کیاپاکستان کی خاطر فوج عمران کو معاف کر سکتی ہے؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ الله خان نیازی نے کہا ہے کہ ملک کو دلدل سے نکالنے کیلئےایک ایسے چارٹر پر کام کی ضرورت ہے جس میں عمران خان بھی موجود ہو اور فوجی قیادت بھی اُسکے حقوقِ ملکیت لے۔ ماضی میں سیاستدانوں کے ہر ایسے اکٹھ یا گفت و شنید میں حکومت وقت اور اسٹیبلشمنٹ غیر موجود رہے ہیں۔ اس دفعہ سب کو ایک دوسرے کو معاف کرنا اوراکٹھے بیٹھنا ہوگا۔ جسکا جو سیاسی نقصان جسکے ہاتھوں ہوا ہے اسکی معافی مانگنا ہوگی اور تلافی کرنا ہوگی۔ مگر بد قسمتی کہ حل کسی بھی فریق کو قبول نہیں ہے۔
۔ حفیظ الله نیازی اپنے ایک کالم میںلکھتے ہیں کہ آج ہم جو کچھ کاٹ رہے ہیں، بوائی، آبیاری کئی برسوں پہلے کی تھی ۔ مقتدر طبقہ کے کرتوتوں ہی نے تو وطن عزیز کو آج حالتِ نزع میں پہنچایا ہے ، ملکی تاریخ اور ذاتی مشاہدات کا لب لباب یہ ہے کہ ، ہمارے مسائل کا نقطہ آغاز 7 جنوری 1951 سے پاکستان آرمی کی باقاعدہ ترتیب و تنظیم سے ہی ہو گیا تھا ۔ اگرچہ سیاستدان برضاو رغبت بڑھ چڑھ کر استعمال ہوتے رہے لیکن وہ اصل وارداتوںکےذمہ دار نہیں۔اصل بڑے مجرم بلکہ جدِ امجدجنرل ایوب خان نے ہی خرابی کا پہلا بیج بویا ان کی آخری سانس تک قیادت رکھنے میں دلچسپی تھی اور آج ہر آنے والا سربراہ آخری سانس تک چیف کا عہدہ برقرار رکھنا گویااپنا حق سمجھتا ہے۔ ستر سال سے نظام کی ترتیب ایک آرمی چیف کی فکرِ تدبر کی مرہون منت رہی۔ ایک آدمی کی فکر اور سوچ کے اُصول پر ملکی نظم و نسق ترتیب پاتا رہا ۔ 1962 کے آئین کے آرٹیکل 2 میں لکھا گیا کہ” فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان عوام کو یہ آئین دے رہا ہے۔” یعنی آئین استحکام ریاست کیلئے نہیں،”استحکامِ ایوب خان” کیلئے بنایا گیا۔ تب سے اب تک” استحکام آرمی چیف” اور” استحکام پاکستان "لازم و ملزوم بنے۔
حفیظ اللهنی نیازی لختیو ہیں کہ لا محالہ پہلی واردات کی کوکھ سے دوسری واردات کا جنم لینا ایک فطری عمل تھا۔ لیاقت علی خان کی شہادت سے لیکر خواجہ ناظم الدین کی معزولی تک ، ذوالفقار علی بھٹو کا اقتدار میں آنا پھر راندہ درگاہ ہونا، بینظیر بھٹو تا نواز شریف تا عمران خان تا شہباز شریف ،قوم دل پر ہاتھ رکھ کر بتائے ، "27 ستاروں کی کہکشاں” میں سے ( ماسوائے لیاقت علی خان اور خواجہ ناظم الدین ) ایک بھی "درخشاں ستارہ ” کون سا تھا جو اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر مسند پر بیٹھا ہو یا پھر راندہ درگاہ نہ ہوا ہو۔ تیسری واردات یہ ہے کہ 27 وزرائے اعظم میں سے ایک بھی بھی ایسا نہیں جس کی عسکری قیادت سے بن پائی. محمد علی بوگرہ سے شہباز شریف تک اگرچہ آغاز ہمیشہ مثالی تعلقات سے ہوا لیکن انجام ہمیشہ ریاست پر بھاری رہا اقتدار کی کشمکش نے چولیں ہلا ئیں ۔ جنرل باجوہ نے موجودہ حکومت کو ہٹانے کیلئے مارشل لاء کا بھی سوچا۔ چوتھی واردات یہ رہی کہ ،جتنے وزراء اعظم نکالے گئے سب پر کم و بیش الزامات ایک جیسے "کرپٹ ، نااہل، سیکورٹی رسک”ہیں۔ پانچویں واردات یہ ہے کہ ایک آدھ کو چھوڑ کر کسی کو مسند MERIT پر نہیں ملی۔ترجیح یہ رہی کہ مٹی کامادھورہے تاکہ جیسے چاہیں مروڑ توڑ لیں۔ چھٹی واردات کے بارے حفیظ اللہ نیازی کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی، وسیع تر قومی مفاد اور استحکام پاکستان”کےپردے پیچھے ہمیشہ دلجمعی کیساتھ عسکری سربراہ کا ذاتی مفاد ، اپنی سلامتی اور اپنے اقتدار کا استحکام یقینی بنانا تھا۔ ساتویں واردات :اقتدار کو دوام دینا ہے جس کیلئے” آب حیات ” آئین اورنظام کی دھونس دھاندلی کے ذریعے فراہم ہوتا رہا ۔مقصد یہ تھا کہ راسخ، سیاسی نظام جائز ناجائز اسٹیبلشمنٹ کے اثر و رسوخ سے باہر نہ ہو نےپائے۔
حفیظ الله نیازی بتاتے ہیں کہ آٹھویں واردات یہ ہوئی کہ فو جی سربراہ اپنے لا محدود اختیارات اور بے پایاں طاقت کے بل بوتے پراپنے ہی ادارے کو ذاتی خواہشات کی بھینٹ چڑھاتا رہا۔افسوس 70 سال کی محنت شاقہ سے آج ادارے کا مثالی نظم و نسق قصہ پارینہ بن گیا اور معیاری نظم و نسق کی بحالی کیلئے موجودہ چیف سرگرداں ہیں ۔
تکلیف دہ بات یہ ہے کہ روز ِاول سے قومی سیاستدان بھی شریک جرم رہے اسٹیبلشمنٹ واردات کیلئے کمر بستہ نظر آئی، اور سیاستدان اپنے نظریات ، اصول اور اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کر اسٹیبلشمنٹ کے معاون بن گئے۔ خواجہ ناظم الدین کی کابینہ نے اگلے دن بوگرہ کا حلف اُٹھا لیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کیA ٹیم ضیا الحق کے دستر خوان پرآن پہنچی ۔ نواز شریف کے ساتھی2002 میں ق لیگ میں اورعمران خان کی کابینہ، آئے دن معافی کی خواستگار ہے جبکہ نواز شریف کی پارٹی جنرل باجوہ کے اشاروں پر ناچتی رہی۔
حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ اس وقت فکر ایک ہی ہے کہ مملکت کو نکالا کیسے جائے؟ اس کے لئے عمران خان سمیت سب کو سچ بولنا ہوگا،صلح کرنی ہوگی ،معافی تلافی ہوگی تو پاکستان بچ جائے گا۔ مملکت ِ اسلامیہ پاکستان کے تمام سیاسی، سماجی دانش کدے اِس بات پر متفق کہ وطن عزیز دلدل میں پھنس چُکا مگر بد قسمتی یہ ہے کہ حل کسی بھی STAKE HOLDER کو وارا نہیں کھاتا۔
