کپتان کی ٹیم کے 5 کھلاڑی دوہری شہریت کے حامل نکلے

وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ کے 19 غیر منتخب اراکین میں سے 5 اراکین دوہری شہریت اور بیرون ملک اربوں روپے کے اثاثوں اور جائیدادوں کے مالک نکلے. وزیراعظم کے15 معاونین خصوصی اور 5 مشیران کے اثاثوں اور دو ہری شہر یت کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ کابینہ ڈویژن کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کے 5 معاونین خصوصی دوہری شہریت کے حامل ہیں ۔ معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ شاہد اندروس کے پاس کینیڈا اور سنگاپور کی شہریت ہے۔وزیر اعظم کی معاون خصوصی تانیہ ایس اندرس کو 28 فروری کو معاون خصوصی مقرر کیا گیا۔ وہ پیدائشی طور پر کینیڈ ا کی نیشنلٹی ہولڈرز ہیں ۔ اس وقت ان کے پاس کینیڈا اور سنگاپور کی ریزیڈنسی ہے ۔

معاون خصوصی برائے توانائی ڈویژن شہزاد قاسم امریکی شہریت رکھتے ہیں. معاون خصوصی نیشنل سیکورٹی ڈویژن معید یوسف امریکی رہائش ہیں۔ معید یوسف کو دسمبر 2020میں معاون خصوصی برائے قومی سلامتی مقرر کیا گیا۔کابینہ ڈویژن کے مطابق معاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابر امریکی شہریت کے حامل ہیں۔ ندیم بابر کو 22اپریل 2019 کو معاون خصوصی بر ائے پیٹرولیم مقرر کیا گیا۔ معاون خصوصی پارلیمانی کوآرڈینشن ندیم افضل چن بھی کینڈین رہائش کے حامل ہیں. ندیم افضل گوندل کو 15 جنوری 2019 کو معا ون خصوصی بر ائے پار لیمانی کو آ رڈی نیشن مقرر کیا گیا۔معاون خصوصی آورسیز زلفی بخاری بھی دوہری شہریت کے حامل نکلے زلفی بخاری برطانوی شہریت رکھتے ہیں۔ سید ذوالفقار عباس بخاری کو 13مئی 2020 کو معاون خصوصی بر ائے اووریز پا کستانیز ڈویژن مقرر کیا گیاتھا.معاون خصوصی سیاسی روابط شہباز گل امریکی گرین کارڈ ہولڈر نکلے ۔معاون خصوصی شہباز گل کو 13مئی 2020 کو معاون خصوصی برائے سیا سی روابط مقرر کیا گیاتھا.
کابینہ ڈویژن نے وزیر اعظم کے معاونین خصوصی کے اثاثوں کی تفصیلات بھی جاری کردی ہیں. جس کی تفصیلات کے مطابق مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے صرف پاکستانی شہریت ظاہر کی ہےجبکہ حفیظ شیخ نے 29 کروڑ 70 لاکھ روپے کے اثاثے ظاہر کئے ہیں۔مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے50 لاکھ روپے مالیت کی مرسیڈیز گاڑی اپنے اثاثوں میں ظاہر کی۔ حفیظ شیخ نے 20 لاکھ روپے مالیت کے زیورات اپنے اثاثوں میں ظاہر کئے۔ مشیر خزانہ نے بنک میں 13 کروڑ 50 لاکھ روپے اپنے اثاثوں میں ظاہر کئے ۔
مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے ایک ارب 75 کروڑ 68 لاکھ 39 ہزار 276 روپے کے کل اثاثے ظاہر کئے۔ مشیر تجارت نے اپنے نام پر ایک ارب 35 کروڑ 50 لاکھ 66 ہزار 438 روپے کے اثاثے ظاہر کئے ۔ عبدالرزاق داود نے اہلیہ کے نام 40 کروڑ 17 لاکھ 71 ہزار 838 روپے کے اثاثے ظاہر کئے۔ عبدالرزاق داود نے اسٹاک اینڈ شیئر میں 52 کروڑ 12 لاکھ 99 ہزار 409 روپے سرمایہ کاری ظاہر کی۔ مشیر تجارت نے اہلیہ کے نام 5 کروڑ 18 لاکھ 46 ہزار 583 روپے اسٹاک اینڈ شیئرز میں سرمایہ کاری ظاہر کی ۔ مشیر تجارت نے 31 کروڑ 58 لاکھ 58 ہزار 42 روپے کی نقد رقم ظاہر کی۔ مشیر تجارت نے اہلیہ کے نام بنک میں 45 لاکھ 51 ہزار 149 روپے کیش ظاہر کیا۔ مشیر تجارت نے اہلیہ کے نام 52لاکھ 3 ہزار 500روپے مالیت کے 100 تولہ زیورات کے اثاثے ظاہر کئے ۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار کے اثاثوں کی مالیت 6 کروڑ روپے ہے، عثمان ڈار نے سیالکوٹ میں زرعی اراضی اور کارروبار کی مالیت ظاہر نہیں کی، معاون خصوصی صحت ظفر مرزا 5 کروڑ 70 لاکھ روپے کے مالک ہیں، معاون خصوصی کے پاس 2 کروڑ روپے مالیت کا گھر اور 3 کروڑ کے پلاٹس بھی ہیں، ظفر مرزا کی اہلیہ کے پاس 20 لاکھ روپے مالیت کے زیورات بھی ہیں۔
معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر 2 ارب 75 کروڑ روپے کے مالک ہیں، ندیم بابر کی پاکستان اور بیرون ملک جائیدادیں ہیں، ندیم بابر کے بیرون ملک 2 درجن سے زائد کمپنیوں میں شیئرز ہیں، ندیم بابر پاکستان میں 12 کروڑ97 لاکھ روپے کی کمرشل اراضی کے مالک ہیں۔
معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدرس 71 کروڑ روپے سے زائد کے اثاثوں کی مالک ہیں، تانیہ ایدرس کی امریکہ، سنگاپور، یوکے میں متعدد پراپرٹیز ہیں، معاون خصوصی برائے تحفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر 2 کروڑ روپے سے زائد کی مالک ہیں، معاون خصوصی برائے نیشنل سکیورٹی ڈویژن معید یوسف بھی ارب پتی نکلے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل11 کروڑ 85 لاکھ روپے کے مالک ہیں، شہباز گل کے ذمے 2 کروڑ 42 لاکھ کے واجبات ہیں، شہباز گل کے موجودہ اثاثوں کی مالیت9 کروڑ 44 لاکھ روپے ہے، پاکستان میں ایک پلاٹ اور فارم ہاوس اور بیرون ملک ایک گھر کے مالک ہیں۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوور سیز زلفی بخاری کے اثاثوں کی تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں، زلفی بخاری پاکستان میں 1300 کنال سے زائد اراضی کے مالک ہیں، اسلام آباد میں زلفی بخاری کے 34 کنال اراضی پر مشتمل پلاٹس ہیں، زلفی بخاری لندن میں 48 لاکھ 50 ہزار پاونڈ کی جائیداد کے بھی مالک ہیں.زلفی بخاری کے پاس بیرون ملک 5 کمپنیوں کے شیئرز ہیں، زلفی بخاری کی اہلیہ کے پاس 5 لاکھ پاونڈ مالکیت کا سونا ہے، زلفی بخاری اور انکی اہلیہ کے پاکستان میں 24 لاکھ روپے بینکوں میں موجود ہیں، زلفی بخاری کی بیرون ملک بینکوں میں 17 لاکھ پاونڈ رقم موجود ہے۔ مشیر ملک امین اسلم ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں۔
معاون خصوصی شہزاد اکبر کے 7 کروڑ 77لاکھ کے مالک ہیں ۔ معاون خصوصی علی نواز 5 کروڑ 38 لاکھ روپے اثاثوں کے مالک ہیں۔وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹرعشرت حسین کے اثاثو ں کی مالیت 19کروڑ 42لاکھ 22ہزار روپے ہے. معاون خصوصی شہزاد سید قاسم کے دبئی میں تین گھروں کی مالیت دو کروڑ درہم ہے۔ امریکا میں پراپرٹی کی قیمت 8 لاکھ 65 ہزار ڈالر ہے،۔ شہزاد سید قاسم کے امریکہ میں بینک اکاونٹس میں 21 لاکھ ڈالر، دبئی میں بینک اکاونٹس میں 18 لاکھ درہم موجود ہیں۔ شہزاد سید قاسم کی دبئی میں دو گاڑیوں کی مالیت 3 لاکھ 55 ہزار درہم ہے ۔
معاون خصوصی اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ 15 کروڑ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ گلبرگ گرین میں 7 کروڑ روپے ما لیت کا فارم ہاوس،کراچی، لاہور اسلام آباد میں معاون خصوصی اطلاعات کے پاس 5 پلاٹس بھی ہیں ۔ رحیم یار خان اور بہاولپور میں 65 ایکڑ اراضی بھی موجود ہے۔ باابر اعوان کے پاس ایک کروڑ 68 لاکھ روپے مالیت کی 6 گاڑیاں، 20 لاکھ روپے کے زیورات اور لاکھ روپے کے فرنیچر کے بھی مالک ہیں۔
بابر اعوان کے پاس 18 لاکھ روپے کے زرعی آلات ہیں جبکہ تین لاکھ روپے کی کلب ممبر شپ بھی حاصل کررکھی ہےبابر اعوان نے 5 کروڑ سے زائد نقد رقم جبکہ 2 کروڑ سے زائد رقم بنک اکاونٹس میں ظاہر کی ہے۔ندیم بابر تمام غیر منتخب مشیران اور معاون خصوصی میں سب سے امیر اور عبد الرزا ق دائود دوسرے نمبر پر ہیں۔واضح رہے کہ وفاقی کابینہ کے اراکین کی کل تعداد 50 ہے۔ اس میں سے غیر منتخب ارکان کی تعداد 19 ہے ۔ ان میں سے چودہ معاونین خصوصی اور پانچ مشیر ہیں۔
دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف اور معاون خصوصی شہباز گل نے اپنے اثاثوں اور دوہری شہریت سے متعلق جاری تفصیلات کی وضاحت پیش کر دی۔معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف کا کہنا ہے کہ میرے خلاف افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، میرے پاس پاکستان کے علاوہ کسی ملک کی شہریت نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ میں حکومت پاکستان کو اپنی شہریت سےمتعلق پہلے ہی حلف نامہ جمع کروا چکا ہوں، میں اپنی موجودہ ذمہ داری سنبھالنے کے بعد امریکا نہیں گیا، نہ ہی مجھے امریکا سے کوئی آمدنی آ رہی ہے۔معید یوسف کا کہنا ہے کہ میری بیرون ملک کوئی اربوں یا لاکھوں کی جائیداد نہیں ہے، میرے یا میرے اہلخانہ کے پاس پاکستان کے علاوہ کسی ملک میں کوئی جائیداد نہیں ہے۔معاون خصوصی برائے قومی سلامتی نے کہا کہ میری شہریت سے متعلق غلط فہمی نا پھیلائی جائے۔
دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں صرف پاکستانی شہری ہوں، میرے پاس کسی اورملک کی نہ شہریت ہے نہ ہی پاسپورٹ ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان نے کابینہ اجلاس میں مشیران اور معاونین خصوصی سے دہری شہریت کی تفصیلات طلب کی تھیں۔اپوزیشن کی جانب سے معاونین خصوصی کی شہریت کے حوالے سے حکومت پر تنقید کی جاتی رہی ہے اور حالیہ بحرانوں کی ذمہ داری بھی عائد کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ گزشتہ دنوں لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد قاسم نے بھی ایک کیس کی سماعت کے دوران کابینہ میں غیر منتخب ارکان کے حوالے سے ریمارکس دیے تھے کہ الزام لگتا ہے حکومت غیر منتخب لوگ چلا رہے ہیں، غیر منتخب لوگ تو اپنا بیگ اٹھاتے ہیں اور اپنے دفتروں کو چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ جو منتخب ہوتا ہے اسے عوام میں جانا پڑتا ہے، وزیر بھی ہو تو عوام کا سامنا کرنا پڑتا ہے، منتخب اور غیر منتخب افراد میں یہی فرق ہے۔
