اپنے عریاں لباس پر تنقید کرنے والوں کو حلیمہ کا کرارا جواب

ترک ڈرامے میں ارطغرل غازی کی اہلیہ حلیمہ سلطان کا کردار ادا کرنے والی ترکش اداکارہ اسرا بیگیج نے اپنے پاکستانی مداحوں کی جانب سے مسلسل اپنے لباس پر تنقید کے جواب میں کہا ہے کہ صارفین جان لیں کہ میں حقیقی زندگی کی حلیمہ سلطان نہیں ہوں اور اگر کسی کو ان کے پہناوؤں پر اعتراض ہے تو وہ ان کو فالو کرنا ترک کر دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ جیسی بھی ہیں اپنی زندگی سے بہت خوش ہیں اور کسی دوسرے کو یہ اجازت نہیں دیتیں کہ وہ ان کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی کرے اور ان کو یہ مشورہ دینے کی کوشش کرے کہ انہیں کون سے کپڑے پہننے چاہیئں اور کونسی نہیں۔
اسرا بیلگیج کی پاکستان میں مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ٹیلی کام سیکٹر سے وابستہ کمپنیاں اب انھیں اپنا برانڈ ایمبیسڈر مقرر کر رہی ہیں۔ کئی پاکستانی اداروں کی طرف سے بھی انھیں دورہ پاکستان کی دعوتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یوں تو پاکستان میں اسرا بیلگیج کے کام کو بےحد پسند کیا گیا ہے تاہم پچھلے کچھ عرصے سے پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے ان کے ملبوسات پر بے جا تنقید کی جا رہی تھی۔ ناظرین کو یہ اعتراض تھا کہ اسرا مغربی طرز کے لباس کیوں پہنتی ہیں جن میں ان کا جسم جھلکتا نظر آتا ہے۔تاہم اب اسرا نے اپنے لباس پر تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب دیا ہے جس کے بعد وہ منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔
ارطغرل غازی کی حلیمہ سلطان پر تنقید کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب مئی 2020 میں انھوں نے اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر مختصر لباس میں ایک تصویر شئیر کی۔ پاکستانی مداحوں نے ان کی شیئر کردہ تصویر پر تبصرے کرکے ان کے لباس پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا شروع کیا تھا۔ کسی نے اپنے تبصرے میں لکھا تھا کہ وہ اسرا بیلگیج کے خلاف ترک حکومت سے سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کریں گے۔ ایک صارف نے اہنے کمنٹ میں اداکارہ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس قسم کے ملبوسات نہ پہنیں کیوںکہ وہ ڈرامے میں حلیمہ خاتون بنی ہیں جو کہ ایک بہادر اور شریف خاتون تھی۔ بعد ازاں وقتاً فوقتاً ان کی جانب سے شیئر کی جانے والی مختلف تصاویر پر پاکستانی صارفین نے ملے جلے ردعمل کے اظہار کا سلسلہ جاری رکھااور اب حال ہی میں ان کی تصاویر پر ایک صارف نے سخت اعتراض والا کمنٹ کیا جس پر اداکارہ نے کرارا جواب دیتے ہوئے تنقید کرنے والوں کو خاموش کرا دیا۔ ان کی تصویر پر ایک صارف نے ارطغرل غازی میں ان کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کمنٹ کیا کہ ‘حلیمہ باجی، براہ کرم ایسے لباس نہ پہنیں، یہ اچھا نہیں۔ جس پر اداکارہ نے اپنے لباس پر کی جانے والی مسلسل تنقید پر خاموشی توڑتے ہوئے لکھا کہ ‘میں آپ کو مشورہ دیتی ہوں، مجھے فالو نہ کریں، شکریہ۔’اسرا کے منہ توڑ جواب کے بعد اب کسی حد تک صارفین کی طرف سے تنقیدی ٹوئٹس کا سلسلہ تھمتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بھی ترک اداکارہ کومختلف کمپنیوں کی طرف سے برانڈ ایبیسڈر مقرر کرنے پر کچھ پاکستانی فنکاروں کی طرف سے ان پر تنقید کی گئی تھی تاہم انھیں اپنے ساتھی اداکاروں کی طرف سے ہی شدید رد عمل کا سامنا کرنا پرا تھا جس کے بعد انھوں نے اپنے ٹوئٹس یا تو ڈیلیٹ کر دئیے تھے یا ان پر سے یوٹرن لے لیا تھا۔
14اکتوبر 1992 کو ترک شہر انقرہ میں پیدا ہونے والی اسرا بیلگیج نے استنبول کی ایک یونیورسٹی سے بین الاقومی تعلقات میں ڈگری حاصل کر رکھی ہے جبکہ وہ قانون کی تعلیم بھی حاصل کر رہی ہیں۔شوبز کی دنیا میں ان کی آمد 2014 میں ارطغرل سیریز سے ہی ہوئی تھی اور ارطغرل کے علاوہ وہ مزید 2 ڈرامے اور ایک فلم میں کام کرچکی ہیں۔ 2017 میں انہوں نے ایک فٹبالر گوکخان تورے سے شادی کی تھی اور جون 2019 میں ان کی طلاق ہوگئی تھی۔ پاکستان میں کئی سال سے ترکی کے مختلف ڈراموں کو اردو ڈبنگ کے ساتھ چینلز پر نشر کیا جارہا ہے لیکن جو مقبولیت ‘ارطغرل غازی’ کو ملی ہے، اس کی مثال نہیں ملتی۔اس ڈرامے میں کام کرنے والے تمام اداکار راتوں رات پاکستان میں اس حد تک مقبول ہوگئے کہ ان کی فین فالوونگ میں دن بہ دن تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ڈرامے کو ترکی کا ’گیم آف تھرونز‘ بھی کہا جاتا ہے اور اس ڈرامے کو 13ویں صدی میں اسلامی فتوحات کے حوالے سے انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے۔یہ ڈراما پاکستان میں اردو زبان میں پیش کیے جانے سے قبل ہی دنیا کے 60 ممالک میں مختلف زبانوں میں نشر کیا جا چکا ہے۔یہ ڈراما پانچ سیزن اور مجموعی طور پر 179 قسطوں پر مبنی ہے، اس ڈرامے کو ابتدائی طور پر 2014 میں ٹی آر ٹی پر نشر کیا گیا تھا اور اب یہ ڈراما ’نیٹ فلیکس‘ سمیت دیگر آن لائن اسٹریمنگ چینلز پر بھی موجود ہے۔
