کیا اب افغان طالبان کشمیر کا رخ کریں گے؟

افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد بھارت میں یہ خدشات زور پکڑ رہے ہیں کہ افغان طالبان بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کا رُخ بھی کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ طالبان کی جیت سے پاکستان کو ایک دفاعی یا اسٹرٹیجک فائدہ ملا ہے اور بھارت ایک نقصان سے دوچار ہوا ہے جس کے کشمیر کے معاملے پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ افغان طالبان بھارتی کشمیر پر بھارت کے کنٹرول کو ناجائز قرار دیتے ہوئے ماضی میں کشمیری عسکریت پسندوں کی حمایت کا اعادہ کرتے رہے ہیں۔ وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد اب جموں کشمیر کے لوگوں میں کئی طرح کے خدشات اور اندیشے جنم لے رہے ہیں جب کہ استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی عسکریت پسند تنظیمیں طالبان کے کابل پر قبضے پر خوشی کا اظہار کر رہی ہیں۔ اس پسِ منظر میں پندرہویں صدی کے ایک مشہور عالم اور صوفی بزرگ شاہ نعمت اللہ ولی کی پیش گوئیوں کا ایک بار پھر ذکر ہو رہا ہے بلکہ بعض حلقے ان کی ترویج و تشہیر میں بھی پیش پیش نظر آ رہے ہیں۔
شاہ نعمت اللہ نے افغانستان میں اس طرح کے حالات پیدا ہونے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان کی بدلتی صورتِ حال بھارت کے لیے بغاوت اور تباہی و بربادی کا مؤجب بن جائے گی۔
افغان طالبان کے کشمیر کا رخ کرنے سے متعلق سری نگر کے اعلیٰ پولیس عہدیدار وجے کمار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس طرح کی کوئی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے تو بھارتی فوج، دیگر سیکیورٹی فورسز اور مقامی پولیس اس کا پیشہ ورانہ طور پر مقابلہ کریں گے۔انہوں نے کہا "ایک پولیس افسر کی حیثیت سے میں یہی کہوں گا کہ اگر کوئی یہاں آ گیا تو میرا کام اس سے متعلق اطلاعات حاصل کرنے کے بعد فوج کے ساتھ مل کر اس خطرے سے نمٹنے کے لیے کارروائی کرنا ہے۔”ان کے بقول آئندہ در پیش کسی بھی چیلنج کا پیشہ ورانہ طریقے سے مقابلہ کیا جائے گا۔ ہم مکمل طور پر خبردار اور چُست ہیں۔
اس معاملے پر بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) شنکر رائے چوہدری نے کہا کہ بھارتی حکومت کو چاہیے کہ وہ جموں و کشمیر میں اپنی سرگرمیاں بڑھائے اور اس کے عوام کو یہ یقین دہانی کرائے کہ بھارت ایک سیکیولر جمہوریت کے طور پر رواں دواں رہے گا۔ان کے بقول، "افغانستان میں طالبان کی فتح پاکستان میں موجود عسکریت پسندوں کو کشمیر میں ایک نئے جارحانہ عمل کے لیے اکسا سکتی ہے یا یہ اس کا موجب بن سکتی ہے۔”
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں عام افراد کا ایک حلقہ جہاں افغان طالبان کی ممکنہ آمد کے حوالے سے کئی خدشات اور تحفظات کا اظہار کر رہا ہے وہیں متعدد شہریوں کی یہ رائے ہے کہ اگر طالبان آ جاتے ہیں تو اس سے نہ صرف مقامی عسکریت پسندوں کی حوصلہ افزائی ہو گی بلکہ یہ نئی دہلی کو کشمیر کا مسئلہ حل کرنے پر مجبور بھی کر سکتی ہے۔عبدالطیف بٹ نامی شہری نے کہا کہ "اگر افغان طالبان یہاں آتے ہیں تو ایک نئی تباہی اور کُشت و خون کا آغاز ہو گا اور یہ سلسلہ کہاں تک جائے گا اس بارے میں وہ بے حد خوف زدہ ہیں۔” نذیر احمد گل کار کہتے ہیں کہ”ہم گزشتہ 32، 33 برسوں سے زندہ ہونے کے باوجود بھی مُردوں کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم ہزاروں نوجوانوں، بزرگوں اور بچوں کو پہلے ہی کھو چکے ہیں۔”ان کا کہنا ہے کہ املاک کی تباہی و بربادی اپنی جگہ لیکن اب کوئی فیصلہ ہونا چاہیے۔ ہم کب تک یوں ہی پنجرے میں قید خوف زدہ پرندوں کی طرح زندگی گزارتے رہیں گے۔
غیر ملکی عسکریت پسند اور جہادی جنگجو پہلے بھی مقامی عسکریت پسندوں کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے مبینہ طور پر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر آتے رہے ہیں۔ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے حال ہی میں دعوی کیا تھا کہ بقول ان کے اب غیر ملکی عسکریت پسند بہت ہی قلیل تعداد میں کنٹرول لائن پار کر کے وادیٔ کشمیر یا جموں کے علاقے میں داخل ہو رہے ہیں۔
تجزیہ کار اور یونیورسٹی آف کشمیر کے شعبہ سیاسیات کے سابق پروفیسر ڈاکٹر نور احمد بابا مستقبل میں افغان طالبان کے کشمیر کی طرٖف پیش قدمی کے امکان کو یکسر رَد کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ "لوگوں کے خدشات ہوں یا اُمیدیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ درست ہیں۔ طالبان ابھی کابل میں قدم جمانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کی پہلی کوشش ملک پر اپنی حکومت کو مضبوط اور مستحکم بنانے اور خود کو بین الاقوامی برادری کے نزدیک قابلِ قبول بنانے کے لیے ہو گی۔” انہوں نے کہا کہ کشمیر دفاعی لحاظ سے کوئی ایسی غیر محکم جگہ نہیں ہے کہ کوئی بھی یہاں بلا روک ٹوک آ جا سکے۔ افغانستان میں تعینات امریکی افواج کی تعداد محض لاکھ سوا لاکھ کے قریب تھی۔ یہاں اتنی کثیر تعداد میں بھارتی مسلح افواج موجود ہیں اور سرحدوں پر ان کا ہمہ وقت کڑا پہرہ رہتا ہے۔تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے اثرات کشمیر پر ضرور مرتب ہوں گے۔ پروفیسر ڈاکٹر نور احمد بابا کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ایک دفاعی یا اسٹرٹیجک فائدہ ملا ہے جب کہ اس حوالے سے بھارت نقصان سے دوچار ہوا ہے جس کے کشمیر کے معاملے پر دور رس اور وسیع پیمانے پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
