کپتان کی تعلیمی اصلاحات ضیاء دور کا تسلسل کیوں ہیں؟


شدت پسندوں کے ساتھ صلح کے معاہدے کرنے والے عمران خان کی حکومت جو تعلیمی اصلاحات متعارف کروا رہی ہے انہیں جنرل ضیاءالحق کے دور کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے جس سے کہ مذہبی انتہا پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ناقدین کے نزدیک عمران خان موجودہ کپتان حکومت بھی اسی مائینڈ سیٹ کو لے کر آگے بڑھ رہی ہے جس نے کہ ضیاء دور میں معاشرے کو تباہی اور بربادی سے دوچار کیا تھا۔ انکا کہنا ہے کہ ضیاء کی طرح عمران خان کے پیش نظر بھی بس سیاسی اسلام ہی ہے۔ لہٰذا جس طرح ضیاء دور کی تعلیمی اصلاحات سے دین اسلام کی خدمت کی بجائے مذہبی انتہا پسندی نے فروغ پایا اور الٹا لوگ اسلام سے دور ہوئے، اسی طرح عمران حکومت کی جانب سے متعارف کروائے گئے نام نہاد یکساں تعلیمی نصاب سے بھی نہ صرف تعلیمی معیار مزید گراوٹ کا شکار ہو رہا ہے بلکہ مذہبی انتہا پسندی بھی تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔

اس معاملے پر پنجاب یونیورسٹی کی ریسرچ سوسائٹی آف پاکستان کے ڈائریکٹر اور ماہر تعلیم ڈاکٹر اقبال چاولہ کا کہنا ہے کہ بنیادی بات یہ ہے کہ جس ملک میں شرح خواندگی ساٹھ فیصد سے بھی کم ہو وہاں زور اس بات پر نہیں دیا جانا چاہئیے کہ تعلیم کس زبان میں دی جائے۔ حکومت کو شرح خواندگی عالمی معیار کے مطابق لانے پر فوکس کرنا چاہیئے خواہ تعلیم کسی زبان میں بھی دی جا رہی ہو۔ دوسری جانب نئے نصاب میں زیادہ زور قومی زبان اور مذہبی تعلیم کے فروغ پر ہے جو کہ معاشرے کو پیچھے کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے جبکہ ساری دنیا آگے کی طرف بڑھ رہی ہے اور اسی وجہ سے بنگلہ دیش پاکستان سے علیحدہ ہونے کے بعد آج شرح خواندگی میں ہمارے ملک سے کہیں آگے ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے سلیبس میں بچوں کو دین اسلام کی تعلیم پہلے بھی دی جاتی ہے۔ لیکن بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس میں اضافے سے بچوں میں ایک خاص نوعیت کی ذہن سازی ہوگی۔ اگر ایسا ہی ہے تو یہ بالکل غلط سوچ یے۔ ڈاکٹر چاولہ کا کہنا تھا کہ سابق فوجی آمر ضیاءالحق کے دور میں مخصوص نوعیت کی ذہن سازی کے لئے نصاب میں اسلامیات اور پاکستان اسٹڈیز کو بڑے پیمانے ہر شامل کیا گیا تھا، اسلئے نصاب میں مذہبی تعلیم کا عمل دخل ابھی بھی کافی ہے ۔اب اگر اس میں مزید اضافہ کیا گیا تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کو ضیا دور میں واپس لے جایا جا رہا ہے کیونکہ نصاب میں نام نہاد اصلاحات کا یہ عمل ضیاءالحق کے دور کا تسلسل ہے۔

حکومت کی جانب سے یکساں نصاب کے نام پر متعارف کروائے جانے والے سلیبس کے ناقدین کہتے ہیں کہ اسخے پیچھے وہی مائینڈ سیٹ دکھائی دیتا ہے جو ضیا دور میں تھا۔ اور اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ان کے پیش نظر بھی بس سیاسی اسلام ہی تھا۔ لیکن حقیقتاً، اس سے اسلام اور پاکستان دونوں کی کوئی خدمت نہیں ہو رہی، ہاں ان دونوں کا نقصان ضرور ہو رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یکساں نصاب کی بنیاد اس مفروضے پر رکھی گئی ہے کہ اس سے یکسانیت آئے گی حالانکہ یہ سوچ ہی غلط ہے کیونکہنجب تک تعلیمی نظام کا بنیادی انفرا اسٹرکچر یکساں نہیں ہو گا، یکسانیت حاصل نہیں ہوسکے گی۔ جب تک حکومت اشرافیہ اور دور دراز دیہاتی علاقوں میں رہنے والے عام لوگوں کے بچوں کی تعلیم کے لئے یکساں ماحول مہیا نہیں کرے گی، یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکے گا کیونکہ پاکستانی اشرافیہ کے بچے بدستور احساس برتری کا اور عام آدمی کے بچے احساس کمتری کا شکار رہیں گے۔

Back to top button