کیا عمران خان اپنی حکومت کی مدت پوری کر پائیں گے؟


اسٹیبلشمنٹ اور اتحادیوں کی بیساکھیوں پر قائم عمران خان حکومت اپنے اقتدار کے ڈھائی برس گزر جانے کے باوجود بھی مسلسل ناکامیوں سے دوچار ہے جسکا نتیجہ تین مارچ کو ہونے والے سینیٹ الیکشن میں پی ڈی ایم کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کی جیت اور کپتان کے امیدوار حفیظ شیخ کی ہار کی صورت میں سامنے آ چکا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اب وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں جسے کہ اپوزیشن اتحاد کی پہلی بڑی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران کی غلط پالیسیوں کے باعث فوجی اسٹیبلشمنٹ، حکومتی اتحادی اور انکی اپنی جماعت کے اراکین وزیراعظم سے ناراض ہیں جسکا اظہار انہوں نے اسلام آباد سے سینٹ کی سیٹ کے الیکشن میں کیا۔ دوسری جانب عمران خان کو ہر محاذ پر اپوزیشن کے ہاتھوں مسلسل ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ یوں تو وزیراعظم کو اقتدار سنبھالتے ہی اپوزیشن کی جانب سے سیاسی مزاحمت کا سامنا تھا لیکن گزشتہ چند ماہ میں اپوزیشن اتحاد کی جانب سے سیاسی مزاحمت میں نہ صرف شدت آئی ہے بلکہ اس نے سیاسی میدان میں کپتان حکومت کے خلاف فتوحات بھی سمیٹی ہیں۔
یاد ریے کہ گزشتہ برس ستمبر میں اپوزیشن جماعتوں نے اپنا سیاسی اتحاد قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت مخالف تحریک شروع کی تھی۔ اپوزیشن کے 11 جماعتی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں ملک بھر میں سیاسی جلسے شروع کر دیے تھے۔ اس دوران اپوزیشن کی جانب سے اسمبلی سے استعفے دینے کا بھی اعلان کیا گیا لیکن اتحاد میں شامل پیپلزپارٹی کی قیادت نے ’اِن ہاؤس‘ تبدیلی لانے کا فارمولا پیش کیا۔ چنانچہ حکومت اس تجویز کو اپنی فتح قرار دینے لگی اور استعفوں کے اعلان سے یوٹرن لینے پر اپوزیشن کو ہدف تنقید بنایا گیا۔ حکومت نے دسمبر میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کروانے کےلیے صدارتی آرڈیننس سپریم کورٹ بھیجنے کا فیصلہ کیا تو اپوزیشن نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے سینیٹ انتخابات پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے مشترکہ طور پر لڑنے کا اعلان کر دیا۔
بعد ازاں 19 فروری کو پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ہونے والے ضمنی انتخابات کو مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے فیصلے کا دن قرار دیا۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی دو دو نشستوں پر ہونے والے ان انتخابات میں مسلم لیگ ن دو صوبائی اسمبلی کی نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی جب کہ حکومتی جماعت تحریک انصاف کے حصے میں صرف ایک نشست آئی۔ تاہم پنجاب کے حلقے این اے 75 ڈسکہ میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج دیر سے آنے پر تنازع کھڑا ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے نتائج روکنے کا فیصلہ کیا۔
مسلم لیگ ن نے حلقے میں دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کیا جو الیکشن کمیشن نے منظور کرتے ہوئے پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسلم لیگ ن ابھی ضمنی انتخابات میں کامیابی کا جشن منا ہی رہی تھی کہ لاہور ہائی کورٹ نے 24 فروری کو منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کی درخواست منظور کر لی۔ یوں حمزہ شہباز 27 فروری کو 20 ماہ بعد کوٹ لکھپت جیل سے رہا ہوگئے اس کے بعد اب یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ شہباز شریف بھی جلد جلد سے باہر آ جائیں گے۔
اسی دوران سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت کی جانب سے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے کروانے سے متعلق دائر صدارتی ریفرنس پر فیصلہ دے دیا کہ سینیٹ انتخابات آئین کے مطابق خفیہ رائے شماری سے ہی ہوں گے۔ یکم مارچ کو سپریم کورٹ کی سینیٹ انتخابات کروانے سے متعلق رائے سامنے آنے کے بعد حکومت نے الیکشن کمیشن سے فوری رابطہ کیا۔ حکومت نے سپریم کورٹ کے ووٹر کی رازداری حتمی نہ ہونے سے متعلق اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے بیلٹ پیپر پر بار کوڈ یا دیگر ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی درخواست کی۔ تاہم حکومت کی یہ درخواست بھی کام نہ آئی۔
چنانچہ خفیہ رائے شماری کے تحت ہونے والے سینیٹ کے الیکشن میں حکومت کو اسلام آباد کی نشست سے اس وقت ایک بڑا دھچکا لگا جب قومی اسمبلی کے ممبران نے حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کو مسترد کرتے ہوئے اپوزیشن اتحاد کے امیدوار سید یوسف رضا گیلانی کو کامیاب کروا دیا۔
پچھلے ڈھائی برس میں اپوزیشن کی حکومت کے خلاف یہ سب سے بڑی کامیابی تھی جس کے نتیجے میں قومی اسمبلی میں عمران خان بطور وزیر اعظم اپنی اکثریت کھو بیٹھے اور ان کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ باقی نہیں تھا کہ وہ قومی اسمبلی سے دوبارہ اعتماد کا ووٹ حاصل کریں۔ بصورت دیگر اپوزیشن اتحاد نے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لے آنی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کے خلاف اپوزیشن اتحاد اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھتی ہے یا نہیں۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ اپوزیشن اتحاد نے عمران خان حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور ایسا نہیں لگتا کہ وہ اپنے اقتدار کی مدت پوری کر پائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button