تحریک لبیک کے ہاتھوں شہید پولیس والوں کو انصاف کون دے گا؟


تحریک انصاف حکومت نے تحریک لبیک کے ساتھ سرنڈر کے معاہدے پر دستخط کر کے ریاست کی رٹ کا جنازہ تو نکال ہی دیا لیکن ریاستی رٹ کی حفاظت کرتے ہوئے ٹی ایل پی کے ہاتھوں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے قاتلوں کو بھی معاف کر دیا۔ اب محکمہ پولیس کی جانب سے شہداء کے لواحقین کو یہ کہہ کر طفل تسلیاں دی جا رہی ہیں کہ ان کے پیاروں کو شہادت کی موت نصیب ہوئی جو کہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے، تاہم شہدا کے لواحقین آج بھی پرنم آنکھوں کے ساتھ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ وہ کس کے ہاتھ پر اپنے پیاروں کا لہو تلاش کریں۔ وہ یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ حکومتی احکامات پر پرتشدد ہجوم کو روکنے کی کوشش کرنے والے پولیس والوں نے کیا کوئی گناہ کیا تھا کہ انہیں جان سے مار دیا گیا اور پھر ریاست نے بڑی بے رحمی سے ان کے خون کا سودا بھی کر دیا۔

ایسے ہی دل شکستہ لوگوں میں ایک پسرور کا رہائشی 17 سالہ اویس بھی یے جس کے والد کانسٹیبل خالد جاوید کی ڈیوٹی تحریکِ لبیک کے لانگ مارچ کے راستے پر لگائی گئی تھی۔ کانسٹیبل خالد جاوید میو ہسپتال لاہور کے قریب ڈیوٹی دے رہے تھے جہاں لانگ مارچ کے شرکا کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔ نتیجتاً پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور دو پولیس والوں نے جان شہادت نوش کیا۔ شہید کانسٹیبل خالد جاوید کے بیٹے محمد اویس نے پر نم آنکھوں اور کانپتی آواز میں بی بی سی کو بتایا کہ ‘میرے لیے وہ لمحہ بیان کرنا بھی مشکل ہے جب میں نے والد کی موت کی خبر سنی۔ ان کی شہادت سے آدھا گھنٹا پہلے میری ان سے بات ہوئی تھی۔ میرا آج بھی جی چاہتا ہے کہ میں ایک دفعہ انھیں گلے لگا سکتا۔

یاد رہے کہ اویس پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی ہیں۔ وہ انٹرمیڈیٹ میں پری میڈیکل کے طالب علم ہیں اور ان کے والد کی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنیں۔ اویس کے مطابق ‘ابو کہتے تھے کہ تم نے پریشان نہیں ہونا، تم بس اپنی تعلیم جاری رکھو اور اپنے ہدف حاصل کرو۔ لیکن اب میرے ابو شہید ہو گئے ہیں۔ محمد اویس اور ان کے خاندان کے لیے آنے والے دن اچانک غیریقینی میں بدل گئے تھے۔ وہ اور ان کے چچا محمد عارف کے خاندان اکٹھے ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ ان کی ذمہ داری اب ان کے چچا عارف پر آن پڑی ہے جو کھیتی باڑی کرتے تھے۔ عارف کہتے ہیں کہ کانسٹیبل خالد جاوید ‘ہمارے گھر کے واحد ایسے کفیل تھے جن کی وجہ سے گھر کا سرکل چل رہا تھا۔ ان کے جانے سے اب ہمیں مشکلات ہوں گی۔ عارف کا سوال ہے کہ ان کے بھائی کو انصاف کیوں نہیں ملا وہ تو اپنا فرض نبھا رہے تھے۔
دوسری جانب تحریک لبیک کا لانگ مارچ لاہور میں رکا نہیں تھا۔ وہ جوں جوں آگے بڑھ رہا تھا پولیس ان کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی اور نتیجتاً کئی افراد ہلاک اور زخمی ہو رہے تھے جن میں پولیس کے اہلکار بھی شامل تھے۔ تین روز بعد جب لانگ مارچ لاہور سے باہر نکل کر حافظ آباد پہنچا تھا تو پولیس کے کم از کم چار اہلکار شہید اور سو سے زیادہ زخمی ہو چکے تھے۔ ٹی ایل پی نے بھی دعوٰی کیا تھا کہ ان کے کئی کارکنان مارے گئے تھے۔

اس دوران وفاقی حکومت نے ٹی ایل پی کی قیادت کے ساتھ مذاکرات بھی شروع کر رکھے تھے اور ساتھ ہی انھیں خبردار بھی کر دیا گیا تھا کہ انھیں مزید آگے نہیں بڑھنے دیا جائے گا۔ وفاقی محکمہ داخلہ نے دو ماہ کے لیے صوبہ پنجاب میں رینجرز کو تعینات کر کے پولیس کو انکے ماتحت کر دیا تھا۔ رینجرز نے دریائے جہلم کے پل پر ناکہ لگا لیا تھا اور مظاہرین کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ اس سے آگے نہ بڑھیں، وہ نہیں بڑھے۔ انھوں نے وہیں پڑاؤ لگا لیا تھا۔ اس دوران حکومت اور اہلِ سنت کے علماء کے ساتھ حکومت کے مذاکرات میں ایک خفیہ معاہدہ طے پا گیا۔ ٹی ایل پی کے مطالبات میں اسکے گرفتار کارکنان کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل تھا چنانچہ حکومت نے اسے تسلیم کرلیا اور۔پولیس والوں کے قاتلوں سمیت تمام کارکنان کو رہا کر دیا گیا۔

تاہم پولیس حکام نے شہدا کے لواحقین کو صرف اتنا ہی بتایا ہے کہ انہیں شہادت کی موت نصیب ہوئی ہے اور وہ جنت میں گے ہیں۔ دوسری جانب حالیہ مظاہروں میں مارے جانے والے تحریک لبیک کے کارکنان کے لواحقین بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ان کے پیارے جنت میں گئے ہیں۔ تاہم کانسٹیبل خالد جاوید کے اہلخانہ اکیلے نہیں جنھیں نہیں معلوم کہ ان کے گھر کے سربراہ کی موت کیسے ہوئی اور اسکے لیے کس کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

یاد رہے کہ گوجرانوالہ میں حافظ آباد پولیس کے کانسٹیبل محمد عدنان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ تحریک لبیک کے دھرنے پر ڈیوٹی دینے والے عدنان دو روز بعد ان کی تشدد زدہ لاش قریب واقع کھیتوں سے ملی تھی۔ ان کے ساتھی کے مطابق انھیں مظاہرین نے اغوا کیا تھا اور تشدد کر کے مارنے کے بعد کھیتوں میں پھینک دیا تھا۔ تاہم تھانہ صدر وزیرآباد میں درج کی گئی ایف آئی آر میں ابتدائی طور پر انھیں ‘نامعلوم شخص’ لکھا گیا تھا۔ ان کے ساتھی کے مطابق ‘پولیس کئی گھنٹے بعد ان کی شناخت کر پائی۔ اور شناخت سے پہلے ہی نامعلوم کر کے ایف آئی آر درج کر دی گئی۔ لہٰذا اب قانونی طور پر یہ انتہائی مشکل ہو گیا ہے کہ کانسٹیبل عدنان کے قاتلوں کو عدالت سے سزا دلوائی جا سکے۔’ عدبان کے گھر والے سوال کرتے ہیں کہ انہیں انصاف کون دلوائے گا اور کیا آئندہ کوئی پولیس والا تحریک لبیک کے مظاہرین کو روکنے کی غلطی کرے گا؟

پولیس فورس میں پائے جانے والے ایسے جذبات کا اظہار حافظ آباد پولیس کے سی آئی اے کے انچارج خالد واریہ نے انسپکٹر جنرل آف پنجاب پولیس کو لکھے ایک خط میں بھی کیا تھا جس میں انھوں نے ان اموات کا ذمہ دار ‘سینئر پولیس افسران کی ناقص منصوبہ بندی اور انکی بزدلی کو قرار دیا تھا۔

Back to top button