کھسیانی بھارتی پولیس نے پاکستانی جاسوس کبوتر رہا کردیا؟

سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا نشانہ بننے کے بعد اپنی شرمندگی اور خفت کو چھپاتے ہوئے بھارتی پولیس نے خاموشی کے ساتھ مبینہ پاکستانی جاسوس کبوتر آزاد کر دیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے ضلع کٹھوا کےسینئر پولیس سپرٹنڈنٹ شالیندر کمار نے اس بات کی تصدیق کی کہ دو روز قبل پکڑے جانے والے پاکستانی کبوتر کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی پولیس حکام نے ایک پاکستانی جاسوس کبوتر پکڑنے کا دعویٰ کرتے ہوئے اس کی تصاویر بھی میڈیا کو جاری کی تھیں اورالزام عائد کیا تھا کہ کبوتر کوپاکستان کی طرف سے باقاعدہ جاسوسی کی ٹریننگ دے کر بھارت بھیجا گیا ہے تاہم پاکستانی جاسوس کبوتر پکڑنے کا بھارتی دعویٰ اس وقت مذاق بن گیا تھا جب مبینہ جاسوس کبوتر کے مالک شکر گڑھ کے حبییب اللہ نے بھارتی وزیر اعظم سے کبوتر واپس کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ حبیب اللہ نے بتایا تھا کہ کبوتر کے جاسوسی کرنے کے بھارتی الزامات بے بنیاد ہیں۔ عید کے روز انھوں نے کبوتر اڑائے تھے مگر گولڈن نسل کی یہ مادہ کبوتری واپس نہیں آئی۔ بعد ازاں ٹی وی چینلز سے انھیں علم ہوا کہ وہ کبوتری بھارت نے پکڑ لی ہے۔ انھوں نے وضاحت کی تھی کہ کبوتروں کی شناخت کیلئے ان پر رنگ لگایا گیا ہے جبکہ اس کے پاؤں میں ڈالے گئے چھلے پر کندہ نمبر کوئی کوڈڈ میسج نہیں بلکہ اس کا موبائل نمبر ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ مودی میرے کبوتر کو پورے پروٹوکول اور عزت کے ساتھ واپس کریں ورنہ وہ سرحد پر جاکر احتجاج کریں گے۔
بھارتی حکام کے جاسوس کبوتر پکڑنے کے دعوے کو میڈیا چینلز پر نشر کرنے کے بعد یہ خبر انڈیا کی جگ ہنسائی کا سبب بن گئی تھی اور سوشل میڈیا صارفین نے بے بنیاد دعوے پر بھارتی میڈیا اور سیکورٹی حکام کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے خوب مذاق اڑایا تھا۔ سوشل میڈیا خصوصاً ٹوئٹر پر ’پیجن‘ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا اوربھارتی میڈیا پر اس خبر کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے میمز بنانے، بے لاگ تبصرے کرنے اور بھارت کا مذاق اُڑانے کا سلسلہ جاری رہا۔ تاہم اب اطلاعات یہ ہیں کہ بھارتی حکام نے اس دعوے پرسوشل میڈیا پر ہونے والے شدید تنقید کے بعد اپنے سبکی کو مٹانے کیلئے مبینہ پاکستانی جاسوس کبوتر آزاد کر دیا ہے۔ کبوتر آزاد ہونے پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے کبوتر کے مالک حبیب اللہ کا کہنا ہے کہ اسے خوشی ہے کہ اس کے کبوتر کو آزاد کردیا گیا ہے لیکن اگر اسے فضا میں چھوڑنے کے بجائے اسے واپس کردیا جاتا تو زیادہ اچھا ہوتا، اب اس کی آنکھیں اپنے کبوتر کی واپسی کی منتظر ہیں، اس نے یہ کبوتر مقابلے کے لیے تیار کیا تھا۔ حبیب اللہ کا کہنا ہے کہ اگر کبوتر واپس آ گیا تو اسے مقابلے میں اڑاؤں گا۔
یاد رہے کہ ماضی میں بھی پاکستان سے اڑکر بھارت جانے والے کئی کبوتروں پر بھارت کی طرف سے جاسوسی کا الزام لگا کر انھیں پکڑا جاتا رہا ہے، پاکستانی کبوتر بازشناخت کیلئے کبوتروں کے پروں پر اردومیں لکھی گئی مہرلگاتے ہیں جسے بھارتی ایجنسیاں کوئی خفیہ پیغام سمجھ لیتی ہیں، بھارت میں پکڑے جانیوالے کئی پاکستانی کبوتر تو جاسوسی کے الزام کی وجہ سے خاصی شہرت بھی پاچکے ہیں۔ سال 2015 میں بھی پاک بھارت سرحد پر پٹھان کوٹ کے علاقے میں بھارتی فوج نے ایک کبوتر پکڑا تھا جسے پاکستان کا جاسوس قرار دیا تھا۔پولیس کے مطابق کبوتر کے پاس موجود پرچی پر اردو میں درج تھا، ‘مودی ہم اب 1971 والے لوگ نہیں اب بچہ بچہ بھارت سے لڑنے کے لیے تیار ہے‘۔بعدازاں ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ پولیس نے ‘مشتبہ کبوتر کے پَر اس وجہ کاٹے گئے تاکہ وہ دوبارہ پاکستان نہ جاسکے’۔ 2017 میں بھی بھارتی پولیس نے کئی گھنٹے کی تگ و دو کے بعد ایک کبوتر کو پکڑا تھا، جس کے ساتھ مبینہ طور پر ‘5547 جانباز خان’ کا ٹیگ لگا ہوا تھا جبکہ ساتھ ایک فون نمبر بھی درج تھا۔تاہم پولیس کی لاپروائی کے باعث سرحد کی مخالف سمت سے بھارت میں ‘دراندازی’ کرنے والا جاسوس کبوتر اڑنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
