کپتان کا فلیٹس کی تقسیم کا فراڈ پکڑا گیا

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے حال ہی میں ورکرز ویلفیئر فنڈ کے پیسوں سے بننے والے فلیٹس اور مکانات کو نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کا حصہ قرار دے کر مبینہ طور من پسند غیر مستحق افراد میں تقسیم کرنے کا عمل شدید تنقید کی زد میں ہے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد میں یہ منصوبہ 25 سال قبل پیپلزپارٹی کی حکومت نے شروع کیا تھا جسے اب کپتان نے اپنے کھاتے میں ڈال کر پاکستان ہاؤسنگ سکیم قرار دے کر اصل حقداروں کا حق مارنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ مزدور رہنماؤں نے اس ناانصافی اور فراڈ کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
متاثرہ مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف حکومت نے ورکرز ویلفیئر فنڈ کے تحت 25 سال میں تعمیر ہونے والے مکانات اور فلیٹس کی قرعہ اندازی کے عمل میں سے آئل اینڈ گیس کارپوریشن لمیٹڈ یا او جی ڈی سی ایل سمیت پٹرولیم کی دیگر کارپوریشنز سے وابستہ محنت کشوں کو بے دخل کر دیا ہے حالانکہ ورکرز ویلفیئر فنڈ میں سب سے زیادہ رقوم پٹرولیم کارپوریشنز کے محنت کشوں کی جانب سے جمع کروائی گئی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق صرف او جی ڈی سی ایل کی طرف سے اب تک 83 ارب 74 کروڑ سے زائد رقم جمع کروائی جا چکی ہے۔ او جی ڈی سی ایل کے محنت کشوں کا دعویٰ ہے کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ ایک خودمختار ادارہ ہے جس میں وفاقی حکومت کی مداخلت بھی غیر قانونی ہے لیکن وفاقی حکومت نے مکانات اور فلیٹس کی الاٹمنٹ کے لئے ہونیوالی قرعہ اندازی میں او جی ڈی سی ایل کے محنت کشوں کی شمولیت کےلئے خط و کتابت کرنے کے بعد ایک خصوصی قانون سازی کے تحت پٹرولیم کے شعبے کی تمام کمپنیوں کے محنت کشوں کو قرعہ اندازی میں شامل ہونے سے روک دیا یے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں وزیراعظم عمران خان نے ورکرز ویلفیئر فنڈ کے زیر اہتمام تعمیر ہونے والے 1008 فلیٹس اور 500 مکانات کا افتتاح کیا ہے۔ افتتاح کے موقع پر ان فلیٹس کو ’نیا پاکستان ہاﺅسنگ پراجیکٹ‘ کا حصہ قرار دیکر شہریوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی اور 25 سال قبل شروع ہونے والے منصوبے کو وزیراعظم کی غریبوں کو سستے گھر فراہم کرنے کی سکیم کا حصہ قرار دیا گیا۔ قرعہ اندازی میں 1800 درخواستیں موصول ہونے کے باوجود یہ دعویٰ کیا گیا کہ 3000 درخواستیں موصول ہوئی تھیں، لیکن ورکرز ویلفیئر فنڈ میں رقوم دینے والے محنت کشوں کو اس سکیم میں حصہ لینے سے روک دیا گیا۔ اس سکیم کے لیے بھی لوگوں کو ڈاﺅن پیمنٹ اور قسطوں کی رقم بارے آگاہ نہیں کیا گیا، اسکے علاوہ فلیتس۔کی کل مالیت سے بھی کسی کو آگاہ نہیں کیا گیا اور تاحال قرعہ اندازی میں کامیاب ہونے والے حقداروں کے ناموں کی فہرست بھی جاری نہیں کی جا سکی۔
واضح رہے کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ 1971ءمیں قائم کیا گیا تھا۔ اس فنڈ کا مقصد ملک بھر میں پیداواری شعبہ میں کام کرنے والے محنت کشوں کو سہولیات فراہم کرنا تھا۔ اس فنڈ کو ایک سیکرٹری اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی ایک خودمختار باڈی کے ذریعے سے چلایا جانا تھا۔ پیداواری شعبہ میں کام کرنے والی ہر صنعت اور کمپنی جو سالانہ 5 لاکھ روپے سے زائد منافع حاصل کر رہی تھی وہ منافع کا 2 فیصد حصہ ورکرز ویلفیئر فنڈ میں جمع کروانے کی پابند تھی۔ یہ رقم منافع میں محنت کشوں کے پانچ فیصد حصہ سے جمع کروایا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ فنڈ بنیادی طور پر مزدوروں کی شراکت داری کی بنیاد پر چلایا جاتا ہے۔
اس فنڈ کے قوانین کے تحت جو کمپنیاں سالانہ بنیادوں پر فنڈز جمع کرواتی ہیں ان کے محنت کش ورکرز ویلفیئر فنڈ کے مختلف منصوبہ جات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ ورکرز ویلفیئر فنڈ صحت، تعلیم اور ہاﺅسنگ کی سکیمیں مرتب کرتے ہوئے مزدوروں کو سہولیات فراہم کرنے کا ذمہ دار ہے۔ورکرز ویلفیئر فنڈ کی ویب سائٹ کے مطابق چاروں صوبوں میں 114 ہاﺅسنگ سکیمیں مکمل کی جا چکی ہیں، 26 پر کام جاری ہے، 31 پلاٹ ڈویلپمنٹ کی سکیمیں مکمل ہو گئی ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تعمیر ہونے والے مکانات اور فلیٹس کی یہ سکیم 25 سال قبل پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں شروع کی گئی تھی اور قرعہ اندازی میں حقدار قرار پانے والے محنت کشوں کو معمولی اقساط پر یہ مکانات فراہم کئے جانے تھے مگر اب کپتان حکومت نے اسے نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کا حصہ قرار دے کر مبینہ طور پر حقداروں کو ان کے حق سے محروم کر دیا ہے۔
او جی ڈی سی ایل کی یونین کے سیکرٹری جنرل انصار وڑائچ کہتے ہیں کہ او جی ڈی سی ایل کے ملازمین کے ساتھ نا انصافی کی گئی ہے۔ او جی ڈی سی ایل نے آج تک 83 ارب 74 کروڑ روپے ورکرز ویلفیئر فنڈ میں دیئے ہیں لیکن ہمیں قرعہ اندازی میں شامل نہیں کیا گیا، یہ مکان اور فلیٹ صنعتی مزدوروں کےلئے تیار کئے گئے ہیں جنہیں نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم سے جوڑ کر جعلی مارکیٹنگ کی جا رہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ کی انتظامیہ نے محنت کشوں کی جمع شدہ رقم سے ڈویلپ کئے گئے پلاٹوں کی آپس میں بندر بانٹ کر لی ہے اور کئی پلاٹ الاٹ کئے گئے ہیں۔ ہمیں خدشہ ہے کہ مکانات اور فلیٹس کی الاٹمنٹ میں بھی انتظامیہ اور حکومتی نمائندگان نے ملی بھگت سے اپنے من پسند افراد کو نوازا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرعہ اندازی میں منتخب ہونے والے افراد کے ناموں کی فہرست بھی عام نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر قرعہ اندازی والی ساری سرگرمی کو کالعدم قرار دیا جائے اور بورڈ میں حکومتی مداخلت کو ختم کرتے ہوئے قواعد میں کی جانیوالی خودساختہ ردوبدل کو واپس لیا جائے اور از سر نو او جی ڈی سی ایل کے محنت کشوں سمیت تمام حقداروں کو شامل کر کے قرعہ اندازی کی جائے تاکہ قواعد کے مطابق مکانات اورفلیٹس فراہم کئے جاسکیں۔ان کا کہنا تھا کہ بصورت دیگر ہم عدالت میں جانے کے علاوہ احتجاج کا ہر طریقہ اپنائیں گے۔
پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے رہنماؤں نے بھی الزام لگایا ہے کہ حکومت نے محنت کشوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ 50 لاکھ گھروں کے دعویداروں نے غریب مزدوروں کے اربوں روپے کے چندے سے تعمیر ہونیوالی سکیموں پر ڈاکہ مار کر اسے نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم قرار دینے کی کوشش کی ہے۔کپتان حکومت نے مزدوروں کے خون پسینے سے جمع شدہ رقم لوٹنے کےلئے یہ منصوبہ بنایا ہے۔ محنت کشوں کے مکانات اور فلیٹس بھی اپنے من پسند افراد کو الاٹ کر دیئے ہیں اور میڈیا پر نیا پاکستان ہاﺅسنگ پراجیکٹ کی تشہیر بھی کر دی ہے۔ لیکن اس منصوبہ میں حکمرانوں کو کامیاب نہیں ہونے دینگے، انکا کہنا ہے کہ اگر یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو تمام یونینوں اور محنت کشوں کو مجتمع کرتے ہوئے اس ڈاکہ زنی پر احتجاج کیا جائے گا اور متاثرہ محنت کشوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائیگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button