کپتان کا 50 لاکھ گھر دینے کا منصوبہ کیسے ناکام ہوا؟

کپتان حکومت کی جانب سے غریب لوگوں کو 50 لاکھ گھر فراہم کرنے کا نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ سست روی کی وجہ سے ناکامی کا شکار ہو گیا ہے اور سرکاری اندازے کے مطابق حکومت کی مدت اقتدار پوری ہونے تک صرف 5000 یعنی ایک فیصد مکانات ہی تعمیر کیے جا سکیں گے۔
یاد رہے کہ اقتدار میں آنے سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے جو سب سے اہم اور انقلابی وعدہ کیا تھا وہ غریب طبقے کو 50 لاکھ گھر بناکر دینے کا تھا، لہازا اس وعدے کی تکمیل کے لیے اقتدار میں آنے کے بعد نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام لانچ کیا گیا جس کے لیے کم آمدنی والے طبقے کو رعایتی شرح پر قرضے دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔ تاہم اب یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ کچھوے کی رفتار سے چل رہا ہے اور پچھلے تین برس میں اب تک صرف 1500 مکانات ہی تعمیر کیے جا سکے ہیں۔ مختلف شہروں میں جو ہاؤسنگ یونٹس زیر تعمیر ہیں انکی تعداد 3500 ہے جو 2022 کے آخر یا 2023 کے آغاز تک مکمل ہوں گے۔ یعنی کہتان حکومت کی مدت پوری ہونے تک پانچ لاکھ مکانات کی بجائے صرف 5000 مکانات ہی مکمل ہو سکیں گے جو کہ ٹوٹل منصوبے کے ایک فیصد مکانات بنتے ہیں۔
نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کی ناکامی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مکانات کو آمدن کے لحاظ سے 15 سے 20 سال کی قسطوں پر دیا جائے گا اور قسطیں پوری ہونے تک مکان کو فروخت نہیں کیا جا سکے گا۔ اسکے علاوہ ان مکانوں کی تعمیر میں حکومت کا رول صرف معاون کا ہے جبکہ اسے نجی شعبہ تعمیر کر رہا ہے۔
کیونکہ غریب لوگ اپنی کم آمدن کی وجہ سے مکان نہیں خرید سکتے لہٰذا حکومت نے نیا پاکستان ہاؤسنگ پروجیکٹ کے تحت ان مکانوں کے حصول کے لیے بینکوں سے قرضے کی سہولت بھی رکھی تھی۔ لیکن پاکستان میں بینکوں سے قسطوں پر مکان حاصل کرنے کی شرح صفر ہے کیونکہ یہاں قرضہ لینے والے کا اعتبار نہیں کیا جاتا اور اس لیے اسے قرضہ بھی نہیں ملتا۔
خیال رہے کہ دنیا بھر میں جن ممالک میں مکانوں کی مورگیج کا ماڈل کامیابی سے چل رہا ہے وہاں اس سیکٹر میں شرحِ سود چار فیصد کے لگ بھگ ہے جبکہ اس کے برعکس پاکستان میں فی الوقت بنیادی شرح ساڑھے آٹھ فیصد ہے اور حکومت کے آئی ایم ایف سے قرض لینے کے لیے بعد اس میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ موجودہ حالات میں اگر کم آمدن والے طبقے کو نیا پاکستان منصوبے کے تحت پانچ سے سات مرلے کا مکان بینک سے قسطوں پر مل بھی جائے تو وہ ادائیگیاں نہیں کر سکے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ کم آمدن والے افراد کے لیے ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کم آمدن سے مطلب ماہانہ 25 ہزار آمدن بھی ہو تو کیا وہ مکان کی دس ہزار روپے قسط دے سکے گا اور اگر قسط اس سے کم ہوتی ہے تو ادائیگی میں بیسیوں سال لگ جائیں گے، لہازا کون اتنی معاشی قیمت چکان پر تیار ہو گا۔
اسی لیے حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے سستے مکانات کی ترغیب کے باوجود ہاؤسنگ منصوبے کے لیے قرض کے حصول کی رفتار بھی سست روی کا شکار ہے۔ مرکزی بینک کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق کمرشل بینکوں کا خالص ہاؤسنگ فنانس اسٹاک جولائی 2020 سے اور مارچ 2021 کے درمیان 9 ماہ کے عرصے میں محض 13 ارب 70 کروڑ روپے اضافے کے ساتھ 93 ارب 50 کروڑ روپے ہوا۔ تاہم اس میں بینکوں کے ذریعے اپنے ملازمین کو پیش کیے گئے ہاؤسنگ بلڈنگ قرضوں کو شامل نہیں کیا گیا جس کا اسٹاک اسی عرصے کے دوران 109 ارب 80 کروڑ روپے سے بڑھ کر 134 ارب 80 کروڑ روپے ہوگیا ہے۔
مشترکہ طور پر بینکوں کا ہاؤسنگ لون اسٹاک جولائی میں 189 ارب 60 کروڑ سے بڑھ کر 228 ارب 30 کروڑ ہوا جو ملکی معیشت کے حجم کا 0.5 فیصد سے تھوڑا زیادہ ہے۔متوسط آمدنی والے گھرانوں کو سستی رہائش فراہم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے ملنے والی مراعات میں ایک لاکھ چھوٹے مکانات اور اپارٹمنٹس کو نمایاں سود کی سبسڈی کے علاوہ 3 لاکھ روپے فی یونٹ سبسڈی کی پیشکش کی گئی تھی تاکہ گھر مالکان کے لیے مورگیج کی ادائیگی آسان ہوسکے۔
ساتھ ہی مرکزی بینک نے کمرشل بینکوں کو ہاؤسنگ اور شعبہ تعمیرات کے لیے اپنے نجی شعبے کے پورٹ فولیو کا کم از کم 5 فیصد تقسیم کرنے کے اہداف دیے تھے اور ہدف پورا نہ کرنے والے بینکوں کو ریگولیٹر کے ذریعے جرمانہ عائد کیا جانا تھا۔ لیکن اعدادوشمار سے کسی بھی طرح ایسا نہیں لگتا کہ حکومت کو متوقع نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ہاؤسنگ فنانس میں سست روی کے دیگر عوامل کے علاوہ ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ قرض دہندگان کی اکثریت بینک کی شرائط پر پورا نہیں اترتی کیونکہ ان کے پاس انکم پروفائل یا کریڈٹ ہسٹری نہیں ہوتی۔ دوسری جانب بینک اپنے رقم کا تحفظ چاہتے ہیں، لہذا قرضہ حاصل کرنے کے خواہش مند اکثر اس کے حصول میں ناکام ہو جاتے ہیں۔
