کون کون سے PTIرہنماوں کو فوجی عدالتوں کا سامنا کرنا پڑے گا؟

سانحہ 9مئی کی منصوبہ بندی کیسے کی گئی اور اس پر عملدرآمد کیسے ہوا اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ جن میں وائس نوٹس ، وائس کٹس اور ڈیجٹیل مراسلات و غیرہ شامل بتائے جاتے ہیں ۔کس طرح پی ٹی آئی کی قیادت نے فوجی تنصیبات ، خصوصا ًجی ایچ کیو ، جناح ہاؤس اور دیگر سرکاری عمارتوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کی اس بات کا دعوی پی ٹی آئی کے ایک سابق رہنما اور سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈ ا نے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا ہے۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جی ایچ کیو اور دیگر حساس فوجی تنصیبات کے علاوہ شر پسندوں نے آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر پر بھی حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

ہدایات تحریک انصاف کی دوسرے درجے کی قیادت جاری کررہی تھی ۔تحریک انصاف کے کارکنوں کو ایک طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت مشتعل کیا گیا ۔ ان کے کام کرنے کا طریقہ سمجھناہوگا کہ کس طرح سے وہ سوشل میڈیا پر اپنی پروپیگنڈا مہم شروع کرتے ہیں ۔ان میں کسی بھی تنازع پر منظر تخلیق کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔پھر قیادت کی جانب سے کارکنوں کی سطح تک ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر پارٹی قیادت کوئی فیصلہ کرتی ہے تو اسے شاہ محمود قریشی یا اسد عمر کے ذریعہ کارکنوں تک پہنچایا جاتا ہے ۔منظر نامہ ارسلان کو بھیجا جاتا ہے پھر سو شل میڈیا کے ذریعہ اسے عام کردیا جاتا ہے۔

فیصل واوڈانے مزید دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کا ایک اہم کلیدی رہنما 9 مئی کی ہنگامہ آرائی میں ملوث ہے، ذرائع نے بتایا کہ عمران خان کے حلقے میں خصوصی اہمیت کے حامل جس شخصیت کا ذکر بُدھ کی پریس کانفرنس میں فیصل واوڈا نے کیا وہ سابق ڈائر یکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹینٹ جنرل فیض حمید ہیں جنہیں فیصل واڈا نے 9مئی کے حملوں میں مبینہ طور پر ملوث بتایا ہے۔ فیصل واوڈا کا مزید کہنا ہے کہ انہوں نے عمران خان کو بھی خبردار کیا تھا کہ وہ ایسا نہ کریں، القادر ٹرسٹ کیس انہیں مصیبت میں ڈال دے گا۔ یہ صاف صاف نیب کا کیس تھا۔

دوسری جانب عمران خان کی گرفتاری کے ردعمل میں 9 مئی کو فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے والوں، ان حملوں کے منصوبہ سازوں اور شرپسندوں کو اکسانے والوں پر آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات چلانے کے لئے پانچ شہروں لاہور، راولپنڈی، پشاور، میانوالی اور فیصل آباد میں فوجی عدالتوں کا قیام متوقع ہے۔ ان پانچ شہروں میں بلوائیوں نے عسکری اور دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور پارٹی کے دودرجن سے زائد رہنما آرمی ٹرائل کی زد میں آ سکتے ہیں۔

وفاقی کابینہ سے فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری کے بعد رواں ماہ مئی میں ہی یہ عدالتیں قائم کی جاسکتی ہیں۔ ذرائع کے بقول فوجی عدالتوں کے قیام میں تاخیر کا امکان اس لئے معدوم ہے کہ حکومت اس میں رکاوٹ نہیں ہے۔ بلکہ اس کی رضامندی سے یہ قدم اٹھایا جارہا ہے۔ یہ درست ہے کہ اتحادی پارٹیوں کے بعض رہنمائوں کی طرف سے فوجی عدالتوں کے قیام کے بجائے سانحہ 9 مئی کے ذمے داران کے مقدمات سول عدالتوں میں چلانے کی بات کی جارہی ہے۔ لیکن فیصلہ چونکہ اعلیٰ سطح پر کیا جاچکا ہے۔ لہٰذا اس پر عملدرآمد ہوگا۔

واضح رہے کہ پہلے اسپیشل کور کمانڈر کانفرنس میں شرپسندوں کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے ذریعے چلانے پر اتفاق ہوا تھا۔ بعد ازاں قومی سلامتی کمیٹی نے اس فیصلے کی توثیق کی۔ یہ کمیٹی سیاسی و عسکری قیادت پر مشتمل ہے۔ماضی میں آرمی کورٹ چلانے والے ایک سابق افسر نے بتایا کہ فوجی عدالتیں ’’اسپیڈی ٹرائل‘‘ کے لئے مشہور ہیں۔ وہ اپنے دور میں ایک ہفتے میں مقدمہ کا فیصلہ کر دیا کرتے تھے۔ سانحہ 9 مئی کے ذمہ داران پر مقدمات چلانے کے لئے مجوزہ فوجی عدالتیں بھی ایک ہفتے کے اندر یا زیادہ سے زیادہ پچیس دن میں فیصلے کریں گی۔ سابق افسر کے مطابق ملٹری کورٹ عموماً تین ارکان پر مشتمل ہوتی ہے۔ جس کے سربراہ کو پریزیڈنٹ کہا جاتا ہے۔ جو عموماً حاضر سروس کرنل یا بریگیڈیئر رینک کا ہوتا ہے۔

تین رکنی بنچ میں پریزیڈنٹ کی معاونت کے لئے ایک مجسٹریٹ اور ایک حاضر سروس فوجی افسر ہوتا ہے۔ ملزم اپنی گرفتاری کسی سول کورٹ میں چیلنج نہیں کرسکتا۔ اسی طرح سزا سنائے جانے کی صورت میں مجرم اس سزا کے خلاف سول کورٹ میں اپیل دائر نہیں کرسکتا۔ یہ اپیل وہ آرمی چیف سے کرسکتا ہے۔ پھر یہ آرمی چیف پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ معافی دیدے۔ سزا میں کمی کرے یا سزا کو برقرار رکھے۔ جرم کی سنگینی کے لحاظ سے ملٹری کورٹ سزائے موت اور عمر قید سے لے کر سات سے دس برس کی سزا سنا سکتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ نو مئی سے گیارہ مئی تک ہونے والے جلائو گھیرائو میں ملوث بیشتر افراد کے خلاف مختلف تھانوں میں ایف آئی آرز تو درج کی جا چکی ہیں۔ اب یہ فہرست بنائی جانی ہے کہ ان میں سے کتنے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جانے ہیں۔ اس کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے گا کہ کتنی تعداد میں آرمی کورٹس بنانی ہیں۔

جن پانچ شہروں میں فوجی عدالتوں کا قیام متوقع ہے۔ ان میں سے ایک لاہور ہے، جہاں شرپسندوں نے کور کمانڈر ہائوس کو نشانہ بنایا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ حملہ طے شدہ تھا۔ حملہ آوروں کو ایک رات پہلے ہی راحت بیکری کے نزدیک ایک کرائے کے مکان میں ٹھہرایا گیا تھا اور وہیں ان کو بریفنگ دی گئی تھی۔ حملے کے وقت جناح ہائوس کے باہر ساڑھے تین ہزار کے قریب لوگ موجود تھے۔ جبکہ جناح ہائوس کے اندر چار سو بلوائی گھسے ہوئے تھے۔ جنہوں نے ہر چیز کو آگ لگادی۔ پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی یہ کہہ چکے ہیں کہ جناح ہائوس پر حملے میں پی ٹی آئی کی خاتون رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کا اہم کردار تھا۔ اسی طرح راولپنڈی میں شرپسندوں نے جی ایچ کیو کا دروازہ توڑنے کی کوشش کی۔

اس سلسلے میں اب تک پولیس سترہ ایف آرز درج کر چکی ہے۔ جی ایچ کیو پر حملوں میں ملوث چھبیس گرفتار شرپسندوں کو پولیس کے سامنے پیش کیا جاچکا ہے۔ باقی کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اس حملے کے منصوبہ سازوں اور شرپسندوں کو ہدایات دینے والوں میں پی ٹی آئی کے بعض اہم نام شامل ہیں۔ ان میں سے ایک شہریار آفریدی کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ جبکہ مراد سعید سمیت دیگر کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

میانوالی میں شرپسندوں نے پاکستان ایئر فورس پی اے ایف بیس کو نشانہ بنایا۔ بلوائی جن میں بیشتر مسلح تھے، بیس پر کھڑے طیاروں کو نذر آتش کرنا چاہتے تھے۔ تاہم ان کی یہ کوشش ناکام بنادی گئی تھی۔ واضح رہے کہ میانوالی کا یہ ایئربیس انیس سو پینسٹھ کی جنگ کے ہیرو ایم ایم عالم کے نام سے منسوب ہے۔ پشاور میں شرپسندوں نے کنٹونمنٹ کے ایریا میں جائو گھیرائو کیا۔ جبکہ دیر میں چکدرہ کے تاریخی ایف سی قلعے پر حملہ اور توڑ پھوڑ کی۔ فیصل آباد میں شرپسندوں نے ایک حساس ادارے کے دفتر کو نشانہ بنایا۔

حکومتی ذرائع کے بقول اس حملے کے مقدمے میں پی ٹی آئی کے رہنما علی افضل ساہی، فیض اللہ کموکا، صاحبزادہ حامد رضا، بلال اشرف بسرا، ڈاکٹر اسد معظم، جنید افضل ساہی، حسن ذکا نیازی، ایاز خان ترین اور دیگر کے نام شامل ہیں۔ ان سب کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔

حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نو مئی سے گیارہ مئی تک کئے جانے والے جلائو گھیرائو کے منصوبہ ساز عمران خان تھے۔ شرپسندوں کو پہلے سے اہداف دیدیئے گئے تھے کہ ان کی گرفتاری کے بعد کہاں کہاں حملہ کرنا ہے۔ جبکہ عمران خان کے بعض قریبی ساتھی بھی اس منصوبے کا حصہ تھے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی یہ الزام لگایا ہے کہ سانحہ نو مئی کے منصوبہ ساز عمران خان تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں چیئرمین پی ٹی آئی سمیت پارٹی کے دو درجن سے زائد رہنمائوں کے خلاف ملٹری کورٹ میں ٹرائل کا قوی امکان ہے۔

Back to top button