کچھ لوگ عمران خان کو فیل کرنا چاہتے ہیں

مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی چوہدری مونس الہٰی نے کا کہنا ہے کہ یہ بالکل غلط ہے کہ ہم بزدار حکومت ختم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم سے ملاقات کے حوالے سے کہا کہ وزیر اعظم کے ساتھ پہلی ملاقات اچھی رہی، کھل کر وزیر اعظم سے باتیں ہوئی تھیں، وزیر اعظم نے جو باتیں کیں ان کو کلئیر کیا۔ ق لیگ کے کچھ سابق لوگ نہیں چاہتے عمران خان کامیاب ہوں، ان شاء اللہ 2023ء تک حکومت کے ساتھ اتحاد قائم رہے گا۔
پاکستان مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنماء چوہدری مونس الہٰی نے کہا ہے کہ چوہدری پرویزالہٰی وزارت اعلیٰ کے امیدوار بالکل نہیں ہیں، وزیراعظم سے ملاقات اچھی رہی، جو بھی خدشات تھے دور کردیے، کچھ لوگ عمران خان کو فیل کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا پی ٹی آئی کے ساتھ معاہدہ تھا کہ ہمارے وزرا با اختیار ہوں گے، پوسٹنگ ٹرانسفر پالیسی میں وزرا بااختیار ہوں گے ، ہمارے تین اضلاع کے حوالے سے معاملات بھی طے ہوئے تھے، طے ہو ا تھا کہ ہماری وزارتوں میں مداخلت نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت آٹے اور چینی کے بحران پر قابو پا لے گی۔ آٹے اور چینی بحران کے حل کیلئے حکومت نے کوئی مشورہ نہیں مانگا، ہماری پالیسی ہے ہم پی ٹی آئی کو خود مشورہ نہیں دیتے۔ پی ٹی آئی ہم سے آٹے اور چینی بحران بارے مشورہ کرے گی تو حل بھی بتائیں گے۔ مونس الہٰی نے کہا کہ کوشش ہے اتحاد برقرار رہے اور حکومت اپنی مدت پوری کرے۔
ان شاء اللہ 2023ء تک حکومت کے ساتھ اتحاد قائم رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری مونس الہٰی وزارت اعلیٰ کے امیدوار بالکل نہیں ہیں۔ چاہتے ہیں پنجاب میں ہماری دو وزارتوں کو مضبوط کیا جائے اور جو بھی معاملات ہیں افہام وتفہیم سے حل کیے جائیں گے۔ پی ٹی آئی کے ساتھ چیزیں بہتری کی جانب جا رہی ہیں، معاملات ابھی سست روی کا شکار ہیں رکے نہیں، کمیٹی پر کوئی اعتراض نہیں، کمیٹی بنانا وزیراعظم کا اختیار ہے۔ ایک دواضلاع میں ٹرانسفر پوسٹنگ کا مسئلہ ہے وزیراعلیٰ نے حل کرا دیا ہے۔
