کھانےکےبارےمیں احمقانہ سوالات پرجرمانہ عائدکرنےوالاریسٹورنٹ

ریسٹورنٹس میں گاہک اکثرمینواورکھانےکےمتعلق بہت سے احمقانہ سوالات کرتےرہتے ہیں بالخصوص امریکا میں ایسے سوالات زیادہ کیےجاتے ہیں۔ لیکن اب ایک امریکی ریسٹورنٹ نےایسی ہی حرکت پرمعمولی جرمانہ عائد کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔
ڈینورمیں واقعہ ٹام ریسٹورنٹ کی انتظامیہ کے مطابق بعض سوالات تواتنے احمقانہ ہوتے ہیں کہ ان پرغصہ آجاتا ہےاوراسی بنا پرایک سوال پرانتظامیہ نے38 سینٹ یا پاکستانی 45روپے جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جرمانے کو باقاعدہ بل میں شامل بھی کیا جاتا ہے۔
حال ہی میں ریڈ اِٹ ویب سائٹ نے ریستوران کا ایک بل دکھایا ہے جو سوشل میڈیا پربہت زیادہ مقبول ہوا ہے تاہم ریسٹورنٹ کے جنرل مینیجرہنٹرلینڈرے نے کہا ہے کہ ہم اس بوجھل دنیا میں ہلکا پھلکا مزاح شامل کرنا چاہتے ہیں تاکہ لوگ مسکرائیں اورراحت محسوس کریں۔ جب گاہک ہم سے سوال کرتے ہیں اورجب انہیں بل پیش کیا جاتا ہے تووہ خود اپنے سوال پرہنستے ہیں۔
ہنٹرکے مطابق خود گاہکوں کویہ تدبیراچھی لگی ہےاوربعض تو قریب آکر پوچھتے ہیں کہ مثلاً کونسا سوال احمقانہ ہوسکتا ہے اور کونسا ٹھیک رہے گا؟ تواس پرریسٹورنٹ انتظامیہ نے کہا کہ ایک گاہک نے برف کا آرڈر دیتے ہوئے کہا کہ اس میں پانی ہوگا یا نہیں!
