کپتان سرکار کی دو برس کی تباہ کن کارکردگی کی داستان


وزیر اعظم عمران خان کی دو سالہ حکومتی کارکردگی کو مجموعی طور پر ملک کی تباہی کے دو برس کی داستان قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
پچھلے دو برس کے دوران ملک کی خارجہ پالیسی، معیشت، گورننس، صحت، تعلیم، روزگار میڈیا، جس طرف بھی نظر دوڑائیں ہر طرف تباہی ہی تباہی نظر آتی ہے خصوصا ہوشربا مہنگائی کے عفریت نے عوام کو گردن سے دبوچ رکھا ہے اور انکی جان نکالنے کے درپے ہے۔ خارجہ محاذ پر کپتان حکومت کی سب سے بڑی ناکامی یہ رہی کہ کشمیر ہمارے ہاتھ سے چلا گیا۔ معیشت کے فرنٹ پر دیکھا جائے تو ڈالر اور سونے کی قیمتیں دوگنا ہو گئیں اور پاکستانی روپیہ گرتے گرتے گراوٹ کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گرا۔ گورننس کے محاذ پر دیکھیں تو ہر طرف ناکامی ہی ناکامی ہے جس کی بنیادی وجہ وفاق اور صوبوں میں کثرت سے پائے جانے والے کپتان کے وسیم اکرم پلس جیسے بیش قدر نمونے ہیں۔ روزگار کے محاذ پر دیکھیں تو ماضی کے دو برسوں میں جتنے لوگ یہاں بیروزگار ہوئے ہیں اس کی پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی۔ میڈیا کے فرنٹ پر گزشتہ دو برس پاکستانی تاریخ میں جبر اور گھٹن کے بدترین دو سالوں کی نشاندہی کرتے ہیں جن کے دوران صحافیوں کو فکری اختلاف پر پابند سلاسل کیا گیا اور اخبارات اور ٹی وی چینلز کا معاشی قتل عام ہوا جس کے نتیجے میں ہزاروں صحافی بے روزگار ہوگئے۔
غرض یہ کہ کپتان کے دو برس کے اقتدار کا سرسری جائزہ لیا جائے تو ناکامیوں اور ذیادتیوں کی ایک لمبی لسٹ نظر آتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت نے اقتدار کے دو سال تو مکمل کر لیے لیکن اس دوران عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں میں سے ایک بھی پورا نہیں کر پائی۔ ہاں کپتان نے اپنے ماضی کے تمام وعدوں پر ایک ایک کرکے یوٹرن لے کر ضرور دکھایا ہے اور اسکا جواز یہ پیش کیا ہے کہ انہوں نے یہ تمام یوٹرن عظیم تر قومی مفاد میں لئے اور ویسے بھی یوٹرن لینا تو عظیم لیڈروں کی نشانی ہوتی ہے۔
کپتان سرکار کے دو برس کے دوران ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری میں تاریخ ساز اضافہ ہوا اور بنیادی اشیائے ضروریات کی قیمتوں پر قابو پانے میں مکمل ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ عوام کے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ملک میں آٹا اور چینی نایاب ہوگئے اور ان کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہو گیا۔ جب عوام کے احتجاج پر آٹا اور چینی سکینڈل کی تحقیقات کی گئیں تو پتہ چلا کہ ان دونوں سکینڈلز میں کپتان کے قریبی رفقاء کا ملوث تھے۔ تاہم بجائے کہ جہانگیر ترین اور دیگر چوروں کے خلاف کوئی ایکشن لیا جاتا انہیں ملک سے فرار کروا دیا گیا۔
پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت نے حکومت میں آنے کے بعد کئی مواقع پر انتخابات سے قبل اپنائے گئے مؤقف سے ‘یو ٹرن’ لیا، جس سے اس کے ‘تبدیلی’ کے دعوے اپنی اہمیت کھو بیٹھے اور عوام میں مقبولیت کا گراف گرنے لگا۔ ان وجوہات نے اپوزیشن جماعتوں کو، جو شروع سے ہی پی ٹی آئی پر عوام کا ووٹ چوری کرکے اقتدار میں آنے کا الزام لگا رہی ہیں، تنقید کے بھرپور مواقع فراہم کیے۔ پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے سے قبل عمران خان بارہا ملک سے کرپشن و لوٹ کھسوٹ کے خاتمے اور کرپٹ سیاستدانوں کو جیلوں کے پیچھے ڈالنے کا اعلان کرتے رہے۔ تاہم ان کی جماعت کے اقتدار میں آنے کے بعد نیب کی کارروائیوں میں تیزی ضرور آئی لیکن یہ کارروائیاں صرف اپوزیشن رہنماوں کے خلاف ہو رہی ہیں اور حکومتی بینچوں سے تعلق رکھنے والے چوروں اور ڈاکوؤں کو ایمنسٹی دی جا رہی ہے۔
آٹا اور چینی سکینڈل میں مورد الزام ٹھہرائے جانے والے ترینوں اور مخدوموں کے خلاف کوئی ایکشن لینے کی بجائے نیب دہایئوں پرانے مقدمات میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا رگڑا نکالنے میں مصروف ہے۔ یوں نیب کی طرف سے یکطرفہ کارروائی کا تاثر اب زبان زد عام ہے۔ اپوزیشن جماعتیں کھلے عام نیب نیازی گٹھ جوڑ کی نشاندہی اور مذمت کرتی نظر آتی ہیں۔ یہ بھی ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا ہاؤس کے مالک میر شکیل الرحمان کو وزیراعظم سے اختلاف کی بنیاد پر نیب کے ذریعے ایک جھوٹے مقدمے میں ملوث کر کے جیل میں ڈال دیا گیا اور 6 ماہ بعد بھی انکی ضمانت نہیں ہو رہی۔
ان دو برسوں کے دوران نیب کی کارروائیوں اوربلاثبوت گرفتاریوں پر اعلیٰ عدالتیں اور سپریم کورٹ کے معزز ججز بھی کئی بار نالاں اور برہم نظر آئے۔ حال ہی میں عدالت عظمیٰ نے چیئرمین نیب کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھائے، جس کے بعد اپوزیشن کی جانب سے ان کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ تاہم اب ویسے بھی نیب چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی ریٹائرمنٹ میں صرف دو ماہ باقی رہ گئے ہیں۔
تحریک انصاف کی حکومت کے دو سال کے عرصے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ بھی متنازع بنا لیکن اس میں سیاسی جماعتوں سے زیادہ سپریم کورٹ پیش پیش رہی اور حکومت کو عدالت عظمیٰ کے حکم کی روشنی میں مسلح افواج کے قوانین میں ترامیم کرنا پڑیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے اگست 2019 میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کی تھی کیونکہ وہ 29 نومبر کو متوقع طور پر ریٹائر ہوجاتے لیکن اس سے قبل ہی وزیراعظم نے ان کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کر دی تھی۔ تاہم اب اس طرح کی اطلاعات ہیں کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے کا ذمہ دار سمجھے جانے والے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی اب اپنے فیورٹ کپتان کی پچھلے دو برس کی حکومتی کارکردگی سے مطمئن نہیں نہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ناکام حکومت اسٹیبلشمینٹ کے لئے ایک بوجھ بنتی جا رہی ہے۔
پچھلے دو برس کے دوران سفارتی محاذ پر بھی حکومت کو کئی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ سفارتی محاذ پر پاکستان کو سب سے بڑا دھچکا سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں تب لگا جب ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ایک متنازع بیان کی وجہ سے پاک سعودی تعلقات میں شدید کشیدگی آگئی جو اب بھی برقرار یے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button