کپتان کا اپنی ذات کے لیے ملکی سلامتی سے کھیلنے کا فیصلہ


معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ عمران خان اس وقت جس نہج ہر چل رہے ہیں، وہ ہر اصول، ضابطے، قاعدے اور قانون کو روندتے چلے جا رہے ہیں جس کا نتیجہ سوائے نفرت، انتشار، اختلاف اور نفاق کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ان کا مشن بہت واضح ہے، وہ اپنے ذاتی مقاصد کے لیے اِس ملک کو نیست و نابود کرنے کی ہر کوشش کرنا چاہتے ہیں چاہے اسکے لیے پاکستان کی سلامتی کی ہی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ ہر مذہب کے کچھ بنیادی عقائد ہوتے ہیں جن سے مفر ممکن نہیں۔ ہر ریاست کے کچھ بنیادی ستون ہوتے ہیں جن کو منہدم کر دیں تو ریاست کی عمارت دھڑام سے گر جاتی ہے۔ ہر معاشرے کے کچھ اصول ہوتے ہیں جن کو توڑ دیں تو معاشرہ تقسیم ہو جاتا ہے۔ ہر اخلاقی دائرے کے کچھ ضوابط ہوتے ہیں جن کے بغیر معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ہر نظام کے کچھ قواعد ہوتے ہیں جن سے انکار اس نظام سے انکار ہوتا ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان اس وقت جس نہج ہر چل رہے ہیں اسکا نتیجہ سوائے نفرت، انتشار، اختلاف اور نفاق کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ یہ سمجھنے کے لیے کچھ مثالیں دینا ازحد ضروری ہے تاکہ یہ بات ان کی سمجھ میں بھیبآ جائے جو اب تک عمران خان کو اس معاشرے کا نجات دہندہ سمجھ رہے ہیں۔

عمار کہتے ہیں کہ عمران خان نے سیاست میں ہمیشہ مذہبی اصطلاحات کااستعمال کیا۔ کبھی وہ ریاست مدینہ بنانے چل نکلتے ہیں کبھی حضرت عمر فاروق رضی علی تعالی عنہ کی مثالیں دیتے ہیں، کبھی اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ’’ایاک نعبدو ایاک نستعین‘‘ کا نعرہ لگاتے ہیں، کبھی وہ ’’امربالمعروف‘‘ کے نام پر سیاسی دنگا فساد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ باتیں صرف انکے سیاسی بیانیے کا حصہ ہیں۔ در حقیقت عمران کے دور حکومت میں ان میں سے کسی بھی حکم پر عمل نہیں ہوا۔ سب جانتے ہیں کہ عمران کے دور میں کرپشن اور لوٹ مار میں بے پناہ اضافہ ہوا جسکا اظہار ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں بھی ہوا۔ اس دور میں غریب کا جینا دوبھر ہو گیا۔ مفلس کی جھگی گرا دی گئی اور بنی گالہ کا محل ریگولرائز کروا لیا گیا۔ ترقی کے نام پر پناہ گاہیں کھلیں اور معیشت میں بہتری کے نام پر لنگر خانے بنا دیئے گئے۔ میڈیا کو کبھی عید کی نماز کی وڈیو نصیب نہیں ہوئی۔ مسجد نبویؐ جیسی مبارک جگہ پر خان صاحب کے پیروکاروں نے غلیظ گالیاں دیں اور سیاسی نعرے لگائے۔ غارِ حرا کی دیواروں پر سیاسی نعرے لکھے۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں کو جذباتی طور پر بلیک میل کرنے کے لیے زبان پر ریاستِ مدینہ کا ورد جاری رہا۔ عمران نے مذہبی نعرے استعمال کرکے مذہب کے ہر عقیدے سے انکار کیا۔ نہ تو خان اخلاقیات کا نمونہ بنے اور نہ ہی انصاف کے کسی معیار پر پورا اترے۔ نہ انہون نے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا اور نہ ہی ریاست کے خزانے سے لوٹ مار کا سلسلہ رُکا۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ آئین کی رو سے پاکستان ایک اسلامی جمہوری ملک ہے۔ یہاں آئین پاکستان کا درجہ سب سے بڑا ہے۔ یہ وہ کڑی ہے جس کی وجہ سے ہم سب قائم ہیں۔ اسی کی وجہ سے لوگوں کے حقوق ہیں اور اسی وجہ سے اداروں کا وجود ہے۔ اسی وجہ سے پارلیمان ہے اور اسی وجہ سے الیکشن کا نظام ہے، اسی وجہ سے عدالتیں موجود ہیں، اور اسی وجہ سے بنیادی انسانی حقوق کا تصور ہمارے ذہنوں میں ہے۔ لیکن خان صاحب نے ان سب اصولوں کو پائوں تلے روندا۔ کبھی خود بڑے طمطراق سے آئین شکنی کی۔ کبھی صدر پاکستان اور گورنر پنجاب کو آئین شکنی پر مائل کیا۔ عدلیہ کا مذاق اڑایا۔ الیکشن کمیشن پر بہتان لگائے۔ فوج کی اعلیٰ قیادت پر الزام لگائے، بھرے جلسوں میں انکا تمسخر اڑایا۔ کبھی پارلیمانی نظام سے انکار کیا۔ کبھی صدارتی نظام کے خواب دیکھے۔ کبھی پارلیمان کے فیصلے سے منکر ہوئے، کبھی خود اداروں میں مداخلت کی، کبھی ووٹنگ کا حق مانگنے والے خان صاحب کے بیرون ملک مقیم پیرو کاروں نے اپنے پاکستانی پاسپورٹس کو نذر آتش کیا۔ یہ ساری باتیں ریاست کو کمزور تو کر سکتی ہیں، مگر اسکی مضبوطی کا باعث قطعی نہیں بن سکتیں۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ اخلاقیات ہمارے معاشرے کا بنیادی اصول ہے جو ہمیں بزرگوں کا ادب سکِھاتا ہے۔ لیکن اب اس معاشرے میں بڑی گالی دینے والا عمرانڈو پی ٹی آئی کا ٹائیگر سمجھا جاتا ہے۔ اب توہین کرنے والا دلیر مانا جاتا ہے۔ اب قانون توڑنے والا خان صاحب کا یوتھیا کہلاتا ہے۔ اب نفرت پھیلانے والا خان صاحب کے دوستوں کی اولین صف میں کھڑا ہوتا ہے۔ ہمارا معاشرہ ایسا نہیں تھا جیسا عمران خان نے بنا دیا۔ ہم ایسے لوگ نہیں تھے جیسا عمران نے ہمیں بنا دیا۔

بقول عمار مسعود، کچھ ادارے ملکی سلامتی کے ضامن ہوتے ہیں۔ فوج، عدلیہ، پارلیمان، آزاد میڈیا اور الیکشن کمیشن جیسے ادارے ہر ملک میں محترم ہوتے ہیں۔ انکے کسی غیر جمہوری کردار کی تادیب تو ہو سکتی ہے مگر انکا تمسخر نہیں اڑایا جا سکتا۔ ان کو تقسیم کرنے کی سازش نہیں کی جا سکتی۔ ان میں نفاق پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ ان کو ہزیمت کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ لیکن فوج کی تخلیق خان صاحب اس وقت ہر فوج سمیت ہر ادارے کی توہین کر رہے ہیں۔ وہ اقتدار واپس لینے کی ضد میں فوج میں نفاق اور تقسیم کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ الیکشن کمیشن کو جانبدار ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ انکی جانب سے پارلیمان کو بے توقیر کرنے کا سلسلہ رُک ہی نہیں رہا۔ عدلیہ پر بہتان طرازی کسی طرح بھی کم ہو نہیں رہی۔ میڈیا پر الزامات کی بوچھاڑ جاری ہے۔ عمران خان کی جانب سے ہر ادارے کے وقار کو پائوں تلے روندا جا رہا ہے۔ ملک کی ہر اساس کو تباہ و برباد کرنے کا مشن جاری و ساری ہے۔ ہر معاشرتی کلیے، وفاق کی ہر اکائی، استحکام کی ہر اینٹ کو پاش پاش کرنے کا عمل جاری ہے۔

ان حالات میں بھی اگر کچھ لوگوں کو اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی کہ خان صاحب کا مشن کیا ہے؟ وہ کرنا کیا چاہتے ہیں؟ انکے مقاصد کیا ہیں؟ وہ کس کے دست راست ثابت ہو رہے ہیں تو یہ انکی اپنی کم عقلی ہے۔ عمران نے کچھ عرصے میں ثابت کر دیا ہے کہ یا تو انہیں حکمرانی ہمیشہ کے لیے عطا کر دی جائے یا پھر اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لیے وہ ہر لمحہ تیار ہیں۔ جو کچھ خان صاحب آج کل کر رہے ہیں اس سے ان کا مشن بہت واضح ہے، وہ اپنے ذاتی مقاصد کے لیے اِس ملک کو نیست و نابود کرنے کی ہر کوشش کرنا چاہتے ہیں چاہے اسکے لیے اس سرزمین پاک کی سلامتی کی ہی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ اب خود سوچیں غلاظت کا یہ ٹوکرا کس کے سر کا تاج بنے گا۔ اہانت کا یہ سلسلہ کتنے دن تک چلے گا؟

Back to top button