کپتان سے سیاسی ملاقات پر فوجی قیادت شدید تنقید کی زد میں

فوجی ترجمان کی جانب سے سیاست سے دوری اختیار کرنے کے بار بار کے اعلان کے باوجود 3 مارچ کو قومی اسمبلی سے سینیٹ کی سیٹ پر یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کے فوری بعد چار مارچ کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی عمران خان سے ملاقات اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہے خصوصا جب اپنی شکست کے بعد عمران خان نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا اعلان کر رکھا تھا۔ اپوزیشن حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ پھر فوجی قیادت نے ثابت کیا ہے کہ وہ غیر جانبدار نہیں ہے اور سیاست میں مسلسل دخل اندازی کر رہی ہے۔
اس معاملے پر ایک مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز شریف نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے قومی اسمبلی میں اپنی شکست کے فورا بعد اعتماد کا ووٹ لینے سے 48 گھنٹے پہلے فوجی قیادت کو اپنے ساتھ بٹھا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ فوج ان کے ساتھ ہے اور غیر جانبدار نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر فوج کے ادارے کی ساکھ کے لیے تباہ کن ہے اور فوجی قیادت کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔
یاد رہے کہ 4 مارچ کی صبح فوجی قیادت کی عمران خان سے ملاقات کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف نے مسلم لیگ نواز کی جنرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر کھل کر فوج کی سیاست میں مداخلت پر تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ فوج سیاست چھوڑ کر سرحدوں پر چلی جائے اور اپنا اصل فرض ادا کرے۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ الیکشن میں دھاندلی کرنا اور حکومتیں گرانا اور بنانا فوج کا کام نہیں ہے اور اپنی گرتی ہوئی ساکھ بچانے کے لئے اسے حقیقتا سیاسی معاملات سے دوری اختیار کرنی چاہیے۔ دوسری طرف نواز لیگ کے جنرل کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے بھی ایک بار پھر سلیکٹرز اور سلیکٹڈ دونوں پر تنقید کی اور یہ الزام لگایا کہ عمران خان کو سلیکٹرز دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں لے کر آئے تھے اور اب بھی مسلسل اس کا دفاع کر رہے ہیں جس سے اس اہم ترین قومی ادارے کی ساکھ کا بحران گہرا تر ہوتا جا رہا ہے۔
دوسری جانب عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی چیف فیض حمید نے قومی معاملات پر سول ملٹری قیادت کے رابطے کے طور پر وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی تھی اور اسکا ایجنڈا سیاسی نہیں تھا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس قسم کی ملاقات کے بعد وزیر اعظم کے دفتر سے عموماً پریس ریلیز جاری کی جاتی ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ ملاقات کا ایجنڈا کیا تھا۔ لیکن 4 مارچ کی ملاقات کے بعد ایسا کوئی بیان سامنے نہیں آیا اور یہی معلوم ہوا یے کہ دراصل یہ ملاقات یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کے بعد وزیراعظم کے لیے پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کا راستہ نکالنے کے لیے تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کا ایک بڑا مقصد حکومتی اراکین قومی اسمبلی کو یہ پیغام دینا تھا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اب بھی وزیراعظم کے ساتھ کھڑی ہے لہذا انہیں چھ مارچ کو اعتماد کا ووٹ دینا لازم ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں وزیراعظم نے حفیظ شیخ کی ناکامی کا ذمہ دار انٹیلی جنس اسٹیبلشمنٹ کو بھی ٹھہرایا جو انہیں باغی حکومتی اراکین کے بارے میں میں بر وقت معلومات دینے میں ناکام رہی۔ کہا جاتا ہے کہ حفیظ شیخ کی کامیابی کا ٹاسک انٹیلیجنس اسٹیبلشمنٹ کے ذمہ لگایا گیا تھا جس نے کہ ماضی میں صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیے حزب اختلاف کے 14 اراکین کو سنجرانی کے حق میں ووٹ ڈالنے پر مجبور کر دیا تھا۔ تاہم یوسف رضا گیلانی کی جیت کپتان کے علاوہ انٹیلی جنس اسٹیبلشمنٹ کے لئے بھی ایک دھچکے سے کم نہیں تھی۔
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اپنی سیاسی غیر جانبداری کے دعوے کے باوجود سینٹ الیکشن میں وزیراعظم عمران خان کے امیدوار حفیظ شیخ کے لئے لابنگ کرتی رہی اور حکومتی اور اپوزیشن اراکین پر بھی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ تاہم اس سلسے میں پسِ پردہ بات کرتے ہوئے ایک عسکری عہدیدار نے فوجی قیادت کے سیاست میں ملوث ہونے کے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ چار مارچ کو وزیراعظم سے جنرل باجوہ اور جنرل فیض کی ملاقات عمران خان کی اپنی خواہش پر ہوئی اور ویسے بھی جب وزیراعظم فوجی قیادت کو ملاقات کے لیے بلائے تو وہ انکار نہیں کر سکتی۔ لہذا اس ملاقات کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش نہ کی جائے۔ عسکری عہدیدار نے کہا کہ یہ اجلاس ‘ملک کی داخلی اور خارجی صورتحال’ کا جائزہ لینے کے لیے منعقد ہوا تھا۔ تاہم وہ اس سوال کا جواب نہ دے پائے کہ اس ملاقات کی کوئی پریس کیوں جاری نہیں کی گئی جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔
اسی لئے فوج کی سیاست میں مداخلت کے مخالفین نے اس ملاقات کو سینیٹ انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال سے جوڑ دیا جس میں حکمراں جماعت کے امیدوار حفیظ شیخ اپوزیشن امیدوار یوسف رضا گیلانی سے شکست کھا گئے تھے۔ اس غیر متوقع شکست نے وزیر اعظم عمران خان کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ وزیراعظم نے اس سلسلے میں فوجی قیادت کے علاوہ اپنے اتحادیوں اور پارٹی رہنماؤں سے علیحدہ علیحدہ مشاورت بھی کی۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ایک پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض حمید کو اس موقع پر وزیراعظم سے ملاقات نہیں کرنی چاہیے تھی کیوں کہ اس سے غلط اشارہ ملا۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ اس موڑ پر اس ملاقات سے اچھی تصویر نہیں گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘اداروں’ کو وزیراعظم عمران خان کی حمایت ختم کرنی چاہیے اگر انہوں نے اب تک نہیں کی اور انہیں اپنے آپ کو آئین و قانون تک محدود رکھنا چاہیے۔ مریم نواز نے بلاول بھٹو نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کی فتح پر پوری قوم، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور پاکستان کے عوام نے جشن منایا۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ اس فتح سے معلوم ہوتا ہے کہ عوام کے اندر اس سلیکٹڈ کے خلاف سخت نفرت ہے اور پی ڈی ایم کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ ناکام ہوگئی، لیکن پی ڈی ایم نے ان کو دن میں تارے دکھائے ہیں اور ان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ موجودہ حالات میں فوجی قیادت کو ایک ہارے ہوئے شخص کے ساتھ یوں کھڑا ہونے کا فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوا ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کے لیے تو یہ اچھا تھا کہ وہ سلیکٹرز کا نام بھی لے اور ان کو استعمال کرکے عوام، اداروں، اراکین اسمبلی کو دباؤ میں رکھے، اس لیے عمران کی نااہلی نے اداروں پر اثر ڈالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتی ہوں کہ جب عمران کو شکست ہوئی تو اداروں کے سربراہوں کو ان کے ساتھ ملاقات نہیں کرنی چاہیے تھی، اگر قومی سلامتی کا مسئلہ ہوتا ہے تو ضرور مل بیٹھتے لیکن اس سیاسی ملاقات سے پرہیز کرنا چاہیے تھا کیونکہ قوم دیکھ رہی ہے کہ عمران فوجی چہرے دکھا کر آپ کو استعمال کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی صفحہ ہوا سے ہلا تو لوگوں نے ڈرنا اور دباؤ میں آنا چھوڑ دیا ہے، اگر یہ پیچھے نہیں ہٹے تو انہیں ہٹنا چاہیے، اپنے آئینی اور قانونی دائرہ کار تک محدود ہونا چاہیے اور یہی ساری سیاسی جماعتوں کی کوشش ہے۔ نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں ان کی عزت کریں اور اداروں کے وقار پر کوئی داغ نہ لگے، ہم اس سے بچانا چاہتے ہیں لیکن انہیں خود بھی احساس کرنا ہوگا کہ ایک ہارے ہوئے شخص جس کو 22 کروڑ عوام مجرم سمجھتی ہے، اس کے پیچھے کھڑے ہوئے نظر نہیں آنا چاہیے۔
اس موقع پر بلاول بھٹو نے کہا کہ پورا ملک جشن منا رہا ہے کیونکہ پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتوں نے مل کر عمران خان کو ہرایا اور اب ان کا اپنا صدر کہہ رہا ہے کہ وزیر اعظم اسمبلی میں اعتماد کھو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی تقریر سے لگتا ہے کہ اب ووہ گھبرا چکے ہیں اور ان کو پتہ ہے کہ ان کا وقت ختم ہونے والا ہے اور مستقبل پی ڈی ایم اور جمہوریت کا ہے اور ہمیشہ کے لیے ہم سیاست سے ان کٹھ پتلیوں کو ختم کر دیں گے۔ صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نہیں سمجھتے یہ لڑائی ایک دن کی ہے یا ملک کے حالات یکدم بدل جائیں گے اور ایک سوئچ سے جمہوریت بحال ہوگی لیکن ہم اکٹھے ہیں اور ان شاء اللہ آئندہ بھی اکٹھے رہیں گے اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق غیر سیاسی ہوجائے گی۔
