’’ٹوئیٹر کے مقابلے میں ’’تھریڈز‘‘ پلیٹ فارم کا آغاز‘‘

دور حاضر کے سوشل میڈیا جائنٹس آمنے سامنے آ گئے ہیں، ایلون مسک کے ٹوئیٹر پلیٹ فارم کے مقابلے میں فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے ’’تھریڈز‘‘ کو لانچ کر دیا ہے، جس سے دونوں میں مقابلے کی فضا سے صارفین کو کوالیٹی سروسز میسر آئیں گی۔
اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو لانچ ہونے کے بعد سے ایک کروڑ سے زائد افراد اس نئی سوشل میڈیا ایپلیکیشن پر اپنا اکاؤنٹ بنا چکے ہیں، تھریڈز کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ یہ ایلون مسک کے ٹوئٹر کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہو سکتی ہے۔
اس سے قبل ٹوئٹر کے مقابلے میں کئی کمپنیوں نے سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ ویب سائٹس متعارف کروائیں لیکن کوئی بھی ٹوئٹر کی جگہ نہیں لے سکا، میٹا نے تھریڈز کی ایپ ایپل اور اینڈرائیڈ سٹورز پر امریکہ کے مقامی وقت کے مطابق رات 11 بجے لانچ کی تھی جو ایک سو ممالک میں ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے تاہم یورپ میں ڈیٹا سکیورٹی کے خدشات کی بنیاد پر فی الحال لانچ نہیں کی گئی۔
تھریڈز کے لانچ ہوتے ہی مشہور امریکی گلوکارہ جنیفر لوپیز، شکیرا اور اداکار ہیو جیک مین کے اکاؤنٹس بھی ایپ پر ایکٹو ہو گئے ہیں جبکہ میڈیا اداروں میں سے واشنگٹن پوسٹ، روئٹرز اور دا اکانمسٹ نے بھی استعمال کرنا شروع کر دی ہے۔
اس نئے پلیٹ فارم پر فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے اپنی پہلی پوسٹ میں صارفین کو خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ ’اس ایپ کے استعمال کرنے والے ایک ارب سے زیادہ ہونے چاہییں، ٹوئٹر کے پاس ایسا کرنے کا موقع تھا لیکن نہیں کیا، مارک زکربرگ نے امید ظاہر کی کہ تھریڈ پر ایک ارب صارفین کے اکاؤنٹس کا ٹارگٹ مکمل ہو جائے گا۔
اپنی پہلی پوسٹ کے کچھ دیر بعد ہی مارک زکربرگ نے لکھا کہ ’پہلے چار گھنٹوں میں 50 لاکھ سے زائد افراد نے سائن اپ کر لیا ہے جبکہ کچھ ہی دیر بعد کی گئی ایک اور پوسٹ میں فیس بک کے بانی کا کہنا تھا کہ سات گھنٹوں میں ایک کروڑ صارفین نے سائن اپ کر لیا ہے۔
تھریڈز کی ایپ کو انسٹاگرام کے ساتھ منسلک ہونے کی وجہ سے صارفین کی تعداد کے حوالے سے اُن چیلنجز کا سامنا نہیں ہوگا جو کسی بھی نئی ایپ کو درپیش ہو سکتا ہے۔ انسٹاگرام استعمال کرنے والے 2 ارب سے زائد صارفین کو تھریڈز تک آسان رسائی حاصل ہو گی جس سے اس نئی ایپ کے فالورز کی تعداد میں بھی اضافہ ہونے میں مدد ملے گی۔
اقتصادی امور کے ماہر برائین وائیزر نے انسٹاگرام پر بڑی تعداد میں فالوورز رکھنے والی امریکی ماڈل کم کارڈیشن، گلوکار جسٹن بیبر اور فٹ بال لیجینڈ لیونل میسی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ تھریڈز پر بھی باقاعدگی سے پوسٹ کرنا شروع کر دیتے ہیں تو نیا پلیٹ فارم بہت جلد کامیاب ہو جائے گا۔
ایک اور تجزیہ کار جیسمین اینگبرج کا کہنا ہے کہ تھریڈز کو ٹوئٹر کے مقابلے میں آنے کے لیے انسٹاگرام کے ہر چار صارفین میں سے صرف ایک کے ماہانہ اکاؤنٹ بنانے کی ضرورت ہے، انسٹا گرام کے چیف ایڈم موسیری کا کہنا ہے کہ تھریڈز آزاد اور دوستانہ بات چیت کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنے کے مقصد سے بنائی گئی ہے۔
واضح رہے کہ میٹا کے بلاگ پوسٹ کے مطابق نئی ایپ میں صارفین مختصر ٹیکسٹ میں پوسٹ کرسکتے ہیں جنہیں دیگر صارفین لائک، ری پوسٹ اور ریپلائی بھی کرسکتے ہیں، تاہم اس میں ایک صارف دوسرے صارف کو ڈائریکٹ پیغام نہیں بھیج سکتا۔
ایک پوسٹ کی تحریر 500 الفاظ پر مشتمل ہوگی اور صرف 5 منٹ کی ویڈیو ہی پوسٹ ہوسکیں گے۔بلاگ پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ایپل کے ایپ اسٹور اور گوگل کے پلے اسٹور دونوں پر پاکستان سمیت 100 سے زیادہ ممالک میں دستیاب ہے۔
ایپ اسٹور میں اس ایپ کی تفصیل میں کہا گیا ہے کہ ’تھریڈز وہ جگہ ہے جہاں کمیونٹیز ان موضوعات پر بات کرنے کے لیے جمع ہوتی ہیں جن کے بارے میں آپ آج اہمیت دیتے ہیں اور یہ کہ کل کیا ٹرینڈ ہوگا۔
