کپتان کے وفادار ساتھی ایک ایک کر کے سائیڈ لائن

عمران خان کے وزیراعظم بننے کے 18 ماہ بعد ان کے تقریبا تمام قریبی پرانے ساتھی اب حکومتی معاملات سے باہر اور سائڈ لائن ہوئے نظر آتے ہیں۔ حال ہی میں سائیڈ لائن کیے جانے والے کپتان کے پرانے وفاداروں میں تازہ ترین اضافہ جہانگیرترین کا ہے جو ماضی قریب میں عمران کے قریب ترین سیاسی رفقاء میں شمار ہوتے تھے۔
وزیراعظم عمران خان کے بارے میں ان کے قریبی حلقے یہی رائے رکھتے ہیں کہ کوئی ان کا کتنا ہی پرانا ساتھی کیوں نہ ہو اگر کپتان کے دل میں میل آجائے تو اسے اپنی ٹیم سے فورا باہر نکال دیتے ہیں۔ اکبر ایس بابر، جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین احمد، یوسف بیگ مرزا، طاہر اے خان، افتخار درانی حتیٰ کہ جہانگیر ترین بھی اب کپتان کی ٹیم سے نکل چکے ہیں۔ یعنی اب وزیر اعظم سیکرٹریٹ عمران خان کے دوستوں سے خالی ہو چکا ہے اورآج کل ان کے قریبی ترین مشیر ان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ہیں جو کہ ایک پرانے اور کھانگڑ بیوروکریٹ ہیں۔ تحریک انصاف کے شروع کے دنوں سے ان کے ساتھ چلنے والے اکبر ایس بابر اور وجیہ الدین احمد سے کپتان پہلے ہی جان چھڑوا چکے ہیں۔
یوسف بیگ مرزا مستعفی ہونے کے بعد اپنے گھر جا چکے ہیں۔ افتخار درانی کو بھی گھر بھیج دیا گیا ہے۔ طاہر اے خان کو اپنے ذاتی چینل پرنیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کے خلاف غیر اخلاقی مواد نشر کرنے کی وجہ سے فارغ کردیا گیا تھا۔ ندیم افضل چن وزیر اعظم کے ترجمان ہوتے ہوئے بھی ترجمانی کے لیے تیار نہیں ہیں۔ چودھری فواد کو بشری بی بی کے کہنے پر بہت عرصہ پہلے وزارت اطلاعات سے ہٹا دیا گیا تھا اور اب فردوس عاشق اعوان کپتان کے قریبی رفقا میں شمار ہوتی ہیں جس کی بنیادی وجہ مشیر اطلاعات کا بشری بی بی سے پیری مریدی کنکشن ہے۔
اندر کی خبر رکھنے والے بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر شہباز گل جب لاہور میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے ساتھ اختلاف کے بعد مستعفی ہو کر اسلام آباد پہنچےتو کئی مہینے مسلسل نعیم الحق کے دفتر میں بیٹھتے رہے۔ نعیم الحق نے وزیر اعظم عمران خان سے درخواست کی کہ ڈاکٹر شہباز گل کو اپنی ٹیم میں شامل کریں جس کے بعد کپتان نے شہباز گل کو ڈاکٹر فردوس عاشق آباد کے ساتھ ملکر اطلاعات کے معاملات دیکھنے کی ذمہ داری سونپ دی۔
اس کا مطلب تھا کہ وہ وزارت اطلاعات کے کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرینگے تاہم ڈاکٹر شہباز گل نے حسب عادت سرکاری قاعدے سے باہر نکل کرفوری طور پر تمام پی آر اوز کی ایک میٹنگ کےلئے لیٹر جاری کردیا ۔ بس اس لیٹر کا جاری ہونا تھا کہ وزارتِ اطلاعات میں تھر تھلی مچ گئی۔ چونکہ ابھی شہباز گل کی کوئی سرکاری حیثیت واضح نہیں تھی اس لئے پی آر او ڈٹ گئے کہ یہ کس حیثیت میں ہمیں بلا رہا ہے۔ یہ خفگی ڈاکٹر فردوس عاشق تک پہنچی جسکے بعد شہباز گل ان سے ملے اور ’’آپا جی آپا جی ‘‘کہہ کر صفائیاں پیش کرتے رہے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ جس فردوس عاشق اعوان کے سامنے فواد چوہدری ، یوسف بیگ مرزا اور افتخار درانی نہیں ٹھہر پائے وہاں شہباز گل کی کیا حیثیت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button