوئی سازش ہے۔ یہ ایک شخص کی مبینہ کرپشن کا معاملہ ہے اس لیے اس میں اداروں کو گھسیٹ کر افراد کو نہ بچایا جائے’۔
جب اس معاملے پر ایک پریس کانفرنس کے دوران شبلی فراز سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا تھا کہ عاصم باجوہ نے مجھے بتایا یے کہ وہ ایک، دو دن میں اپنی پوزیشن کو واضح کریں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اپنی پوزیشن واضح کرنے کا یہ حق سب کو ملنا چاہیے۔ بس ایک، دو دن کی بات ہے وہ آئیں گے اور اپنی وضاحت دیں گے اور جو بھی وضاھت ہو گی۔۔۔اس کے مطابق ہی ان کا مستقبل ہو گا۔ تاہم دو دن گزرنے کے باوجود ابھی تک عاصم باجوہ کی وضاحت نہیں آئی اور نہ ہی ان کے مستقبل کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔
دوسری طرف ناقدین کا خیال ہے کہ اس معاملے پر پردہ ڈالنے سے بات نہیں بنے گی بلکہ زیادہ بگڑے گئی کیونکہ عاصم باجوہ اربوں ڈالرز سے بننے والے اہم ترین پاک چین سی پیک منصوبے کی سربراہی کر رہے ہیں۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ پاکستان کے مین سٹریم میڈیا پر عاصم باجوہ پر لگنے والے الزامات کا بلیک آؤٹ کیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے نیب کا بھی کوئی اہلکار نہ تو میڈیا سے بات کرنے کو تیار ہے اور نہ ہی سننے کو۔ جب 2 ستمبر کے روز صحافیوں نے ڈائریکٹر جنرل نیب پنجاب سلیم شہزاد سے سوال کیا کہ عاصم باجوہ پر لگنے والے الزامات کے حوالے سے ان کا ادارہ کیا کر رہا ہے تو ڈی جی نیب نے یہ کہہ کر جان چھڑوا لی کہ عاصم باجوہ کون ہیں، میں نہیں جانتا اور ان پر کیا الزامات لگے ہیں، مجھے نہیں معلوم۔
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ جب حکومت نے وزیر اعظم عمران خان کے معاونین خصوصی اور مشیران کے اثاثوں اور شہریت کی تفصیلات جاری کی تو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر ان کا خوب چرچا ہوا۔ ان تفصیلات کے سامنے آنے کے بعد پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سابق سربراہ اور بعد میں فوج کے سدرن کمانڈ کی قیادت کرنے والے عاصم سلیم باجوہ کے اثاثہ جات پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔ مگر جب 27 اگست کو احمد نورانی کی عاصم سلیم باجوہ اور ان کے خاندان کے کاروبار کے بارے میں ایک رپورٹ ‘فیکٹ فوکس’ نامی ویب سائٹ پر شائع ہوئی تو سوالات اور تنقید کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا اور ٹوئٹر پر مسلسل ‘عاصم باجوہ’ اور ‘باجوہ لیکس’ ٹرینڈ کرنے لگا۔
احمد نورانی نے دعویٰ کیا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ کے ‘خاندان کی کاروباری سلطنت کا پھیلاؤ اور ان کی فوج میں اہم عہدوں پر ترقی، دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلیں۔’ اپنی رپورٹ میں احمد نورانی نے عاصم باجوہ کے بھائیوں، اہلیہ اور بچوں کی بیرون ملک جائیدادوں سے متعلق دعوے کیے ہیں جن میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ 1000 کروڑ سے زائد مالیت کی یہ جائیدادیں چار ممالک میں پھیلی ہوئی ہیں۔ احمد نورانی نے ایک نکتہ یہ اٹھایا ہے کہ ‘عاصم سلیم باجوہ نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی بننے کے بعد جمع کروائی گئی اپنے اثاثہ جات کی فہرست میں اپنی بیوی کے پاکستان سے باہر بزنس کیپیٹل کا ذکر نہیں کیا۔ بلکہ متعلقہ کالم میں باقاعدہ ‘نہیں ہے‘ لکھا ہے۔’ عاصم باجوہ نے اپنی اہلیہ کے نام پر ‘خاندانی کاروبار’ میں صرف 31 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری ظاہر کی اور اس حلف نامے کے آخر میں تصدیق کی کہ ‘میری، اور میری بیوی کی اثاثہ جات کی فہرست نہ صرف مکمل اور درست ہے بلکہ میں نے کوئی چیز نہیں چھپائی۔’
دوسری طرف احمد نورانی لکھتے ہیں کہ جب انھوں نے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ سے ان کی اہلیہ کی امریکہ میں جائیداد اور بینک اکاؤنٹس کے حوالے سے متعلق سوال کیا اور پوچھا کہ ‘انھوں اپنے اثاثہ جات کی ڈیکلیریشن میں اپنی بیوی کے حوالے سے واضح طور یہ کیوں لکھا کہ ان کا پاکستان سے باہر کوئی کاروباری سرمایہ نہیں ہے تو عاصم باجوہ نے جواب دینے سے گریز کیا۔’تاہم رپورٹ کی اشاعت کے بعد ٹوئٹر پر عاصم باجوہ نے دو ٹوک انداز میں الزامات کی تردید کرتے ہوئے لکھا کہ ‘ایک غیر معروف ویب سائٹ پر میرے اور میرے خاندان کے خلاف عناد پر مبنی ایک کہانی شائع ہوئی ہے جس کی میں پرزور انداز میں تردید کرتا ہوں۔’ دوسری طرف احمد نورانی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی رپورٹ پر قائم ہیں اور اس میں لگائے گئے ایک ایک الزام کا دستاویزی ثبوت پیش کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عاصم باجوہ کو اگر میری رپورٹ پر اعتراض ہے تو وہ کسی بھی عدالت میں چلے جائیں میں وہاں ثبوت پیش کر دوں گا۔ احمد نورانی نے کہا کہ عاصم باجوہ کو مناسب طریقے سے جواب دینے کے لیے واضح کرنا ہوگا کہ میری رپورٹ میں کون سے حقائق غلط ہیں اور انھیں اس کے لیے شواہد فراہم کرنے ہوں گے۔’
احمد نورانی نے دعویٰ کیا کہ ‘عاصم سلیم باجوہ کے بھائیوں، اہلیہ اور بچوں کا سنہ 2002 سے قبل مکمل ملکیت کا کوئی ذاتی کاروبار نہیں تھا اور اسی سال وہ سابق آمر پرویز مشرف کے دور میں لیفٹنٹ کرنل کے عہدے پر فائز ہوئے اور پرویز مشرف کے سٹاف میں تعینات ہوئے۔’ احمد نورانی نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ ‘یہ تمام سلسلہ شروع کیسے ہوا اور ابتدائی سرمایہ کیسے لگایا گیا اور وہ رقم کہاں سے حاصل کی گئی اور تین ہفتوں تک جوابات کا انتظار کرنے کے باوجود عاصم سلیم باجوہ خاموش کیوں رہے۔’ یاد ریے کہ جب گذشتہ ماہ اثاثہ جات کی فہرست شائع ہوئی تھی تو اُس وقت عاصم سلیم باجوہ سے ان کی ‘ٹیوٹا زیڈ ایکس’ گاڑی کی قیمت کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے تھے۔
اس معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ اچھا ہے کہ آپ نے رپورٹ کی تردید کر دی لیکن عوامی عہدے پر فائز ہونے کے بعد ایک فقرے کی تردید کافی نہیں ہوگی۔’
عسکری امور کی تجزیہ نگار اور محقق عائشہ صدیقہ نے بھی عاصم باجوہ کی ٹویٹ کی جواب میں کہا کہ ‘جنرل صاحب، یہ بہت مناسب ہوگا اگر آپ دستاویزی ثبوت کے ساتھ الزامات کی تردید کریں۔ ایک جملے سے بات نہیں بنے گی۔’ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ عاصم باجوہ خود پر لگنے والے الزامات کی تردید کرتے ہوئے اپنی منی ٹریل دیتے ہیں یا پھر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہیں تا کہ پاک چین سی پیک پروجیکٹ کو شفاف انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
