امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ کب ہو گا؟

امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں اور امریکی میڈیا کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے میں مزید چند دن لگ سکتے ہیں۔ تازہ رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں پیشرفت جاری ہے، تاہم بعض حساس نکات پر ابھی مزید بات چیت ہونا باقی ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ معاہدے کا انحصار اس بات پر ہے کہ تہران مطلوبہ دستاویزات کتنی جلدی تیار کرتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ مفاہمتی یادداشت میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے سے متعلق نکات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایران کو جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک نیا فریم ورک فراہم کرنے پر بھی بات جاری ہے، تاکہ مستقبل میں کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق حتمی معاہدے سے قبل دستاویز میں شامل الفاظ، شرائط اور قانونی نکات پر مزید تبادلہ خیال جاری رہے گا۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں فریقین کئی معاملات پر قریب آ چکے ہیں، لیکن بعض حساس شقوں پر مکمل اتفاق رائے ابھی باقی ہے۔
دوسری جانب سی این بی سی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مذاکرات میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ ایرانی سپریم لیڈر تک پیغام رسانی میں مشکلات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق علی خامنہ ای اس وقت ایک خفیہ مقام پر موجود ہیں، جہاں تک براہِ راست رسائی محدود ہے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق سپریم لیڈر کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای تک بھی پیغامات پہنچانے میں وقت لگ رہا ہے، جس کے باعث بعض اہم فیصلوں میں تاخیر ہو رہی ہے۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران کے اندرونی فیصلہ سازی کے پیچیدہ نظام کی وجہ سے مذاکرات کا عمل سست روی کا شکار ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بحالی عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور خطے کے امن کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ مذاکرات نہ صرف ایران کے جوہری پروگرام بلکہ خطے میں طاقت کے توازن، اسرائیل کے تحفظات اور عالمی معاشی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے دنیا بھر کی نظریں اس ممکنہ معاہدے پر جمی ہوئی ہیں۔
