کیا ارشد شریف بیانیے کی جنگ میں کراس فائرنگ کا شکار ہوئے؟

بی بی سی اردو نے کینیا میں پراسرار حالات میں قتل ہونے والے سینئر صحافی ارشد شریف کے حوالے سے اس اہم سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے کہ کیا وہ بیانیے کی جنگ میں بہت آگے نکل جانے کی وجہ سے مارے گئے؟ یاد رہے کہ یہ وہی بیانیہ تھا جو عمران خان کے دور حکومت میں اسٹیبلشمنٹ نے تشکیل دیا تھا، لیکن ہائبرڈ سسٹم کی ناکامی اور عمران خان کی اقتدار سے رخصتی کے بعد اسٹیبلشمنٹ کا بیانیہ بدل گیا، تاہم ارشد شریف اپنے کئی دیگر صحافی ساتھیوں کی طرح اسی بیانیے کو لے کر آگے بڑھتے رہے جو اب عمران خان کا بیانیہ بن چکا تھا یعنی کپتان کے تمام سیاسی مخالفین چور اور ڈاکو ہیں اور انہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ اقتدار میں لے کر آئی ہے۔
اس جنگ میں تب اور بھی تیزی آگئی جب عمران نے امریکی سازش اور امپورٹڈ حکومت کا بیانیہ اپناتے ہوئے نیوٹرلز کو غدار اور میرجعفر قرار دینا شروع کر دیا۔ ارشد شریف اور ان جیسے دیگر کئی صحافی بھی اسی بیانیے کو لے کر چلتے رہے۔ چنانچہ جس طرح عمران دور میں اسٹیبلشمنٹ اور حکومت مخالف صحافیوں کو اختلاف رائے کی قیمت ادا کرنا پڑتی اسی طرح کپتان کا اقتدار ختم ہونے کے بعد ان کے بیانیے کے ساتھ کھڑے رہنے والے ارشد شریف کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
کہا جاتا ہے کہ ارشد پر زیادہ سختی اس لیے ہوئی کہ انہوں نے فوجی سربراہ کو تختہ مشق بنا لیا تھا، لہٰذا ایک وقت ایسا آیا کہ انہیں ملک چھوڑ کر باہر جانا پڑ گیا جہاں انکا قتل ہو گیا۔ اسی لیے اب صحافی برادری نہ صرف ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہے بلکہ یہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ انھیں ملک چھوڑ کر کیوں جانا پڑا؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا ارشد شریف واقعی اپنے بیانیے کی جنگ میں اتنا آگے نکل گئے تھے کہ انہیں راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کرنا پڑا؟
اسینئر صحافی اعزاز سید نے ارشد شریف کے ساتھ 2009 سے 2012 تک کام کیا۔ اعزاز کی زیادہ تر خبریں فوج مخالف گردانی جاتی تھیں جبکہ ارشد شریف کو پرو اسٹیبلشمنٹ صحافی سمجھا جاتا تھا تاہم اعزاز کہتے ہیں کہ میری خبریں بہت تنقید پر مبنی ہوتی تھیں مگر ارشد نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا۔ وہ ہمیشہ شکایت کرنے والوں سے کہتے تھے کہ میں اپنے رپورٹر کو اہمیت دوں گا۔ ہمارے کچھ دفتری امور پر کچھ اختلافات بھی رہے مگر میں نے جب بھی کوئی اچھا کام کیا، انھوں نے حوصلہ افزائی کی۔ باقاعدہ میسج کرتے کہ مجھے تم پر فخر ہے۔ ذاتی اور پروفیشنلی طور پر ارشد شریف ہمیشہ سپورٹیو رہے لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں ارشد شریف اسٹیبلشمنٹ کے عتاب کا نشانہ بننے والے حکومت مخالف صحافیوں کا ساتھ دینے سے انکاری رہے بلکہ ان حملوں کو ’جعلی‘ قرار دیا۔
ان حملوں کا شکار ہونے والوں میں سے ایک ابصار عالم تھے۔ جب انھیں اسلام اباد میں گولی ماری گئی تو ارشد شریف نے اپنے پروگرام اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر حملے کو مشکوک قرار دیا۔ اس کی ایک وجہ انکے قریبی ساتھی وہ اختلافات بتاتے ہیں جو ارشد شریف اور ابصار عالم کے مابین تب پیدا ہوئے جب وہ چیئرمین پیمرا تھے۔ تاہم ارشد کی ٹیم میں رہنے والے اعزاز سید نے کہا کہ ان کے ساتھ رپورٹنگ کے دنوں میں جب ’میرے گھر پر حملہ ہوا تو ارشد شریف وہ پہلے آدمی تھے جو میرے پاس پہنچے اور میرا بہت ساتھ دیا۔ وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے مجھے کہا کہ میں برطانیہ چلا جاؤں مگر میں نے منع کر دیا۔ وہ کسی بھی حملے یا دھمکی کے موقع پر اپنی ٹیم کے لوگوں کا ساتھ دیتے تھے لیکن ان کی شخصیت کا یہ پہلو ہمیں بڑے مواقع پر چھپا نظر آتا ہے۔ مطیع اللہ جان کے مطابق انہین اس بات کا افسوس ہے کہ ارشد سیاسی بیانیے کی حمایت میں بعض اوقات صحافتی پیشہ ورانہ اقدار پر سمجھوتہ کرتے ہوئے آگے بڑھے۔ انھوں نے کئی بار عمران دور حکومت میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ قرار دیے جانے والے صحافیوں کو ’غدار‘ قرار دیا اور ان پر ریاست مخالف سرگرمیوں کا الزام لگایا۔ مگر شاید وہ اپنے موقف پر قائل ہو چکے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اور کر رہے ہیں وہ درست ہے۔ ارشد کا خاندانی بیک گراونڈ بھی ملٹری تھا، ان کے والد نہ صرف نیوی کا حصہ تھے بلکہ انھوں نے آئی ایس ائی میں بھی خدمات سرانجام دی تھیں۔ ارشد کہ چھوٹے بھائی پاک فوج میں میجر تھے جن کا ایک کار ایکسیڈنٹ میں انتقال ہو گیا تھا۔
ارشد شریف کی صحافت سے جڑا دوسرا تنازعہ انکی بعض عمران خان مخالف سیاسی جماعتوں کے خلاف رپورٹنگ بھی تھی، اس بارے مطیع اللہ جان کہتے ہیں کہ ’ارشد کے دلائل اگرچہ ٹھیک نہ بھی ہوں مگر وہ انکے ساتھ جڑے رہتے تھے۔ اس کی وجہ ان کی ذاتی پسند، ناپسند نہیں بلکہ پراسس کی سمجھ نہ ہونا تھا۔ مثال کے طور پر گذشتہ کچھ برسوں میں جس قدر پولیٹیکل انجنیئرنگ ہوئی، ارشد شریف کو اس میں عدالتی کاروائیوں اور طریقہ کار کا علم نہیں تھا کیونکہ انھوں نے عدالتی رپورٹنگ نہیں کی تھی۔ وہ بہت زیادہ دستاویزی ثبوت دیکھتے تھے۔ ڈاکیومنٹس کے ساتھ ان کی گہری وابستگی تھی۔ لیکن انھیں یہ سمجھ نہیں ائی کہ یہ سلیکیٹو ڈاکیومنٹس جو لیک کیے جاتے ہیں ان کا پس پردہ مقصد مخصوص ایجنڈا سیٹ کرنا ہوتا ہے۔ اور ارشد اس کے تنہا شکار نہیں تھے، اور کئی صحافی بھی ہیں۔ مگر کم از کم ارشد کے بارے میں یہ بات میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی خبروں کے پیچھے کوئی جانبداری یا ایجنڈا نہیں تھا۔ وہ دستاویزات سے اتنا کنونس ہو چکے ہوتے تھے کہ وہ ان سے ہٹ کر دیکھتے ہی نہیں تھے۔
مطیع اللہ جان سمجھتے ہیں کہ حالیہ کچھ مہینوں میں ارشد شریف کا فوج مخالف ہو جانا یا تحریک انصاف کی حد سے زیادہ حمایت کرنے کی ایک وجہ یہ غصہ تھا کہ انھیں گذشتہ کچھ برسوں میں ایک مخصوص بیانیہ یا ایجنڈا سیٹ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا اور اب یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ بیانیہ غلط تھا۔ مطیع کہتے ہیں کہ ’حالیہ کچھ برسوں میں وہ سیاسی جماعتوں کے معاملے پر بیانیے کی جنگ میں بہت آگے چلے گئے اور شاید حالیہ مہینوں میں بہت سے صحافیوں کو محسوس ہوا ہو گا کہ انھیں بعض اداروں کی طرف سے استعمال کیا گیا۔ لیکن اس حقیقت کو قبول کرنے کی بجائے وہ اپنے پچھلے موقف کے ساتھ ہی کھڑے رہے۔ لیکن تمام تر اختلافات کے باوجود ارشد شریف کے ساتھی ان کی موت کو پاکستانی صحافت کا بڑا نقصان سمجھتے ہیں اور انکے قتل کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
